بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے حسن (بصری) سے، اُنہوں نے کہا حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سمرہؓ حکومت نہ مانگو کیونکہ اگر مانگنے پر تمہیں وہ دی گئی تو تمہیں اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر بغیر مانگنے کے تمہیں وہ دی گئی تو اس کے نباہنے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا بیٹھو پھر تم اس کے سوا کسی اور بات کو اس سے بہتر سمجھو تو پھر تم وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دو۔
(تشریح)محمد بن خالد ذُہلی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ثمامہ سے، ثمامہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: قیس بن سعدؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح رہا کرتے تھے جیسے کوتوال امیر کے سامنے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ قطان نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قرہ بن خالد سے روایت کی کہ مجھے حمید بن ہلال نے بتایا۔ ابوبردہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو بھیجا اور اُن کے پیچھے حضرت معاذ (بن جبلؓ) کو روانہ کیا۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم حکومت کی حرص کرو گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے لئے ندامت کا موجب ہوگی۔ دودھ پلانے والی تو وہ اچھی ہے اور دودھ چھڑانے والی بُری ہے۔ اور محمد بن بشار نے کہا: ہم سے عبداللہ بن حُمران نے بیان کیا کہ عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے عمر بن حکم سے، عمر نے حضرت ابوہریرہؓ سے اُن کا یہی قول نقل کیا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ اُبواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بُرَید سے، بُرَید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں اور میری قوم میں سے دو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اُن دو آدمیوں میں سے ایک نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں بھی امیر بنائیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا تو آپؐ نے فرمایا: ہم اِس امارت پر اس کو مقرر نہیں کیا کرتے جو اِس کی درخواست کرے اور نہ اُس کو جو اِس کی حرص کرے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاشہب نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے حسن (بصری) سے روایت کی کہ عبیداللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسارؓ کی اس بیماری میں عیادت کی جس میں وہ فوت ہوگئے تو حضرت معقلؓ نے ان سے کہا: میں تم سے ایک بات کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس بندے کو بھی اللہ کسی رعیت کا والی بنائے اور وہ اس کی پورے طور پر خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو قطعًا نہ پائے گا۔
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ حسین جعفی نے ہمیں بتایا زائدہ نے کہا اس حدیث کو ہشام نے اُن سےبیان کیا۔ ہشام نے حسن سے روایت کی ۔ حسن نے کہا: ہم حضرت معقل بن یسارؓ کے پاس ان کی عیادت کے لئے آئے اتنے میں عبیداللہ (بن زیاد) بھی اندر آئے تو حضرت معقلؓ نے اُن سے کہا: میں تم سے ایک ایسی بات بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی آپؐ نے فرمایا: جو حاکم بھی مسلمانوں میں سے کسی رعیت کا والی بنتا ہے اور وہ ایسی حالت میں فوت ہوجائے کہ وہ اُن کا بدخواہ ہو تو اللہ اُس پر جنت کو حرام کر دے گا۔
(تشریح)اسحاق واسطی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے جُرَیری سے، جریری نے طریف ابوتمیمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں صفوان اور حضرت جندبؓ اور ان کے ساتھیوں میں موجود تھا جبکہ حضرت جندبؓ اُن کو نصیحت کررہے تھے تو اُنہوں نے پوچھا، کیا آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ اُنہوں نے کہا: میں نے آپؐ کو یہ فرماتے سنا جس نے شہرت پیدا کرنے کے لئے کوئی نیک کام کیا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کو سنائے گا اور جس نے سختی کی اللہ قیامت کے دن اس پر بھی سختی کرے گا۔ یہ سن کر لوگوں نے کہا: آپؓ ہمیں نصیحت کریں تو انہوں نے کہا: پہلی چیز جو انسان کی سڑتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے اس لئے جو یہ کر سکے کہ سوائے پاکیزہ کے کچھ اور چیز نہ کھائے تو چاہیئے کہ وہ نہ کھائے اور جس سے یہ ہوسکے کہ چلو بھر لہو کی وجہ سے کہ جس کو اس نے بہایا ہے اپنے آپ کو جنت میں داخل ہونے سے نہ روکے تو چاہیئے کہ وہ نہ روکے۔ (فربری کہتے ہیں:) میں نے ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) سے پوچھا: یہ کس نے کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، کیا حضرت جندبؓ نے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں حضرت جندبؓ نے۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے منصور سے،منصور نے سالم بن ابی الجعد سے روایت کی کہ ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ اسی اثنا میں ہمیں مسجد کے دروازے پر ایک شخص ملا اور وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ ! وہ گھڑی کب ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس کے لئے کیا سامان تیار کر رکھا ہے؟ یہ سنتے ہی جیسے وہ شخص دب گیا۔ پھر کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے اس گھڑی کیلئے نہ بہت روزے اور نہ بہت نماز اور نہ صدقہ تیار کیا ہے مگر اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں آپؐ نے فرمایا: تم انہی کے ساتھ ہو گے جن سے تم نے محبت رکھی.
(تشریح)اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ ثابت بُنانی نے ہمیں بتایا۔ ثابت نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی عورت سے کہہ رہے تھے: کیا تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟ اُس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کو اپنا سپر بناؤ اور صبر کرو۔ وہ بولی: مجھ سے چلے جاؤ کیونکہ تمہیں وہ دکھ نہیں جو مجھے ہے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر آگے چلے گئے۔ پھر ایک اور شخص اس کے پاس سے گزرا اُس نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ وہ بولی میں نے اُن کو نہیں پہچانا ۔ اس آدمی نے کہا: وہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت انس ؓ کہتے تھے: یہ سن کر وہ عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی اور وہاں کوئی دربان نہ پایا۔ کہنے لگی: یا رسول اللہ ! بخدا میں نے آپؐ کو پہچانا نہیں تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا: صبر تو وہی ہے جو شروع صدمہ میں ہو۔
(تشریح)