بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عبداللہ بن صباح نے مجھ سے بیان کیا کہ محبوب بن حسن نے ہمیں بتایا۔ خالد (حذاء)نے ہم سے بیان کیا۔ خالد نے حمید بن ہلال سے، حمید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی کہ ایک شخص مسلمان ہوا تھا اور پھر وہ یہودی ہوگیا۔ جب حضرت معاذ بن جبلؓ آئے تو اس وقت وہ شخص حضرت ابوموسیٰؓ کے پاس تھا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پوچھا: اس کو کیا ہوا ؟ اُنہوں نے کہا: یہ مسلمان ہوا تھا۔ پھر یہودی ہوگیا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے کہا: میں بیٹھوں گا نہیں جبتک اس کو مار نہ ڈالوں جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے کہا: اُنہوں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے نقل کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے آپس میں دو لعان کرنے والوں کو دیکھا اور میں اس وقت پندرہ برس کا تھا اُن کو ایک دوسرے سے جدا کردیا گیا تھا۔
یحيٰ (بن جعفر بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ ابن شہاب نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب نے حضرت سہلؓ سے جو بنو ساعدہ کے ایک شخص تھے روایت کی کہ ایک انصاری شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ایسے شخص کے متعلق بتائیں کہ جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو پایا ہو۔ کیا اُس کو مار ڈالے ؟ پھر اُن دونوں (میاں بیوی)نے آپس میں مسجد میں لعان کیا اور میں بھی موجود تھا۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں خبر دی۔ اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے، قیس نے حضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! میں تو اللہ کی قسم صبح کی نماز میں فلاں شخص کے سبب دیر سے آیا ہوں اس لئے کہ وہ اس نماز میں لمبی سورتیں پڑھ کر دیر تک ہمیں روکے رکھتا ہے۔ حضرت ابومسعودؓ کہتے تھے۔ میں نے کبھی کسی وعظ میں نبی ﷺ کو اس سے بڑھ کر غصہ میں نہیں دیکھا جو اس دن تھے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: لوگو ! تم میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نفرت دلانے والے ہیں۔ سو جو کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیئے کہ وہ نماز کو مختصر کرے۔ کیونکہ ان میں کوئی بوڑھا بھی ہوتا ہے اور کوئی کمزور بھی اور کوئی ضرورت والا بھی۔
محمد بن ابی یعقوب کرمانی نے ہم سے بیان کیا کہ حسان بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سےبیان کیا کہ محمد نے کہا: سالم نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حائضہ تھی تو حضرت عمر ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طلاق کی وجہ سے ناراض ہوئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: وہ اسے لوٹا لے اور اسے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے۔ پھر وہ حائضہ ہو اور پاک ہو ۔ تو پھر اگر اس کو اسے طلاق دینا ہی مناسب معلوم ہو تو اسے طلاق دے دے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سےروایت کی۔ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہند بنت عتبہ بن ربیعہؓ آئیں اور کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! زمین پر کوئی گھرانہ بھی ایسا نہیں تھا جن کا ذلیل ہونا مجھے اتنا پسند ہو جتنا کہ آپؐ کے گھرانے کا اور آج سطح زمین پر کوئی گھرانہ بھی ایسا نہیں کہ جس کا معزز ہونا مجھے اتنا پسند ہو جتنا آپؐ کا گھرانہ۔ پھر کہنے لگیں: ابوسفیانؓ ایک بہت ہی بخیل آدمی ہے تو کیا مجھ پر کچھ گناہ ہوگا کہ میں اپنے بال بچوں کو وہ چیز کھلاؤں جو اس کی ہے۔ آپؐ نے اُسے فرمایا: تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اُن کو دستور کے موافق کھلاؤ۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔ حضرت سائب بن یزید بن اُخت نمرؓ نے مجھے خبر دی کہ حویطبؓ بن عبدالعزیٰ نے اُنہیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن سعدیؓ نے اُنہیں بتایا کہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس اُن کی خلافت کے زمانے میں آئے تو حضرت عمرؓ نے اُن سے فرمایا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم خدمات عامہ میں بعض خدمتیں سرانجام دیتے ہو اور جب تمہیں تمہاری خدمت کا معاوضہ دیا جاتاہے تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے۔ حضرت عمر ؓنے فرمایا: تم اس مفت کی خدمت سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے کچھ گھوڑے اور غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری یہ خدمت مسلمانوں کے لیے بطور ایک صدقہ کے رہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی وہی بات چاہی تھی جو تم نے چاہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیا کرتے تھے اور میں کہتا آپ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو آخر آپ نے ایک دفعہ مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہا: آپ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اور اس سے اور مال پیدا کرو اور اس کو صدقہ میں دو کیونکہ اس مال سے جو کچھ بھی تمہارے پاس ایسی حالت میں آئے کہ تم اس کی تاک میں نہ ہو اور نہ اس کو مانگنے والے ہو تم اس کو لے لو ورنہ پھر اپنے آپ کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔
اور زہری سے مروی ہے انہوں نے کہا، سالم بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ کو کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیا کرتے تھے اور میں کہا کرتا تھاکہ آپؐ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ آخر ایک دفعہ آپؐ نے مجھے کچھ مال دیا۔ میں نے کہا: آپؐ یہ ایسے کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لو اور اس سے اور مال پیدا کرو اور اس کو صدقہ میں دو کیونکہ اس مال سے جو بھی تمہارے پاس ایسی حالت میں آئے کہ تم اس کو جھانک نہیں رہے اور نہ اس کو مانگ رہے ہو تو تم اس کو لے لو ورنہ پھر اپنے نفس کو اس کے پیچھے مت لگاؤ۔
(تشریح)