بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا ۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب سے، اُن دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ اس وقت مسجد میں تھے اور بلند آواز سے کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ جب اس نے چار بار اپنے متعلق اقرار کیا تو آپؐ نے پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو لے جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سےروایت کی کہ منصور نے مجھے بتایا، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپؐ نے فرمایا: گرفتار کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔
ابن شہاب نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا کہ وہ کہتے تھے: میں بھی اُن لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو عیدگاہ میں سنگسار کیا۔ یونس اور معمر اور ابن جریج نے بھی رجم کے متعلق اس حدیث کو زہری سے روایت کیا۔ زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابرؓ سے، حضرت جابرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ سے۔ اُنہوں نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو صرف ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس جھگڑتے ہوئے آتے ہو اور شاید تم میں سے کوئی کسی سے اپنی دلیل کے بیان کرنے میں زیادہ بلیغ ہو اور میں اسی طرح فیصلہ کردوں جو میں سنوں تو جس شخص کے لئے میں نے اس کے بھائی کے حق سے کچھ دلوانے کا فیصلہ کیا تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ میں اس کو صرف آگ کا ٹکڑا ہی کاٹ کردے رہا ہوتا ہوں۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث بن سعدنے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ بن عمر بن کثیر سے،اُنہوں نے ابومحمد سے جو حضرت ابوقتادہ ؓکے غلام تھے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: جس کے پاس کسی مقتول کے متعلق ثبوت ہو کہ اس نے اسے قتل کیا ہے تو اُس کا سامانِ غنیمت اسی کو ملے گا۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوگیا تاکہ اپنے مقتول پر کوئی ثبوت ڈھونڈوں مگر میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ جو میرے لئے گواہی دیتا ہو۔ میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اِس کا ذکر کیا تو آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک شخص نے کہا: اُس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر کرتا ہے میرے پاس ہیں۔ اُس نے کہا: آپ اس کو ان ہتھیاروں کی بجائے (کچھ دے کر)راضی کردیں تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ایسا ہرگز نہیں ہو گا کہ آپ قریش کے ایک چھوٹے بچے کو دے دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑتا ہو ۔ حضرت ابوقتادہؓ کہتے تھے: آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس نے وہ سامان مجھے دے دیا اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور وہ پہلی جائیداد تھی جو میں نے پیدا کی۔ عبداللہ (بن صالح) نے لیث سے روایت کرتے ہوئے (مجھ سے) یوں بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور وہ سامان مجھ کو دلایا۔ اور اہل حجاز نے کہا: حاکم اپنے علم کی بنا پر فیصلہ نہ کرے خواہ اس معاملے کو وہ عہدۂ قضاء کے زمانے میں یا اس سے پہلے عینی شہادت کی بناء پر جانتا ہو اور اگر مدعاعلیہ مجلسِ قضاء میں اس کے پاس دوسرے شخص کے لئے کسی حق کا اقرار کرے تو وہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کے برخلاف فیصلہ نہ کرے جبتک کہ دو گواہوں کو نہ بلائے اور ان کو اس کے اقرار پر گواہ کرے۔ اور اہل عراق میں سے بعض نے کہا: مجلس قضاء میں جو بات سنے یا دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کرے اور مجلس قضاء کے علاوہ کسی اور جگہ جو بات بھی ہو تو وہ دو گواہوں کو اس کے اقرار پر گواہ بنائے بغیر اس کے متعلق فیصلہ نہ کرے۔ انہی لوگوں میں سے کچھ اوروں نے کہا: نہیں بلکہ اس کے مطابق فیصلہ کرے کیونکہ اسے امین سمجھا گیا ہے اور شہادت سے بھی تو یہی مراد ہے کہ حق معلوم ہوجائے تو اس کا علم شہادت سے بڑھ کر ہے اور ان میں سے بعض نے یہ کہا کہ اپنے علم کی بناء پر دیوانی مقدمات میں تو فیصلہ کرے اور اُن کے سوا دوسرے مقدمات میں فیصلہ نہ کرے اور قاسم نے کہا: حاکم کو نہیں چاہیئے کہ اپنے علم کی بنا پر کسی دوسرے شخص کے علم کے بغیر کسی فیصلہ کو نافذ کرے باوجود اس کے کہ اس کا علم دوسرے کی شہادت سے بڑھ کر ہے مگر اس کی وجہ سے مسلمانوں کے نزدیک اپنے آپ کو تہمت کا نشانہ بنانا اور اُن کو بدظنی میں ڈالنا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند فرمایا ہے اور آپؐ نے فرمایا کہ یہ صفیہؓ ہی ہے۔
عبدالعزیز بن عبد اللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت صفیہ بنت حیيؓ آئیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو آپؐ بھی ان کے ساتھ چل پڑے۔ اتنے میں دو انصاری شخص آپؐ کے پاس سے گزرے تو آپؐ نے ان کو بلایا اور فرمایا: یہ صفیہؓ ہیں۔ اُن دونوں نے کہا: سبحان اللہ۔ آپؐ نے فرمایا کہ شیطان ابن آدم میں خون کی طرح چکر لگاتا ہے ۔ شعیب اور ابن مسافر اور ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحيٰ نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیا۔ زہری نے علی بن حسین سے، اُنہوں نے حضرت صفیہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عقدی نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا، میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: تم دونوں آسانی کرنا اور سختی نہ کرنا اور خوش رکھنا اور نفرت نہ دلانا اور باہمی اتفاق سے کام کرنا۔حضرت ابوموسیٰؓ نے آپؐ سے کہا: ہمارے ملک میں شہد کا شراب بنایا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور اس حدیث کو نضر اور ابوداؤد اور یزید بن ہارون اور وکیع نے بھی شعبہ سے نقل کیا۔ شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے، سعید نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے اپنے دادا سے، اُن کے دادا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی۔ اُنہوں نے عروہ سے سنا کہ حضرت ابوحمید ساعدیؓ نے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو کہ جسے ابن اُ تبیہ کہتے تھے صدقہ کا تحصیلدار مقرر کیا ۔ جب وہ آیا کہنے لگا: یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوگئے۔ سفیان نے بھی یوں کہا کہ آپؐ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا:کارکنوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انکو بھیجتے ہیں اور وہ آکر کہتے ہیں یہ تو تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہے پھر دیکھتے آیا اُن کو تحفے دئیے جاتے ہیں یا نہیں۔ اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو کچھ بھی وہ لائے گا تو قیامت کے دن اس کو اپنی گردن پر اُٹھائے ہوئے لائے گا۔ اگر اونٹ ہوا تو وہ بڑبڑا رہا ہوگا یا گائے ہوگی تو وہ بیں بیں کررہی ہوگی یا بکری ہوئی تو وہ میں میں کررہی ہوگی۔ اس کے بعد آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے اُٹھائے کہ ہم نے آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ تین بار فرمایا: سنو ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ سفیان (بن عیینہ) کہتے تھے۔ زہری نے ہمیں یہ واقعہ سنایا۔ اور ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوحمیدؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ بیان کیا کہ حضرت ابوحمیدؓ نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے آپؐ کو دیکھا اور زید بن ثابتؓ سے پوچھ لو کہ اُنہوں نے بھی میرے ساتھ یہ بات سنی اور زہری نے یہ نہیں کہا کہ میرے کان نے سنا۔ خوار کے معنی آواز اور جُؤَارُ یَجْئَرُونَ سے ہے، اس کے معنی گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنا ہے۔
(تشریح)عثمان بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن وہب نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے مجھے خبر دی کہ نافع نے اُنہیں بتایاکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اُنہیں خبر دی۔ اُنہوں نے کہا: سالمؓ حضرت ابوحذیفہؓ کے غلام تھے ابتدائی مہاجرین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے مسجد قباء میں امام ہوا کرتے تھے ان میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت ابوسلمہؓ اور حضرت زیدؓ اور حضرت عامر بن ربیعہؓ بھی ہوتے۔
(تشریح)اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے روایت کی۔ ابنِ شہاب نے کہا عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہؓ دونوں نے اُنہیں بتایا کہ جب مسلمانوں نے ہوازن کے قیدیوں کے آزاد کرنے کے متعلق اجازت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی کس نے اجازت نہیں دی اس لئے تم واپس چلے جاؤ تا کہ تمہارے نمائندے ہمارے سامنے تمہارا مشورہ پیش کریں۔ لوگ واپس چلے گئے اور اُن کے نمائندوں نے اُن سے بات چیت کی اور وہ رسول اللہ کے پاس لوٹ کر آئے اور اُنہوں نے آپؐ کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے منظور کیا اور اُنہوں نے اجازت دی ہے۔
(تشریح)