بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ ازہر بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے، عبداللہ نے ثمامہ بن انس سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے پاس آئے جو درزی تھا آپؐ کے سامنے کدو لایا گیا ۔ آپؐ اس کو کھانے لگے۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو کھاتے دیکھا میں بھی اس کو ہمیشہ ہی پسند کرتا رہا ہوں۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ کے سامنے شوربہ لایا گیا جس میں کدو اور سوکھا ہوا گوشت تھا۔ میں نے آپؐ کو دیکھا کہ کدو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اُوَیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، سعد نے حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ تازہ کھجوریں اور ککڑی اکٹھی کھا رہے ہیں۔
محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم )احول( سے، عاصم نے ابوعثمان )نہدی( سے، ابوعثمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں۔ مجھے ان میں سے پانچ ملیں۔ چار اچھی کھجوریں اور ایک اندر سے خراب۔ پھر میں نے اس ردی کھجور کو دیکھا وہ میری داڑھوں کے لئے چبانے میں ان سب سے سخت تھی۔
محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: انصار میں سے ایک شخص تھا جسے ابوشعیبؓ کہتے تھے، ان کا غلام گوشت بیچا کرتا تھا۔ ابوشعیبؓ نے اس غلام سے کہا: میرے لئے کھانا تیار کرو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لئے بلاؤں گا۔ پانچ آدمی ہوں گے۔ پانچویں آپؐ ہیں، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کو بلایا۔ ان کے ساتھ ایک اور آدمی چل پڑا۔ (یہ دیکھ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے میرے سمیت ہم پانچ آدمیوں کو مدعو کیا تھا اور یہ شخص جو ہمارے ساتھ چلاآیا ہے اگر تم چاہو تو اسے بھی اجازت دے دو اگر چاہو تو نہ دو ۔ ابوشعیبؓ نے کہا: نہیں بلکہ میں نے اسے بھی اجازت دی۔ محمد بن یوسف نے کہا: میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب لوگ کسی دستر خوان پر ہوں تو ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک دسترخوان سے دوسرے دسترخوان پر کھانا لے کر جائیں۔ لیکن اس دسترخوان پر وہ ایک دوسرے سے لے سکتے ہیں یا چھوڑ سکتے ہیں۔
عبداللہ بن منیر نے مجھ سے بیا ن کیا۔ انہوں نے نضر (بن شمیل) سےسنا۔ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں لڑکا ہی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس گئے جو درزی تھا۔ وہ آپؐ کے لئے ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اس پر کدو کے کتلے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھانے لگے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: جب میں نے یہ دیکھا تو میں بھی اِدھر اُدھر سے لے کر آپؐ کے سامنے رکھنے لگا۔ کہتے تھے: وہ غلام اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگیا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپؐ نے کیا، کرتے دیکھا تو اس کے بعد میں ہمیشہ ہی کدو پسند کرتا رہا ہوں۔
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھانے کی دعوت دی جس کو اس نے تیار کیا تھا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا اس نے جَو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور سوکھا گوشت تھا پیش کیا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ پیالے کے کنارے سے کدو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لے رہے ہیں۔ میں اس رو ز سے کدو پسند کرنے لگا۔ اور ثمامہ نے حضرت انسؓ سے یوں نقل کیا: میں بھی کدو اِدھر اُدھر سے لے کر آپؐ کے سامنے رکھتا جاتا۔