بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 95 hadith
اور محمد بن یوسف (فریابی) نے سفیان (ثوری) سے نقل کیا۔ سفیان نے منصور بن صفیہ سے روایت کی کہ میری ماں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فوت ہوئے کہ ہم دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی سے سیر ہو جایا کرتے تھے۔
جُمعہ بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ مروان (بن معاویہ فزاری) نے ہمیں بتایا کہ ہاشم بن ہاشم نے ہمیں خبر دی کہ عامر بن سعد نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر روز صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھائیں اس کو اس دن نہ کوئی زہر نقصان دے گا اور نہ کوئی جادو.
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ککڑی کے ساتھ کھجوریں کھا رہے ہیں۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن طلحہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبید (بن حارث) سے، زبید نے مجاہد سے، مجاہد نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا۔ حضرت ابن عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
(تشریح)(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ککڑی کے ساتھ کھجوریں کھا رہے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد العزیز (بن صہیب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا۔ حضرت انسؓ سے کہا گیا: آپؓ نے لہسن کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے کیا سنا؟ آپؐ نے فرمایا: جو اس کو کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان (محمد بن مطرف) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے مجھے بتایا۔ ابوحازم نے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے، ابراہیم نے حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ میری کھجوریں کٹنے تک قرض دیا کرتا تھا اور حضرت جابرؓ کی وہ زمین تھی جو بئر رومہ کے راستے پر تھی۔ ایک سال اس زمین نے پھل نہ دیا اور سال خالی گزرا۔ وہ یہودی میوہ کٹنے کے وقت میرے پاس آیا اور میں نے کھجوروں سے کچھ بھی نہ کاٹا تھا میں اس سے آئندہ سال تک مہلت مانگنے لگا لیکن وہ نہ مانتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا۔ آپؐ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: چلو یہودی سے جابرؓ کے لئے مہلت مانگیں ۔ وہ میرے پاس میرے کھجور کے باغ میں آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہودی سے گفتگو کرنے لگے۔ وہ کہنے لگا: ابوالقاسم! میں اس کو مہلت نہیں دوں گا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا آپؐ کھڑے ہوگئے اور اس باغ میں چکر لگایا۔ پھر اس کے پاس آئے اور اس سے گفتگو کی مگر وہ نہ مانا۔ میں اٹھا اور جاکر کچھ تھوڑی سی تازہ کھجوریں لایا اور میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے کھائیں پھر اس کے بعد پوچھا: جابرؓ تمہارا منڈوا کہاں ہے؟ میں نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے لئے اس میں بچھونا لگادو۔ میں نے آپؐ کے لئے بچھونا بچھایا۔ آپؐ اس میں گئے اور سو گئے۔ پھر آپؐ جاگے اور میں آپؐ کے پاس مٹھی بھر اور کھجوریں لایا۔ آپؐ نے ان میں سے کچھ کھائیں پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی لیکن اس نے آپؐ کی نہ مانی۔ آخر آپؐ دوسری بار ان کھجوروں میں جن کے پھل سبز تھے کھڑے ہوئے پھر فرمایا: جابرؓ کھجوریں کاٹو اور اس کا قرض چکادو۔ آپؐ کھجوریں کاٹنے کے اثنا میں ٹھہرے رہے میں نے ان سے اتنی کھجوریں کاٹیں جس سے اس کا قرضہ ادا کردیا اور ان سے کچھ بچ رہیں۔ میں باغ سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو خوشخبری دی۔ آپؐ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ عُرْشٌاور عَرِيْشٌکےمعنی ہیں چھت۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: مَعْرُوْشَاتٍ سے مراد ہے انگور وغیرہ کی جو بیلیں سہارے پر کھڑی کی گئی ہیں۔ یہ جو کہا گیا ہے: عُرُوْشُهَا اس کے معنی ہیں اس کی چھتیں۔ محمد بن یوسف نے کہا۔ ابوجعفر کہتے تھے۔ محمد بن اسماعیل نے کہا: خَلَا کا لفظ میرے پاس محفوظ نہیں ہے۔ پھر کہا کہ یہ لفظ جَلَى ہے جس میں کوئی شک نہیں۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔وہ کہتے ہیں: مجھے مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: ایک بار ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپؐ کے پاس کھجور کا گابھا لایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی برکت ایسی ہے جیسے مسلمان آدمی کی برکت۔ میں سمجھا کہ آپؐ کی مراد کھجور کا درخت ہے اور میں نے کہنا چاہا یا رسول اللہ ! کھجور کا درخت ہے۔ پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دس آدمی جو وہاں تھے میں دسواں ہوں اور میں ان سب سے کم عمر ہوں۔ (یہ دیکھ کر) میں خاموش رہا۔ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہی ہے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ جبلہ بن سحیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حضرت ابن زبیرؓ کے ساتھ تھے، ایک سال ہم میں قحط پڑا۔ وہ سب کو کھجوریں دیتے تھے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم اس وقت کھا رہے ہوتے، وہ کہتے دو دو کھجوریں ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبیﷺ نے دو دو کھجوریں ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر وہ کہتے: سوائے اس کے کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ شعبہ نے کہا: یہ جو اجازت لینا ہے یہ حضرت ابن عمرؓ کا قول ہے۔
صلت بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان جعد (بن دینار) سے، جعد نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ اور (حماد بن زید نے) ہشام (بن حسان ازدی) سے، ہشام نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ نیز (حماد نے) سنان ابوربیعہ سے، ابوربیعہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ ان کی ماں حضرت امّ سلیمؓ نے ایک مد جَو کو موٹا موٹا پیس کر اس سے آش بنایا اور ایک گھی کی کپی جو ان کے پاس تھی، نچوڑی۔ پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے بھیجا۔ میں آپؐ کے پاس آیا۔ اس وقت آپؐ اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے تھے۔ میں نے آپؐ کو دعوت دی۔ آپؐ نے پوچھا اور میرے ساتھ جو لوگ ہیں (ان کی بھی دعوت ہے یا نہیں۔) میں آیا اور میں نے کہا کہ آپؐ فرماتے ہیں جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی؟ حضرت ابوطلحہؓ آپؐ کے پاس گئے اور کہا یارسول اللہ! بس یہی کچھ ہے جو امّ سلیمؓ نے تیار کیا ہے۔ آپؐ اندر آئے اور وہ کھانا آپؐ کے سامنے لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: دس دس کو میرے پاس اندر لے آؤ۔ ان کو اندر لایا گیا اور انہوں نے اتنا کھایا کہ سیر ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس دس آدمیوں کولے آؤ۔وہ اندر آئے انہوں نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ پھر فرمایا: دس اور میرے پاس لے آؤ، اسی طرح آپ نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا پھر کھڑے ہو گئے اور میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم بھی ہوا۔