بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جہنم برابر یہی کہتی رہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ ربّ العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا اور وہ کہے گی: بس بس۔ اور تیری ہی عزت کی قسم ہے اور وہ سمٹ جائے گی۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی قتادہ سے روایت کیا۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی، کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے ، حضرت عائشہ نے کہا کہ آیت لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ اس قسم کی قسمیں کھانے کے متعلق نازل کی گئی : لا والله اور بلی واللہ یعنی اللہ کی قسم نہیں، اللہ کی قسم کیوں نہیں۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ زرارہ بن اوفیٰ نے ہمیں بتایا۔ زرارہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ حضرت ابوہریرہؓ اس حدیث کو آنحضرتؐ تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے میری اُمت کے وہ خیالات معاف کردئیے ہیں جو دلوں میں اُٹھتے یا پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ نکالے۔
اُویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا۔ یونس (بن یزید ایلی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ کے اُس واقعہ کے متعلق سنا جبکہ بہتان باندھنے والوں نے ان کے متعلق وہ باتیں کیں جو انہوں نے کیں اور پھر اللہ نے ان کو بَری کردیا اور ان میں سے ہر ایک نے اس واقعہ کا ایک ایک ٹکڑا مجھ سے بیان کیا۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن اُبَيّ کی شکایت کی۔ (یہ سن کر) حضرت اُسید بن حضیرؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت سعد بن عبادہؓ سے کہا: اللہ کی بقا کی قسم، ہم اس کو ضرور مار ڈالیں گے۔
(تشریح)عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا یا محمد (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ محمد نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن شہاب سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عیسیٰ بن طلحہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن (دسویں ذی الحج) لوگوں سے مخاطب تھے کہ اتنے میں ایک شخص اُٹھ کر آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں خیال کرتا تھا کہ فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے کرنا چاہیئے۔ پھر ایک دوسرا شخص اُٹھا اور ان میں سے تین کاموں کا نام لے کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں یوں یوں خیال کرتا تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اُن سب کاموں کے متعلق فرمایا: اب کر لو کچھ حرج نہیں اور اس دن آپؐ سے کسی بات کے متعلق بھی نہیں پوچھا گیا مگر آپؐ نے یہی فرمایا کہ اب کر لو کچھ حرج نہیں۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن رُفیع سے، عبدالعزیز نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کنکریاں پھینکنے سے پہلے میں نے طواف زیارت کر لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔ دوسرا شخص بولا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔ ایک اور شخص بولا : کنکریاں پھینکنے سے پہلے میں نے ذبح کرلیا۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن عمر نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے سعید بن ابی سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ ایک شخص مسجد میں آکر نماز پڑھنے لگا اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ نماز پڑھ کر آیا اور اس نے آپؐ کو السلام علیکم کہا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے نماز پڑھی۔ پھر آکر آپؐ کو السلام علیکم کہا۔ آپؐ نے فرمایا: وعلیک۔ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ تیسری بار اس شخص نے کہا: مجھے آپؐ بتائیں (کہ کیسے نماز پڑھوں)؟ آپؐ نے فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو پوری طرح وضو کرو پھر قبلہ کی طرف منہ کرو اور اللہ اکبر کہو اور جتنا تم آسانی سے قرآن پڑھ سکو پڑھو اس کے بعد رکوع کرو۔ رکوع میں اتنی دیر ٹھہرو کہ تمہیں اطمینان ہوجائے، پھر اپنا سر اُٹھاؤ یہاں تک کہ تم بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو اور سجدہ میں اتنی دیر ٹھہرے رہو کہ تمہیں اطمینان حاصل ہو۔ پھر سراُٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے ہوجاؤ اور بیٹھنے میں مطمئن ہو جاؤ۔ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں تمہیں اطمینان حاصل ہو۔ پھر سراُٹھاؤ اور سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔ پھر اپنی ساری نماز میں ایسا ہی کرو۔
فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: اُحد کے دن مشرکوں کو ایسی شکست ہوئی جس کے آثار ان میں نمایاں تھے، تو اس وقت ابلیس نے زور سے آواز دی: اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔ یہ سنتے ہی جو اُن کے آگے تھے وہ لوٹے اور یہ اور پچھلے دونوں آپس میں ایک دوسرے پر تلواریں چلا نے لگے۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے غور سے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا باپ لوگوں کے نرغے میں ہے۔ انہوں نے پکارا میرا باپ ہے میرا باپ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: اللہ کی قسم وہ باز نہ آئے۔ یہاں تک کہ اس کو مار ہی ڈالا۔ حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہاری پردہ پوشی کرتے ہوئے تم سے درگزر کرے۔ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت حذیفہؓ کے دل میں (زندگی بھر) اس واقعہ کا رنج ہی رہا حتٰی کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے اعرج سے، اعرج نے حضرت عبداللہ بن بحینہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتوں میں بیٹھنے سے پہلے کھڑے ہوگئے اور نماز پڑھتے رہے۔ جب آپؐ نماز ختم کرچکے لوگ انتظار کر رہے تھے کہ آپؐ سلام پھیریں گے مگر سلام پھیرنے سے پہلے آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور سلام پھیرا۔