بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آپؐ اسے پہنا کرتے تھے اور اس کے نگینہ کو ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں اس کے بعد آپؐ منبر پر بیٹھے اور اُس انگوٹھی کو اُتار ڈالا اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنا کرتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کو رکھتا۔ یہ کہہ کر آپؐ نے اسے پھینک دیا پھر فرمایا: اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس کسی کے تین بچے فوت ہوں آگ اسے نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم پورا کرنے کے لئے۔
سلیمان نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ حضرت اشعث بن قیسؓ گزرے اور پوچھا: حضرت عبداللہؓ تم سے کیا بیان کر رہے تھے؟ تو انہوں نے ان کو بتایا تو حضرت اشعثؓ کہنے لگے: یہ آیت میرے متعلق اور میرے ایک ساتھی کے متعلق نازل ہوئی بسبب ایک کنویں کے جو ہمارے درمیان مشترک تھا۔
(تشریح)مُعلّی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وُہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی قسم کھائی تو وہ ویسا ہے جیسا اُس نے کہا اور جس نے اپنے تئیں کسی چیز سے مار ڈالا تو اُسے اس چیز سے جہنم کی آگ میں سزا دی جائے گی اور مؤمن پر لعنت کرناایسا ہی ہے جیسے اسے مار ڈالنا اور جس نے مؤمن پر کفر کا الزام لگایا وہ بھی ایسا ہی ہے جیسا اُسے مار ڈالنا۔
اور عمرو بن عاصم نے کہا: ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن بن ابی عَمرہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: بنی اسرائیل میں تین شخص تھے کہ جن کو اللہ نے آزمانا چاہا تو ایک فرشتے کو بھیجا اور وہ کوڑھی کے پاس آیا۔ وہ کہنے لگا: میرے تو سارے وسیلے کٹ گئے ہیں، اب صرف اللہ ہی کا آسرا ہے اور آپ کا۔ پھر انہوں نے ساری حدیث بیان کی۔
(تشریح)قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اشعث (بن ابی شعثاء) سے، اشعث نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، معاویہ نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے، حضرت براءؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ نیز محمد بن بشار نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے اشعث سے، اشعث نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، معاویہ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ قسم کھانے والے قسم کو پورا کریں۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عاصم احول نے ہمیں خبر دی کہ میں نے ابوعثمان سے سنا۔ ابوعثمان نے حضرت اُسامہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپؐ کو کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا مرنے کے قریب ہے۔ اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت اُسامہ بن زیدؓ اور حضرت سعدؓ اور میرے والد(یعنی زیدؓ) یا حضرت اُبَيّ(بن کعبؓ) تھے۔ ہم موجود ہی تھے کہ آپؐ نے کہلا بھیجا: کہو کہ آپؐ سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں: اللہ ہی کے لئے ہے جو اُس نے لیا اور جو اُس نے دیا اور اس کے پاس ہر چیز کی مدت مقرر ہے۔ وہ صبر کرے اور اس میں اللہ کی رضا مندی سمجھے۔ مگر انہوں نے آپؐ کو قسم دے کر بلا بھیجا۔ آپؐ اُٹھ کر گئے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ گئے۔ جب بیٹھے تو وہ بچہ اُٹھا کر آپؐ کو دیا گیا ۔ آپؐ نے اسے اپنی گود میں بیٹھایا اور بچہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جن کے دلوں میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن نحوی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کونسے لوگ بہتر ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میرے زمانہ کے لوگ، پھر وہ جو اُن کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو اُن کے معاً بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک قسم سے پہلے گواہی دے گا اور گواہی سے پہلے قسم کھائے گا۔ ابراہیم (نخعی) نے کہا: اور ہمارے لوگ جبکہ ہم بچے تھے، ہمیں منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ (محمد) ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان (بن اعمش) اور منصور (بن معتمر) سے، ان دونوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی کہ اس کے ذریعہ سے وہ کسی مسلمان شخص کا مال یا کہا اپنے بھائی کا مال مارنا چاہتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ نے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: یعنی وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے بدلے میں قیمت حاصل کرتے ہیں۔