بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا۔ منصور (بن معتمر) نے ہم سے بیان کیا۔ منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے،علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ظہر کی نماز پڑھائی اور آپؐ نے زیادہ یا کم پڑھی۔ منصور نے کہا: میں نہیں جانتا کہ ابراہیم نے یہ شک کیا یا علقمہ نے۔ (حضرت ابن مسعودؓ نے) کہا: آپؐ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز چھوٹی ہوگئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: آپؐ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ کہتے تھے: آپؐ نے ان کو دو اور سجدے کرائے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: یہ دو سجدے اُس شخص کے لئے ہیں جو نہیں جانتا کہ اس نے اپنی نماز کو زیادہ پڑھا ہے یا کم پڑھا ہے تو وہ سوچ سمجھ کر صحیح بات کو معلوم کرے۔ (پھر اگر کم پڑھی ہو) تو اُن کو پورا کرے جو باقی رہ گئی ہوں، پھر دو سجدے کرے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسوَد بن قیس سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جندبؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپؐ نے عید کے دن نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: جس نے ذبح کرلیا ہو تو چاہیئے کہ وہ اس قربانی کے بدلے اور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر اب ذبح کرے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن جبیر نے مجھے خبر دی، کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت اُبی بن کعبؓ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِيْ بِمَا نَسِيْتُ … (موسیٰؑ) نے کہا (کہ اس دفعہ) آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو) بھول گیا تھا اور آپ میری (اس) بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ (جو قرآن مجید میں آیاہے) فرمایا: موسیٰؑ سے پہلی بات بھول کر ہوئی۔
ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ معاذ بن معاذ نے ہم سے بیان کیا۔ ابن عون نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے شعبی سے روایت کی، کہا: حضرت براء بن عازبؓ نے کہا: اور اُس وقت اُن کے پاس ان کا ایک مہمان تھا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ان کے واپس آنے سے پہلے قربانی ذبح کرلیں تاکہ اُن کے مہمان کھانا کھالیں اور انہوں نے نماز سے پہلے ذبح کیا۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے ان کو حکم دیا کہ دوبارہ ذبح کریں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال کا پٹھا ہے۔ایسا پٹھا کہ جو ابھی دودھ پیتا ہے۔ وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ شعبی کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے ابن عون اس جگہ ٹھہر جایا کرتے تھے اور محمد بن سیرین سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کرتے تھے اور اس جگہ پر ٹھہر جاتے اور کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ یہ اجازت اُن کے سوا کسی اور کو بھی پہنچی یا نہیں۔ ایوب نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کو روایت کیا۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ نضر (بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ فراس (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے شعبی سے سنا۔ شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمرو (بن عاصؓ) سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جان کو مارڈالنا اور عمداً جھوٹی قسم کھانا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس لئے جھوٹی قسم کھائے کہ وہ کسی مسلمان آدمی کا مال مار رہا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر اللہ نے آپؐ کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ سے تھوڑا سا مول لیتے ہیں۔……
(حضرت عبداللہ بن مسعودؓ یہ حدیث بیان کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں) حضرت اشعث بن قیسؓ اندر آئے اور انہوں نے پوچھا: ابو عبدالرحمٰن نے تم سے کیا بیان کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ایسا ایسا بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آیت میرے متعلق نازل کی گئی تھی۔ میرے ایک چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا ثبوت ہونا چاہیئے ورنہ اس سے قسم لی جائے گی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! تب تو وہ اس کے متعلق قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مضبوط قسم کھائی جبکہ وہ اس قسم میں جھوٹا ہے، اس قسم کے ذریعہ سے مسلمان آدمی کا مال مار رہا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
(تشریح)محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپؐ سے سواریاں مانگوں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی پر سوار نہیں کروں گا اور اتفاق سے میں آپؐ کو ایسے وقت میں ملا کہ آپؐ ناراض تھے۔ پھر جب میں آپؐ کے پاس آیا آپؐ نے فرمایا: اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ اُنہیں کہو کہ اللہ یا (فرمایا کہ) اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سواریاں دیتا ہے۔
عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا۔ یونس بن یزید ایلی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ زہری نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ کا وہ واقعہ سنا جبکہ ان کے متعلق بہتان باندھنے والوں نے وہ باتیں کیں جو انہوں نے کیں اور جو انہوں نے کہا، اللہ نے ان کو اس افترا سے بری قرار دیا۔ ان میں سے ہر ایک نے اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا مجھ سے بیان کیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل کی: اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ۔ دس آیات تک، یہ ساری آیتیں میری بریت کے متعلق تھیں۔ تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا اور وہ مسطح کو بوجہ اپنے قریبی رشتہ دار ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم میں مسطح کو اب اس کے بعد کہ اس نے عائشہؓ کے متعلق افترا کیا ہے کبھی بھی کچھ خرچ نہیں دوں گا۔ تو اللہ نے یہ حکم نازل کیا: تم میں سے جو اہل فضیلت اور کشائش والے ہیں وہ قریبیوں کے ساتھ سلوک کرنے میں کمی نہ کریں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: کیوں نہیں اللہ کی قسم میں ضرور پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر کرے اور وہ مسطح کو وہ خرچ دوبارہ دینے لگے جو اُس کو دیا کرتے تھے اور کہا: اللہ کی قسم میں اب اس خرچ کو اس سے کبھی نہیں چھینوں گا۔
ابومعمر (عبداللہ بن عمرو مقعد) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے قاسم سے، قاسم نے زہدم (بن مضرب جرمی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں کچھ اشعری لوگوں سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں آپؐ سے ایسے وقت میں ملا کہ آپؐ ناراض تھے۔ ہم نے آپؐ سے سواریاں مانگیں تو آپؐ نے قسم کھائی کہ آپؐ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں جو بھی ایسی قسم کھا بیٹھوں گا کہ پھر اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھوں گا تو ان شاء اللہ ضرور ہی وہی کروں گا جو بہتر ہو اور اس قسم کا کفارہ ادا کردوں گا۔
(تشریح)