بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 87 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ نے حمید سے، حمید نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تو اس سے بے نیاز ہے جو یہ شخص اپنے تئیں تکلیف دے رہا ہے۔ اور آپؐ نے اس کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا لئے جاتے ہوئے دیکھا۔ اور فزاری نے بھی اس حدیث کو حمید سے نقل کیا، کہا: ثابت نے مجھ سے بیان کیا۔ ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے سلیمان احوَل سے، سلیمان نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ڈوریا کسی اور چیز سے بندھا ہوا کعبہ کا طواف کررہا تھا۔ آپؐ نے اس کو کاٹ دیا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا: سلیمان احوَل نے مجھے بتایا کہ طاؤس نے ان سے بیان کیا۔ طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپؐ کعبہ کا طواف کررہے تھے ایک انسان کے پاس سے گزرے جو دوسرے انسان کو ایک ڈور سے کھینچے لئے جا رہا تھا جو اُس کے ناک میں ڈالی ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈور کو اپنے ہاتھ سے کاٹ ڈالا۔ پھر آپؐ نے اس سے فرمایا: اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو لے جاؤ۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار نبی ﷺ لوگوں سے مخاطب تھے۔ آپؐ نے کیا دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے ۔ آپؐ نے اس کے متعلق پوچھا۔ لوگوں نے کہا: یہ ابواسرائیل ہے۔ اس نے یہ منت مانی ہے کہ کھڑا رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور نہ ہی سائے میں آئے گا اور نہ کوئی بات کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ بات کرے اور سایہ میں بھی جائے اور بیٹھے بھی اور اپنا روزہ پورا کرے۔ عبدالوہاب (ثقفی) نے یوں سند بیان کی کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ ان سے کسی نے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو یہ منت مانے کہ اس پر فلاں دن جب بھی آئے گا تو وہ ضرور ہی روزہ رکھے گا اور پھر اتفاق سے اس دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر ہو۔ تو حضرت عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہے۔آپؐ عیدالاضحیٰ اور عید الفطر کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان دنوں روزہ رکھنا مناسب سمجھتے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زیاد بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ تھا تو ایک شخص نے ان سے مسئلہ پوچھا۔ کہا کہ میں نے یہ نذر مانی تھی کہ ہر منگل یا بدھ کو جب تک کہ زندہ رہوں روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے میں نے اس دن عیدالاضحیٰ کو پایا۔ انہوں نے کہا: اللہ نے نذر کے پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے روکا گیا ہے۔ اُس نے ان سے پوچھا تو حضرت عبداللہؓ نے وہی جواب دیا، اس سے زیادہ اس کو نہیں بتاتے تھے۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید دیلی سے، ثور نے ابوالغیث سے، جو ابن مطیع کے غلام تھے۔ ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم خیبر کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم نے نہ سونا غنیمت میں لیا اور نہ چاندی، صرف جائیدادیں اور کپڑے اور اسباب ہی لئے۔ بنو ضُبَیب میں سے ایک شخص نے جسے رفاعہ بن زید کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ میں دیا جسے مدعم کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وادی القریٰ کی طرف بھیجا۔ جب آپؐ وادی القریٰ میں پہنچے تو اسی اثنا میں کہ مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ نیچے رکھ رہا تھا، ایک تیر آیا جس کا مارنے والا معلوم نہ ہوا اور اس نے مدعم کو مار ڈالا۔ لوگوں نے کہا: اس کو جنت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ چادر جو اس نے خیبر کی جنگ میں غنیمت کے ان مالوں سے لی تھی جو ابھی تقسیم نہیں ہوئے تھے، وہ اس پر آگ ہو کر بھڑک رہی ہے۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص جوتی کا ایک تسمہ یا دو تسمے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ آگ کا ایک تسمہ تھا یا فرمایا: یہ آگ کے دو تسمے تھے۔
(تشریح)