بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
حسن بن محمد (بن صباح) نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے گمان کیا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہؓ سے سنا۔ حضرت عائشہؓ خیال کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحشؓ کے پاس ٹھہرا کرتے اور ان کے ہاں شہد پیا کرتے تھے اس لئے میں نے اور حفصہؓ نے آپس میں یہ ایکا کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ یوں کہے: میں آپؐ سے ہینگ کی بو محسوس کرتی ہوں، آپؐ نے ہینگ کھائی ہے۔ آپؐ ان میں سے ایک کے پاس آئے اور اس نے آپؐ سے یہ کہا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے تو زینب بنت جحشؓ کے ہاں شہد پیا ہے اور اب میں اسے کبھی نہیں پیوں گا۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ۔ اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ میں خطاب حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ سے ہے۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا سے آپؐ کی یہی بات مراد ہے کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔ اور ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے نقل کیا۔ انہوں نے ہشام (بن یوسف) سے روایت کی کہ میں اب اسے پھر کبھی نہیں پیوں گا اور میں نے قسم کھالی ہے اس لئے یہ بات تم کسی کو نہ بتانا۔
(تشریح)یحيٰ بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ سعید بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: کیا تمہیں نذر سے منع نہیں کیا گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر نہ کسی بات کو آگے کرتی ہے اور نہ پیچھے کرتی ہے بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ نذر کے ذریعہ بخیل سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے روایت کی کہ عبداللہ بن مرہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا کہ وہ کسی بات کو نہیں ٹالتی بلکہ اس کے ذریعہ بخیل سے کچھ نکالا جاتا ہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے طلحہ بن عبدالملک سے، طلحہ نے قاسم سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے یہ منت مانی ہو کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری کرے گا تو وہ اُس کی فرمانبرداری کرے اور جو یہ منت مانے کہ وہ اُس کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن عمر نے ہمیں خبر دی۔ عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ منت مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف بیٹھوں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے طلحہ بن عبدالملک سے، طلحہ نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی نذر مانے تو چاہیئے کہ اُس کی فرمانبرداری کرے اور جو اس کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اُس کی نافرمانی نہ کرے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر ابن آدم کا کچھ بھی نہیں کرتی جو اس کے لئے مقدرنہ ہو بلکہ نذر اس کو اُس تقدیر کے حوالے کر دیتی ہے جو اس کے لئے مقدر کی گئی ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اللہ بخیل سے کچھ نکالتا ہے اور وہ اللہ کی خاطر وہ کچھ دیتا ہے جو پہلے اس کی خاطر دینے کا نہیں تھا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (قطان) سے، یحيٰ نے شعبہ (بن حجاج) سے روایت کی، کہا: ابوجمرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ زہدم بن مضرب نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت عمران بن حصینؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے معاً بعد آئیں گے، پھر وہ جو اُن کے معاً بعد آئیں گے۔ حضرت عمرانؓ کہتے تھے: میں نہیں جانتا آپؐ نے اپنے زمانہ کے بعد دو بار یا تین بار ذکر کیا، پھر اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نذریں مانیں گے اور پوری نہیں کریں گے اور خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی اور ان میں موٹاپا نمایاں ہوگا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہو ں نے زُہری سے روایت کی، کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاریؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو اُن کی ماں کے ذمہ تھی اور وہ پیشتر اس کے کہ اس نذر کو پورا کرتی فوت ہو گئی تو آپؐ نے اُن کو حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے نذر پوری کریں۔ تو اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہوگیا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ابوبشر سے روایت کی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے کہنے لگا کہ میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی وہ فوت ہوگئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس پر کوئی قرضہ ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا حق ادا کرو۔ وہ زیادہ لائق ہے کہ اس کے حق کو پورا کیا جائے۔
(تشریح)