بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک سے، عبدالملک نے ربعی سے، ربعی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو آپؐ اپنے ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے۔ پھر دعا کرتے: اے اللہ! تیرے نام سے ہی میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں اور جب آپؐ جاگتے تو دعا کرتے: سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ ہمیں مارا تھا۔ اور اسی کی طرف اُٹھ کر جانا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے خبر دی۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے لگتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور معوذات کو پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر پھیرتے۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے، عبدالعزیز نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں جاتے تو دعا کرتے: اے اللہ میں ہر ایک گندگی سے اور گندی باتوں سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیاکہ عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں بتایا۔ علاء بن مسیب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: جب رسول اللہ ﷺ اپنے بچھونے پر آرام فرماتے تو آپؐ اپنی داہنی کروٹ کے بل سوتے، پھر یہ دعا کرتے: اے اللہ! میں نے اپنے تئیں تجھے سونپا اور میں نے اپنی توجہ کو تیری ہی طرف پھیرا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے اپنی پیٹھ کو تجھ سے سہارا دیا ہے تیری رضامندی کی خواہش رکھتے ہوئے اور تیری ناراضگی سے ڈرتے ہوئے۔ کوئی جائے پناہ نہیں اور نہ ہی تجھ سے بھاگ کر بچنے کی جگہ ہے مگر تیرے حضور۔ میں ایمان لایا ہوں تیری اس کتاب پر جو تو نے بھیجی اور تیرے اس نبی پر جس کو تو نے بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کلمات کہے اور پھر وہ اسی رات کو مر جائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ ابوعبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اسْتَرْهَبُوْهُمْ (یعنی انہوں نے ان کو مرعوب کرنا چاہا) رَهْبَةٌ سے ہے۔ مَلَکُوْت کے معنی ہیں بادشاہت۔ (عربی میں یہ) مثل ہے: رَهَبُوتٌ خَيْرٌ مِّنْ رَحَمُوت۔ (یعنی ڈرایا جانا رحم کیے جانے سے بہتر ہے) اور کہا جاتا ہے: تُرْهَبُ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تُرْحَمَ۔ یعنی تجھے خوف دلایا جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ تجھ پر ترس کھایا جائے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالرحمٰن) ابن مہدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے سلمہ (بن کہیل) سے، سلمہ نے کُرَیب سے، کُرَیب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت میمونہؓ کے پاس رات رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور حاجت کو گئے۔ آپؐ نے اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ پھر آپؐ سو گئے۔ پھر (اس کے بعد) اُٹھے اور مشک کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا۔ پھر آپؐ نے درمیانہ وضو کیا۔ پانی بہت استعمال نہیں کیا اور وضو بھی پورا کیا۔ آپؐ نماز پڑھنے لگے اور میں بھی اُٹھا۔ میں نے انگڑائی لی اس لئے کہ میں بُرا سمجھتا تھا کہ آپؐ یہ خیال کریں کہ میں آپؐ کو نظر بچا کر دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے وضو کیا اور کھڑا ہوکر نماز پڑھنے لگا اور میں آپؐ کے بائیں طرف کھڑا تھا۔ آپؐ نے میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف لے آئے۔ آپؐ کی نماز تیرہ رکعتوں میں مکمل ہوئی۔ پھر آپؐ لیٹ گئے اور سو گئے اور آپؐ خراٹے لینے لگے۔ اور آپؐ کی عادت تھی کہ جب آپؐ سو جاتے تو خراٹے لیتے۔ پھر بلالؓ نے آپؐ کو نماز کی اطلاع کی اور آپؐ نے نماز پڑھائی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ اور آپؐ اپنی دعا یوں کرتے: اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں نور ڈال دے اور میرے کانوں میں نور ڈال دے اور میرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں نور کردے اور میرے اوپر نور كر دے اور میرے نیچے نور كر دے اور میرے آگے نور كر دے اور میرے پیچھے نور كر دے اور میرے لئے نور بنا دے۔ کُرَیب نے کہا: اور جسم میں سات چیزیں ہیں (جن کو منور کرنے کی آپؐ نے دعا کی۔) (یہ سن کر) میں حضرت عباسؓ کی اولاد میں سے ایک شخص کو ملا تو اس نے مجھے وہ سات چیزیں بتائیں اور اس نے یہ ذکر کیا: میرے اعصاب میں اور میرے گوشت میں اور میرے خون میں اور میرے بالوں میں اور میرے بدن میں۔ اور انہوں نے دو اور چیزوں کا (بھی) ذکر کیا۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن ابی مسلم سے سنا۔ سلیمان نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد پڑھنے کے لئے اُٹھتے تو آپؐ یہ دعا کرتے: اے اللہ! تیرے لئے سب حمد ہے۔ تُو آسمانوں اور زمین اور جو اُن میں ہیں، کا نور ہے۔ اور تیری سب حمد ہے۔ تُو آسمانوں اور زمین کا اور جو اُن میں ہیں سب کا قائم رکھنے والا ہے۔ اور تیری سب حمد ہے۔ تُو یقیناً حق ہے اور تیرا وعدہ بھی اٹل ہے اور تیرا کلام بھی حق ہے اور تجھ سے ملاقات بھی یقینی ہے اور جنت بھی یقینی ہے اور آگ بھی یقینی ہے اور گھڑی بھی یقینی ہے اور انبیاء بھی سچے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی سچے ہیں۔ اے اللہ! میں نے تیرے سامنے اپنی گردن ڈال دی اور تجھ ہی پر بھروسہ کرلیا اور تجھ پر ایمان لے آیا اور تیرے حضور جھک گیا۔ اور تیری مدد سے میں نے دشمن سے مقابلہ کیا۔ اور تیرے حضور میں اپنا قضیہ فیصلے کے لئے پیش کرتا ہوں۔ جو بعد کے کرنے کے کام میں پہلے کرچکا ہوں اور جن میں تاخیر کی ہے ان میں مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما۔ نیز وہ جو میں نے پوشیدہ رکھا ہے اور جس کا میں نے اظہار کیا ہے، وہ بھی مجھے معاف فرما۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی یا (فرمایا:) کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے، ابن ابی لیلیٰ نے حضرت علیؓ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہما السلام نے اُس تکلیف کی شکایت کی جو چکی سے اُن کے ہاتھ میں ہوتی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہ آپؐ سے کوئی خادم مانگیں تو انہوں نے آپؐ کو (گھر میں) نہ پایا تو حضرت عائشہؓ سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپؐ آئے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو بتایا۔ (حضرت علیؓ) کہتے تھے: (یہ سن کر) آپؐ ہمارے پاس آئے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ گئے تھے۔ میں اٹھنے لگا تو آپؐ نے فرمایا: اپنی جگہ رہو اور آپؐ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپؐ کے پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں اس بات کا پتہ نہ دوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بچھونے پر آرام کرو یا (فرمایا:) جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو تم ۳4 بار اللہ اکبر، ۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمدللہ کہو تو یہ تم دونوں کے لئے ایک خادم سے بہتر ہوگا۔ اور شعبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خالد (حذاء) سے، خالد نے ابن سیرین سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۳۴ بار ہے۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن ابی سعید مقبری نے مجھے بتایا۔ سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بچھونے پر آرام کرنے لگے تو چاہیئے کہ وہ اپنے بچھونے کی چادر کو اندر کے حصے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بچھونے پر کیا چیز آگئی۔ پھر یہ کہے: تیرے نام سے اے میرے ربّ۔ میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی ذریعہ سے میں اس کو اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اِس پر رحم فرما اور اگر تو اس کو چھوڑ دے تو پھر اس کو محفوظ رکھ اُسی رحمت سے جس رحمت سے تو نیکوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ (زہیر بن معاویہ کی طرح) ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے بھی عبیداللہ سے یہی روایت کی۔ اور یحيٰ بن سعید (قطان) اور بشر (بن مفضل) نے بھی اس حدیث کو عبیداللہ سے، عبیداللہ نے سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور مالک اور (محمد) ابن عجلان نے بھی اسے سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوعبداللہ اغرّ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (بن عوف) سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ جو بہت برکتوں والا ہے اور بہت ہی بلند ہے ہر رات نچلے آسمان پر اُترتا ہے اُس وقت جبکہ رات کی آخری تہائی باقی رہتی ہے۔ فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اُس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگے گا کہ میں اُس کو دوں؟ کون مجھ سے استغفار کرے گا کہ میں اُس پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اُس سے درگزر کروں؟
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ حسین (بن ذکوان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن بُریدہ نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ نے بُشَیر بن کعب سے، بُشَیر نے حضرت شداد بن اوسؓ سے، حضرت شدادؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سید الاستغفار یہ دعا ہے: اے میرے اللہ! تو میرا ربّ ہے کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک کہ میں طاقت رکھتا ہوں۔ میں تیرے حضور اقرار کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان کئے اور میں تیرے حضور اقرار کرتا ہوں کہ میں نے گناہ کئے۔ پس تُو مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما کیونکہ تو ہی گناہوں کو بخشتا ہے۔ جو کچھ بھی کہ میں نے کیا اُس کے شر سے میں تیری پناہ لیتا ہوں۔ (فرمایا:) جب شام ہو کوئی یہ دعا کرے اور پھر وہ مر جائے تو جنت میں داخل ہوگا یا (فرمایا:) وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔ یا جب صبح ہو وہ یہ دعا کرے، پھر وہ اُسی دن مر جائے تو وہ بھی جنت میں داخل ہو گا یا (فرمایا:) جنتیوں میں سے ہوگا۔