بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
اسماعیل ( بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو وہ مانگتا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو چھپائے رکھوں تا کہ آخرت میں میری امت کے لیے وہ شفاعت (کا موجب) بنے۔
اور خلیفہ (بن خیاط) نے مجھ سے کہا کہ معتمر (بن سلیمان) کہتے تھے: میں نے اپنے باپ سے سنا۔وہ حضرت انس سے، حضرت انس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: ہر ایک نبی نے کچھ مانگا ہے یا فرمایا: ہر ایک نبی کی ایک خاص دعا ہے کہ جو اُس نے مانگی ہے - اور وہ قبول کی گئی۔میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے لئے بطور شفاعت کے رکھ چھوڑا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے خبر دی۔ابو سلمہ نے کہا: حضرت ابوہریرۃ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میں تو ہر روز ستر بار سے بھی زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام فرماتے تو دعا کرتے : تیرے نام سے میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں اور جب آپ اُٹھتے تو دعا کرتے : سب حمد اس اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس نے ہمیں مارا اور اسی کی طرف اُٹھ کر جاتا ہے۔نُنشِرُهَا کے معنی ہیں ہم اُس کو باہر نکالتے ہیں۔
ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث ( بن سعید) نے ہمیں بتایا۔حسین ( بن ذکوان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن بریدہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) بشیر بن کعب عدوی نے مجھ سے رضى اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔حضرت شداد نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔سید الاستغفار یہ ہے کہ وہ یہ دعا کرے: اے میرے اللہ ! تو ہی میرا ربّ ہے۔کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔تو نے مجھے پیدا کیا۔میں تیرا بندہ ہوں۔میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میں طاقت رکھتا ہوں۔جو میں نے کیا اُس کے شر سے میں تیری پناہ لیتا ہوں۔میں تیرے حضور اقرار کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان کئے اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں۔مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میرے گناہوں سے درگزر فرما کیونکہ کوئی گناہوں کی مغفرت نہیں کرتا مگر تو ہی۔آپ نے فرمایا: اور جو شخص دن کو یہ دعا یقین رکھتے ہوئے کرے گا پھر وہ اس دن شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتیوں میں سے ہو گا اور جس نے رات کو یہ دعا کی جبکہ اس پر وہ یقین رکھتا ہے پھر وہ صبح ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ بھی جنتیوں میں سے ہو گا۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوشهاب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ بن عمیر سے ، عمارہ نے حارث بن سوید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں۔ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک اپنی طرف سے ہے۔اپنی طرف سے یہ ) کہا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے، ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر نہ آپڑے۔اور فاجر اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کے ناک پر سے گزر گئی اور اس نے اُسے اس طرح ہٹا دیا۔ابو شہاب نے یہ (اشارہ) اپنے ہاتھ کو ناک پر گزار کر بتایا۔پھر (انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی۔) فرمایا: اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص کہ جو ایک مقام پر اترا اور وہاں ہلاکت کے سب سامان موجود ہیں، اُس کے ساتھ اس کی اوٹنی ہے جس پر اُس کا کھانا اور پانی لد ا ہوا ہے۔وہ اپنا سر رکھ کر تھوڑا ساسو گیا اور پھر جاگا، کیا دیکھا کہ اس کی اونٹنی کہیں چلی گئی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گرمی اور پیاس نے اسے سخت لاچار کر دیا یا فرمایا: اتنی سخت گرمی اور پیاس لگی جتنی اللہ نے چاہی۔کہنے لگا: میں اپنی جگہ لوٹ جاتا ہوں۔اور وہ لوٹا اور تھوڑا سا سویا۔پھر اُس نے اپنا سر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہے۔ (ابو شہاب کی طرح) اس حدیث کو ابو عوانہ اور جریر نے بھی اعمش سے روایت کیا۔اور ابو اسامہ نے کہا: ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ہمیں عمارہ نے بتایا کہ میں نے حارث بن سوید سے سنا۔اور شعبہ اور مسلم نے بھی اس حدیث کو اعمش سے اور اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے روایت کی۔اور ابو معاویہ نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عمارہ سے، عمارہ نے اسود سے، اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) اور ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔
اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ حبان (بن ہلال) نے ہمیں خبر دی۔ہمام نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔نیز ہد بہ (بن خالد) نے (بھی) ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر تم میں سے اس ایک شخص سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے کہ جس نے اپنے اونٹ کو یکا یک پا لیا ہو جبکہ اس نے اس کو بے آب و گیاہ بیابان میں کھو دیا تھا۔
(تشریح)عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔جب صبح (صادق) طلوع ہوتی تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے۔پھر اپنی داہنی کروٹ کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آتا اور آپ کو اطلاع دیتا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے منصور سے سنا۔منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤ تو وضو کرو، اسی طرح کا وضو جو تم اپنی نماز کے لئے کرتے ہو۔پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹو اور یہ دعا کرو: اے اللہ ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپر د کیا اور میں نے اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے تیری رضامندی کی اُمید کرتے ہوئے اور تیری ناراضگی سے ڈرتے ہوئے تجھے ہی اپنا پشت پناہ بنایا ہے۔نہ تو کوئی جائے پناہ ہے اور نہ تجھ سے بچ کر نجات کی کوئی جگہ ہے مگر تیرے ہی حضور میں ایمان لایا تیری اُس کتاب پر جو تو نے اُتاری اور تیرے اُس نبی پر جو تو نے بھیجا۔اگر تم اس دعا کے بعد ) مر جاؤ گے تو فطرت پر مرو گے۔اس لئے سب سے آخر جو تم رکھو تو انہی کلمات کو کہو۔میں نے کہا: میں ان کو (یوں) یاد کر لوں: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ کہو) وَبِنَبِيَّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔
(تشریح)سعید بن ربیع اور محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی۔ (ابواسحاق نے کہا:) میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا۔ نیز آدم نے (بھی) ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق ہمدانی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (یہ) وصیت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یوں دعا کرو: اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور میں نے اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے اپنی توجہ کو تیری ہی طرف پھیرا اور میں نے تیری ناراضگی سے ڈرتے ہوئے اور تیری رضامندی کی اُمید کرتے ہوئے تجھے ہی اپنا پشت پناہ بنایا۔ نہ تو کوئی جائے پناہ ہے اور نہ تجھ سے بچ کر نجات کی کوئی جگہ ہے مگر تیرے ہی حضور۔ میں ایمان لایا تیری اُس کتاب پر جو تو نے اُتاری اور تیرے اس نبی پر جو تو نے بھیجا۔ تو پھر اگر تم مر جاؤ تو تم فطرت پر مرو گے۔
(تشریح)