بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت اُم سلیمؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: انسؓ آپؐ کا خادم ہے۔ آپؐ نے (انسؓ کے لئے) دعا کی: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو بڑھا اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں اس کے لئے برکت دے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی جسے میں فلاں فلاں سورة میں سے (بھول کر) چھوڑ جایا کرتا تھا۔
مسد د نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز (بن صہیب) نے ہمیں خبر دی۔ عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو پھر سنجیدگی اور وثوق سے مانگے اور یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے۔ کیونکہ کوئی اُس کو زبردستی نہیں منوا سکتا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ سنجیدگی اور وثوق سے مانگے کیونکہ اُس کومجبور کرنے والا کوئی نہیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوعبید سے جو (عبدالرحمٰن) بن ازہر کے غلام تھے، ابوعبید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوگی بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے۔ یعنی یہ (نہ) کہے کہ میں نے تو دعا کی پر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔
ابوعبداللہ(امام بخاریؒ) نے کہا: اور (عبدالعزیز بن عبداللہ) اویسی کہتے تھے کہ مجھے محمد بن جعفر نے یحيٰ بن سعید اور شریک (بن عبداللہ) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ ان دونوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے اُٹھائے کہ میں نے آپؐ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زید (انصاریؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز گاہ میں نکل کر آئے کہ بارش کے لئے دعا کریں اور آپؐ نے دعا کی اور پانی مانگا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر کو اُلٹایا۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان (بن مہران) نے مجھے خبر دی۔ سلیمان نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا: یہ تو ایسی تقسیم ہے کہ اِس سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی گئی۔ (یہ سن کر) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپؐ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ میں نے اس رنج کو آپؐ کے چہرے میں دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ موسیٰؑ پر رحم کرے۔ اُنہیں تو اس سے زیادہ دکھ دیا گیا تھا، انہوں نے صبر کیا۔
(تشریح)یحيٰ بن محمد بن سکن نے ہم سے بیان کیا کہ حبان بن ہلال ابوحبیب نے ہمیں بتایا۔ ہارون مقرئ نے ہم سے بیان کیا کہ زبیر بن خریت نے ہمیں بتایا۔ زبیر نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہر جمعہ ایک دفعہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کیا کرو۔ اگر تم یہ نہ مانو تو پھر دو دفعہ ہی اور اگر اس سے بھی زیادہ (ہو) تو پھر تین بار۔ اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتاؤ نہیں۔ اور میں تمہیں کبھی (اس حال میں) نہ پاؤں کہ تم ایسے لوگوں کے پاس آؤ کہ وہ اپنی کسی بات میں مشغول ہوں اور تم انہیں اپنی باتیں سنانے لگ جاؤ اور اُن کی بات کو کاٹ دو اور ان کے اکتانے کا موجب بنو بلکہ خاموشی سے ان کی باتیں سنو۔ جب وہ تمہیں کہیں تو پھر اُن سے وعظ ونصیحت کرو ایسی حالت میں کہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔ دیکھنا! دعا میں قافیہ بندی سے بچنا، اس سے ہمیشہ پرہیز کرتے رہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ اس سے اجتناب ہی کیا کرتے تھے۔
(تشریح)محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطاب فرما رہے تھے۔ ایک شخص اُٹھا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ ہم پر بارش برسائے۔ پھر آسمان پر اَبر آیا اور ہم پر بارش برسنے لگی یہاں تک کہ آدمی کو اپنے گھر پہنچنا مشکل ہوگیا۔ اور آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی شخص یا اس کے سوا کوئی اور کھڑا ہوا اور کہنے لگا: آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ یہ بارش ہم سے ہٹائے، ہم تو ڈوب گئے۔ تو آپؐ نے یوں دعا کی: اے اللہ! اب ہمارے اردگرد برسے اور ہم پر نہ برسے۔ اس پر بادل پھٹ کر مدینہ کے ارد گرد ہونے لگا اور مدینہ والوں پر نہ برستا۔