بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 108 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ عمر بن ابی زائدہ نے ہم سے بیان کیا۔ عمر نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس نے دس بار (ان کلمات کو) کہا تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اسماعیل کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی۔ (اسی سند سے) عمر (بن ابی زائدہ) نے کہا: عبداللہ بن ابی سفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے ربیع بن خثیم سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتایا۔ (شعبی کہتے ہیں:) پھر میں نے ربیع سے پوچھا: تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون سے۔ تب میں عمر وبن میمون کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: ابن ابی لیلیٰ سے۔ تب میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: حضرت ابوایوب انصاریؓ سے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اسے بیان کرتے تھے۔ اور ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی کہ عمرو بن میمون نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ایوبؓ سے ان کا یہی قول روایت کرتے ہوئے بتایا جسے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ اور موسیٰ نے کہا: وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے داؤد (بن ابی ہند) سے، داؤد نے عامر (شعبی) سے، عامر نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ایوبؓ سے، حضرت ابو ایوبؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اور اسماعیل نے شعبی سے، شعبی نے ربیع بن خثیم سے ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالملک بن میسرہ نے ہمیں بتایا کہ میں نے ہلال بن یساف سے سنا۔ انہوں نے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون سے، انہوں نے حضرت ابن مسعودؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا۔ اور اعمش اور حصین نے ہلال سےروایت کرتے ہوئے کہا۔ ہلال نے ربیع سے، ربیع نے حضرت عبداللہؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا۔ اور ابو محمد حضرمی نے بھی اس کو حضرت ابو ایوبؓ سے، حضرت ابو ایوبؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اسماعیل کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا:عمرو کا قول صحیح ہے۔ حافظ ابو ذر ہروی نے کہا کہ یہاں (لفظ) ’’عمر‘‘صحیح ہے، اور وہ ابوزائدہ کے بیٹے ہیں۔ یونینی نے کہا: میں کہتا ہوں کہ درست وہی ہے جس کا ذکر دراصل ابوعبد اللہ امام بخاریؒ نے کیا ہے جیسا کہ تم اُسے دیکھتے ہو کہ وہ ’’عمرو‘‘ نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سُمیّ سے، سُمیّ نے ابوصالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن میں سو بار یہ کہے: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، اُس کی غلطیاں مٹا دی جاتی ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
زُہَیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ ابن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ سے، عمارہ نے ابو زُرعہ سے، ابو زرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: دوکلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، رحمٰن کو پیارے ہیں۔ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ۔ یعنی پاک ہے اللہ جو بہت عظمت والا ہے، پاک ہے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید بن عبداللہ سے، برید نے ابو بُردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنے ربّ کا ذکر کرتا ہے اور وہ جو اپنے ربّ کا ذکر نہیں کرتا ایسے ہی ہے جیسے زندہ اور مردہ کی۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: ہم نے اس حدیث کو ابوالزناد سے (سن کر) یاد رکھا۔ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو کوئی بھی انہیں یاد رکھے گا تو وہ ضرور ہی جنت میں داخل ہوگا اور وہ (اللہ) طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ کے فرشتے راستوں میں پھرتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ پس جب وہ ایسے لوگوں کو کہ جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں پالیتے ہیں تو پکارتے ہیں کہ آؤ اپنی ضرورت کی طرف۔ فرمایا: تو پھر وہ فرشتے ان کو نچلے آسمان تک اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں۔ فرمایا: اور ان کا ربّ عز وجل اُن سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے، میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں؟ فرمايا: وہ کہتے ہیں تیری پاکیزگی اور تیری بڑائی اور تیری حمد اور تیری بزرگی بیان کر رہے ہیں۔ فرمایا، پھر اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا؟ فرمایا، وہ کہیں گے: نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ فرمایا، تو وہ فرماتا ہے: اگر وہ مجھ کو دیکھ لیتے تو کیا کیفیت ہوتی ؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: اگر تجھے دیکھ لیتے تو اس سے بڑھ کر تیری عبادت کرتے اور اس سے بڑھ کر تیری بزرگی کا اظہار کرتے اور اس سے بڑھ کر تیری پاکیزگی کا اظہار کرتے۔ کہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرمایا: (فرشتے کہتے ہیں) تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ فرمایا، اللہ پوچھتا ہے: اور کیا انہوں نے اس جنت کو دیکھا ؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے ربّ انہوں نے جنت نہیں دیکھی۔ فرمایا، اللہ فرماتا ہے: اگر انہوں نے جنت دیکھی ہوتی تو کیا کیفیت ہوتی؟ اور فرمایا، وہ کہتے ہیں: اگر انہوں نے جنت دیکھی ہوتی تو وہ اس سے بھی زیادہ اس کی حرص کرتے اور اس سے بھی زیادہ اس کی تلاش کرتے اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے خواہاں ہوتے۔ اللہ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: آگ سے۔ فرمایا، وہ فرماتا ہے: اور کیا انہوں نے اس آگ کو دیکھا ؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے ربّ، انہوں نے اس کو نہیں دیکھا۔ کہتے تھے، وہ فرماتا ہے: اگر اس کو دیکھا ہوتا تو کیا کیفیت ہوتی؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: اگر تو دیکھی ہوتی تو اور زیادہ اس سے بھاگتے اور بہت سخت ڈرتے۔ فرمایا، تو وہ فرماتا ہے: میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے ان کے گناہوں پر پردہ پوشی کرتے ہوئے ان سے درگزر کر دیا۔ فرمایا، فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہے گا: ان میں فلاں بھی ہے جو ان میں سے نہیں ہے مگر صرف کسی کام کے لئے آیا تھا۔ فرمائے گا: وہ ایسے بیٹھنے والے ہیں کہ ان کا ہم نشین بدنصیب نہیں ہوتا۔ شعبہ نے بھی اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا اور اس کو مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو روایت کیا۔
محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ سلیمان تیمی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی میں گئے یا کہا: پہاڑ کے موڑ میں۔ کہا: جب آپؐ اس کی بلندی پر پہنچے تو ایک آدمی نے پکارا اور اس نے اپنی آواز کو بلند کیا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے) کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی خچر پر سوار تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ کسی غیر حاضر کو۔ پھر فرمایا: ابوموسیٰ یا (فرمایا:) عبداللہ! کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کا خزانہ ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیں؟ آپؐ نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ یعنی بدیوں سے بچنے کی طاقت نہیں اور نیکیوں کے کرنے کی قدرت نہیں مگراللہ ہی کی مدد سے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: شقیق نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ (کوفی) آئے اور ہم نے کہا: کیا آپ بیٹھیں گے نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں اندر جاتا ہوں اور تمہارے ساتھی کو تمہارے پاس باہر بھیجتا ہوں اور اگر وہ نہ آئے تو میں آجاؤں گا اور بیٹھوں گا۔ پھر حضرت عبداللہ باہر آئے اور وہ ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور آکر ہمارے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: دیکھو میں خوب جانتا تھا کہ تم یہاں موجود ہو مگر تمہارے پاس باہر آنے سے مجھے یہ بات روکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مقررہ دنوں میں ہمیں وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے کیونکہ آپؐ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ہم کہیں اکتا نہ جائیں۔
(تشریح)