بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 182 hadith
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن سعید نے جو کہ ابوہند کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی وہ کہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت سے لوگ گھاٹا کھا رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔اور عباس (بن عبدالعظیم) عنبری نے کہا: ہمیں صفوان بن عیسیٰ نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی حدیث روایت کی۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے معاویہ بن قرہ سے، معاویہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں پس انصار اور مہاجرین کی حالت کی اصلاح فرما۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل (بن سعد ساعدیؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: جنت میں کَوڑا رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے۔ اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لکیریں کھینچیں۔ پھر فرمایا: یہ آرزوئیں ہیں اور یہ اس کی اجل ہے اسی اثناء میں کہ وہ آرزوئیں رکھے ہوئے ہوتا ہے کہ اتنے میں نہایت ہی قریب کی لکیر آپہنچی ہے۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا ، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ دو باتیں بھی زیادہ ہوجاتی ہیں۔ مال کی محبت اور درازیٔ عمر کی خواہش۔ اس کو شعبہ نے بھی قتادہ سے روایت کیا ۔
احمد بن مقدام نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ ابوحازم نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ نے ہمیں بتایا اُنہوں نے کہا کہ ہم خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ مٹی کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے آپؐ ہمارے پاس سے گزرتے اور فرماتے اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں۔ انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔ اس روایت کی متابعت حضرت سہل بن سعدؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبدالرحمٰن ابومنذر طفاوی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان اعمش سے، اعمش نے کہا مجاہد نے مجھے بتایا،اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا تُو دنیا میں اس طرح بسر کر گویا کہ تُو پردیسی ہے یا راہ چلتا مسافر اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے جب تمہیں شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہوتو شام کا انتظار نہ کرو اور اپنی صحت سے اپنی بیماری کے لئے اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لئے کچھ (سامان)لے لو۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، انہوں نے کہا میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے منذر سے، منذر نے ربیع بن خثیم سے، ربیع نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع شکل بنائی اور ایک لکیر اس کے درمیان میں کھینچی جو اس مربع سے باہر نکلی ہوئی تھی اور آپؐ نے اس درمیانی لکیر پر اس کے اس حصے کی طرف جو مربع کے درمیان ہے کچھ لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل ہے جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یا (فرمایا:) جس نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور یہ جو باہر ہے یہ اس کی آرزو ہے اور یہ جو چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں یہ حادثات ہیں۔ اگر اس حادثہ سے بچ نکلا تو یہ حادثہ اس کو دانتوں سے پکڑ لے گا اگر اُس سے بچ نکلا تو یہ پکڑ لے گا۔
عبدالسلام بن مُطہّر نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن علی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معن بن محمد غفاری سے، معن نے سعید بن ابی سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے اس آدمی کے لئے کوئی عذر نہیں چھوڑا جس کو اس کی عمر میں اتنی مہلت دی کہ اس کو ساٹھ سال تک پہنچا دیا۔ (معن کی طرح) ابوحازم اور (محمد) بن عجلان نے بھی مقبری سے اس حدیث کو روایت کیا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: دو باتوں کے متعلق بوڑھے کا دل جوان ہی رہتا ہے۔ دنیا کی محبت اور طول امل۔ (لمبی آرزوئیں) لیث نے یونس (بن یزید) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور ابن وہب نے بھی یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے نقل کیا۔ اُنہوں نے کہا: مجھے سعید اور ابوسلمہ نے بتایا۔