بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت محمود بن ربیعؓ نے بتایا۔ اور وہ وہی تھے جن کے منہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ وہ لڑکے تھے اُن کے کوئیں سے پانی لے کر کلی کی تھی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تو آپؐ ان کے لئے دعا کرتے۔ آپؐ کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپؐ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ آپؐ نے پانی منگایا اور اُس کو اُس کپڑے پر بہا دیا اور اس کو دھویا نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی، زُہری نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن صُعیر نے خبر دی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا تھا۔ (انہیں دعا دی تھی۔) انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ وہ ایک ہی رکعت وتر پڑھتے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے حضرت (عبداللہ) ابن ابی اوفیٰ ؓسے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جب آپؐ کے پاس کوئی شخص صدقہ لے کر آتا تو آپؐ دعا کرتے: اے اللہ! اس پر اپنا خاص رحم فرما۔ میرے والد بھی آپؐ کے پاس صدقہ لے کر آئے تو آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! ابواوفیٰ ؓکے خاندان پر خاص رحمت فرما۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حکم (بن عتیبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت کعب بن عجرہؓ مجھ سے ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر آئے اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اس کا علم تو ہوچکا ہے کہ ہم آپؐ کے لئے سلامتی کی دعا کیسے کریں۔ مگر ہم آپؐ کے لئے رحمت کی دعا کس طرح کریں؟ آپؐ نے فرمایا: تم یوں کہو: اے اللہ! محمدؐ اور آل محمدؐ کو خاص الخاص رحمت سے نواز جیسا کہ تو نے آل ابراہیمؑ کو نوازا۔ یقیناً تو بہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور آل محمدؐ کو برکتیں عطا کر جیسا کہ تو نے آل ابراہیمؑ کو برکتیں عطا کیں۔ یقیناً تو بہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم اور دراوردی نے ہمیں بتایا۔ان دونوں نے یزید (بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد) سے، یزید نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو ہوئی آپؐ کے لئے سلامتی کی دعا کرنا، اب رحمت کی دعا کیسے کریں؟ فرمایا: تم یوں کہا کرو: اے اللہ! محمدؐ کو خاص الخاص رحمت سے نواز جو تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ کو نوازا۔ اور محمدؐ اور آل محمدؐ کو برکتیں عطا کر جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ اور آل ابراہیمؑ کو برکتیں عطا کیں۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبداللہ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عمرو بن سُلَیم زُرَقی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوحمید ساعدیؓ نے خبر دی۔ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! ہم آپؐ کے لئے رحمت کی دعا کیسے کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا: یوں کہا کرو: اے اللہ ! محمد اور ان کی ازواج اور ان کی ذریت پر ویسے ہی رحمت فرماجیسا کہ تو نے ابراہیمؑ کے خاندان پر رحمت کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی ذریت کو ویسے ہی برکت دے جیسے تو نے ابراہیمؑ کے خاندان کو برکت دی۔ یقیناً تو بہت ہی خوبیوں والا بہت ہی بڑائی والا ہے۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یونس نے مجھے خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا۔ سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! جس مؤمن کو بھی میں نے کبھی بُرا کہا ہو تو میرا یہ بُرا کہنا اس کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کا موجب بنادے۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے لگے، اس قدر سوال کئے کہ انہوں نے آپؐ کو اُن سے تنگ کردیا۔ آپؐ رنجیدہ ہوئے اور منبر پر چڑھ کر فرمانے لگے: آج تم مجھ سے جس بات کے متعلق بھی پوچھو گے میں اُس کو تمہارے لئے ضرور کھول کر بیان کروں گا۔ میں یہ سن کر دائیں اور بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر شخص اپنا سر اپنے کپڑے میں لپیٹے ہوئے رو رہا ہے۔ پھر ایک شخص تھا کہ جب لوگوں سے اُلجھتا تو اُس کو اُس کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرکے بلایا جاتا۔ وہ بولا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: حذافہ۔ پھر حضرت عمرؓ اُٹھے اور کہنے لگے: ہم خوش ہیں اللہ سے جو ہمارا ربّ ہے اور اسلام سے جو ہمارا دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہمارے رسول ہیں۔ ہم ابتلاؤں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر و شر میں مَیں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ جنت اور آگ کا نقشہ مجھے دکھایا گیا یہاں تک کہ میں نے ان کو اس دیوار کے سامنے دیکھا۔ اور قتادہ اس حدیث کے بیان کرتے وقت اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا …یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی باتوں کے متعلق نہ پوچھو جو اگر تمہارے لئے ظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام تھے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہؓ سے فرمایا: اپنے لڑکوں میں سے کوئی لڑکا ہمارے لئے ڈھونڈو جو میرا کام کاج کرے تو حضرت ابوطلحہؓ مجھے اپنے پیچھے سوار کر کے لے گئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب بھی آپؐ کہیں قیام کرتے تو میں آپؐ سے سنتا کہ آپؐ اکثر یہ دعا کرتے: اے اللہ! میں تیری ہی پناہ لیتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی اور سستی اور کنجوسی اور بزدلی سے اور قرضہ کے بہت ہوجانے سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔ میں آپؐ کی اس وقت تک خدمت کرتا رہا کہ ہم خیبر سے لوٹے اور آپؐ حضرت صفیہ بنت حییؓ کو لائے۔ آپؐ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ اور میں آپؐ کو دیکھتا تھا کہ آپؐ اپنے پیچھے عباء یا کمبل سے ایک گول گدا بناتے اور پھر اُن کو اپنے پیچھے سوار کرتے۔ جب ہم صہباء میں پہنچے تو آپؐ نے چمڑے کے ایک دسترخوان پر کھجور کا مالیدہ تیار کیا۔ پھر آپؐ نے مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو بلایا اور انہوں نے کھایا اور یہ ولیمہ تھا آپؐ کا جو آپؐ نے حضرت صفیہؓ کو اپنے گھر لانے کے موقع پر کیا۔ پھر آپؐ روانہ ہو گئے۔ جب اُحد دکھائی دینے لگا تو آپؐ نے فرمایا: یہ وہ (چھوٹا سا) پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ جب آپؐ مدینہ کے اوپر پہنچے تو آپؐ نے کہا: اے اللہ! میں اس جگہ کو جو مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے اُسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! انہیں ان کے مُد میں اور ان کے صاع میں برکت دیجیو۔
(تشریح)