بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 108 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت اُم خالد بنت خالدؓ سے سنا۔ (موسیٰ بن عقبہ) کہتے تھے: میں نے اُن کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنا کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ عذاب قبر سے پناہ مانگ رہے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے اور بزدلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں عذاب قبر سے اور تیری پناہ لیتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔
خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عمرو بن ابی عمرو نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں فکر اور غم سے اور عاجزی اور سستی سے اوربزدلی اور کنجوسی سے اور قرضے کے زیادہ ہونے سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے، عبدالعزیز نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے۔ آپؐ دعا کرتے: اے اللہ! میں سستی سے تیری پناہ لیتا ہوں ا ور بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور بہت بڑھاپے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور بخل سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالملک (بن عمیر) نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالملک نے مصعب (بن سعد بن ابی وقاص) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت سعدؓ پانچ دعائیں کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ان کا ذکر کرتے کہ آپؐ یہ دعائیں کرنے کا حکم دیا کرتے تھے: یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بخل سے اور میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ نہایت ہی نکمی عمر تک پہنچا دیا جاؤں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں دنیا کے فتنے سے یعنی دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ لیتا ہوں عذاب قبر سے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں: میرے پاس مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھی عورتیں آئیں اور مجھے کہنے لگیں کہ قبروں والوں کو بھی ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور میں نے یہ پسند نہ کیا کہ ان کو سچا سمجھوں۔ اور وہ باہر چلی گئیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں آئیں اور میں نے آپؐ سے سارا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔ اُنہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سب جانور سنتے ہیں۔ پھر میں نے اس کے بعد جب بھی آپؐ کو نماز میں دیکھا تو دیکھا کہ آپؐ ضرور ہی عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
(تشریح)مُعلّی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں سستی اور انتہائی بڑھاپے سے اور اس بات سے جو گناہ کا موجب ہو اور اس بات سے جو چٹی کا موجب ہو اور قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے فتنے اور آگ کے عذاب سے اور دولتمندی کے فتنے کے شر سے اور میں محتاجی کے فتنے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور میں مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ اے اللہ! مجھ سے میری خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈال اور میرے دل کو تمام خطاؤں سے پاک و صاف کردے اُسی طرح جس طرح کہ تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک و صاف کیا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا ہی فاصلہ کردے جتنا کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے مصعب بن سعد سے، مصعب نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ یہ پانچ دعائیں کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے یہ دعائیں بتایا کرتے تھے: اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ لیتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور نکمی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ لیتا ہوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں خبر دی۔ ابن شہاب نے عامر بن سعد (بن ابی وقاص) سے روایت کی کہ ان کے والد کہتے تھے: حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے۔ میری اس بیماری میں جس کی وجہ سے میں مرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس بیماری سے جس حد تک میری حالت پہنچ چکی ہے آپؐ دیکھ ہی رہے ہیں اور میں مالدا ر ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں سوائے میری اکلوتی بیٹی کے۔ کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: پھر اس کا آدھا؟ آپؐ نے فرمایا: ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تم اگر اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ بہتر ہے اِس سے کہ اُن کو محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم جو بھی ایسا خرچ کروگے کہ جس کے ذریعہ اللہ کی رضا مندی چاہتے ہو گے تو ضرور ہی تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: کیا میں اپنے ساتھیوں کے پیچھے ہی چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپؐ نے فرمایا: تمہیں ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو عمل بھی تم کرو گے جس کے ذریعہ سے تم اللہ کی رضا مندی چاہ رہے ہوگے تو ضرور ہی درجے اور بلندی میں بڑھتے چلے جاؤ گے اور شاید تمہیں پیچھے چھوڑا جائے یہاں تک کہ تمہارے ذریعہ کچھ لوگ فائدہ اُٹھائیں اور کچھ اَوروں کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچایا جائے۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت کو آخر تک پہنچا اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل واپس نہ کر لیکن بےچارہ سعد بن خولہؓ۔ حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے افسوس کیا اس لئے کہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے۔
(تشریح)