بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔قرہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن سیرین نے ہمیں بتایا۔ ابن سیرین نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی اور ابنِ سیرین نے ایک اور شخص سے بھی روایت کی جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے افضل ہے اس شخص نے بھی حضرت ابو بکرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: سنو تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابوبکرہؓ کہتے تھے، (آپؐ خاموش رہے) یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہ بے شک یا رسول اللہ ۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ وہی حرمت والا شہر نہیں ؟ ہم نے کہا: بے شک ہاں یا رسول اللہ ۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اور تمہارے بدن کے چمڑے تمہارے لئے ایسے ہی معزز ہیں جیسا کہ تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اسی شہر میں معزز ہے۔ سنو ! کیا میں نے یہ حکم پہنچا دیا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! گواہ رہ۔ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچاوے کیونکہ کبھی وہ شخص جسے پہنچایا جاتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے جو بات کو سمجھنے والا یاد رکھنے والا ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے بعد پھر کافر نہ بن جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن زنی کرتے پھرو۔ جب وہ دن ہوا کہ جس دن عبداللہ بن عمرو حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے جلادیا۔ جاریہ نے کہا: ابوبکرہؓ کو جھانک کر دیکھو۔ لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابوبکرہؓ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے تھے: میری والدہ نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ لوگ میرے پاس اندر آبھی جائیں تو میں مقابلے کے لئے ایک کانا (سرکنڈا)بھی نہ پکڑوں گا۔
احمد بن اِشکاب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کہیں پھر کافر نہ ہوجاناکہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔
محمد بن عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ ابراہیم (بن سعد) نے کہا اور صالح بن کیسان نے بھی مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو۔ جو اس کو جھانک کر دیکھے گا وہ فتنہ اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔اس لئے جو شخص اس فتنہ میں کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام پائے تو وہ اس میں پناہ لے۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نےزُہری سے روایت کی کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھ رہنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہوگا اور اُن میں کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اُن میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو اس کو جھانک کر دیکھے گا وہ فتنہ اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس لئے جو شخص کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام پائے تو وہ وہاں پناہ لے۔
(تشریح)عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایک شخص جس کا انہوں نے نام نہیں لیا سے روایت کی کہ حسن (بصری) سے مروی ہے اُنہوں نے کہا: فتنے کے زمانے میں مَیں اپنے ہتھیار لے کر نکلا تو حضرت ابوبکرہؓ مجھے راستے میں ملے۔ اُنہوں نے پوچھا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔حضرت ابوبکرہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں تو وہ دونوں دوزخیوں میں سے ہیں۔آپؐ سے پوچھا گیا: یہ تو قاتل ہوا اور جو مارا گیا ہے وہ کیوں؟ آپؐ نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حماد بن زید نے کہا: میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے بیان کی اور میں یہ چاہتا تھا کہ وہ دونوں مجھے اس کے متعلق بتائیں۔ انہوں نے کہا۔ اس حدیث کو حسن نے احنف بن قیس سے، احنف نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کیا۔ سلیمان (بن حرب) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں یہی بتایا۔ اور مؤمل نے کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب اور یونس اور ہشام اور معلی بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حسن (بصری) سے، حسن نے احنف (بن قیس) سے، احنف نے حضرت ابوبکرہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اور معمر نے بھی ایوب سے اس کو روایت کیا۔ اور بکار بن عبدالعزیز نے بھی اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوبکرہؓ سے اس کو روایت کیا۔ اور غندر نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا ۔ اُنہوں نے منصور سے، منصور نے ربعی بن حراش سے، ربعی نے حضرت ابوبکرہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور سفیان (ثوری) نے منصور (بن معتمر) سے روایت کرتے ہوئے اس کو مرفوعاً بیان نہیں کیا۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ (عبدالرحمٰن بن یزید) بن جابرنے ہمیں بتایا۔ بُسر بن عبیداللہ حضرمی نے مجھ سے بیان کیا کہ اُنہوں نے ابوادریس خولانی سے سنا۔ ابوادریس نے حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلی باتوں کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور میں آپؐ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس ڈرسے کہ وہ شر مجھے آنہ گھیرے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لایا تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شرہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا، کیا اس شر کے بعد بھی کوئی بھلائی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں اور اس میں کچھ نقص بھی ہوگا۔ میں نے کہا:اس میں کیا نقص ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں جو میرے راستے کے سوا کسی اور راستے کی طرف رہنمائی کریں گے۔ ان میں کچھ اچھی باتیں بھی تم دیکھو گے اور بری باتیں بھی پاؤ گے۔ میں نے کہا:کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شرہے؟آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو اُن کی مان کر ان دروازوں کی طرف گیا تو وہ اس کو اُن میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اُن لوگوں کا حال ہمارے لئے بیان فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان میں باتیں کریں گے۔ میں نے کہا تو پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر اس زمانے نے مجھے پالیا ؟ آپؐ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور اُن کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام؟ آپؐ نے فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہنا گو تم درخت کی جڑ ہی کو چباؤ اور ایسی حالت میں تمہیں موت بھی آجائے۔
(تشریح)عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ حیوہ وغیرہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ابوالاسود نے ہمیں بتایا اور لیث نے بھی ابوالاسود سے نقل کیا، کہا: مدینہ والوں کے متعلق بھی ایک فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا اور میرا نام بھی اس فوج میں لکھا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے اُن کو بتایا۔ اُنہوں نے مجھے سختی سے منع کیا اور کہا: حضرت ابن عباسؓ نے مجھے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکوں کے ساتھ رہے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں مشرکوں کی جمیعت بڑھانے کا موجب ہورہے تھے اور تیر آتا ، وہ کسی کو لگتا اور زخمی کرتا اور اس کو مار ڈالتا یا کوئی اس کو تلوار کی ضرب لگاتا اور اُسے مار ڈالتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ جن لوگوں کو ملائکہ نے اس حالت میں وفات دی کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سےبیان کیا۔ اعمش نے زید بن وہب سے روایت کی کہ حضرت حذیفہؓ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائیں۔ ان میں سے ایک کو تو میں نے دیکھ لیا اور دوسری کا میں انتظار کررہا ہوں۔ آپؐ نے ہمیں بتایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی تہ میں نازل ہوئی ۔ پھر اُنہوں نے قرآن سے اس کا علم حاصل کیا ۔ پھر سنت سے معلوم کیا اور آپؐ نے اس امانت کے اٹھائے جانے کے متعلق ہمیں بتایا۔ فرمایا: آدمی ایک نیند سوتا ہے تو امانت دل سے سمیٹ لی جاتی ہے اور پھر اس کا نشان ایک کالے داغ کی طرح رہ جاتا ہے۔ پھر ایک بار سوتا ہے تو وہ اور سمیٹ لی جاتی ہے اور اس کا نشان اس میں آبلہ کے نشان کی طرح رہ جاتا ہے، ایسا جیسے ایک انگارہ تم اپنے پاؤں پر لڑھکا دو اور اس میں آبلہ پھول آئے اور تم اس کو ابھرا ہوا دیکھتے ہو اور اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا اور لوگ صبح کو آپس میں خرید و فروخت کریں گے تو کوئی بھی امانت ادا کرنے کے قریب نہیں ہوگا اور یہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امین شخص ہے اور کسی آدمی کے متعلق کہا جائے گا کیا ہی وہ عقلمند ہے، کیا ہی خوش مزاج آدمی ہے، کیا ہی وہ بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔(حضرت حذیفہؓ کہتے تھے) مجھ پر ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے کہ میں پرواہ نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس سے خریدوفروخت کی اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اس کو میرے پاس واپس لوٹا دیتا اور اگر وہ عیسائی ہوتا تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس واپس لوٹا دیتا۔ آج تو میں سوا فلاں اور فلاں کے کسی سے خریدوفروخت نہیں کرتا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن ابی عبیدسے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت کی کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو وہ کہنے لگا: اکوع کے بیٹے ! کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے ہو۔(یا) بادیہ نشین ہو گئے ہو۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے کہا: نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (شہری) آبادی سے باہر رہنے کی اجازت دی تھی اور یزید بن ابی عبید سے مروی ہے۔ اُنہوں نے کہا: جب حضرت عثمان بن عفانؓ شہید کیے گئے تو حضرت سلمہ بن اکوعؓ ربزہ کی طرف نکل گئے اور وہاں ایک عورت سے نکاح کیا اور اس سے ان کی اولاد ہوئی۔ وہ وہیں رہے اور وفات سے چند راتیں پہلے مدینہ میں آکر قیام کیا۔