بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 89 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثنا میں کہ میں سویا ہوا ہوں کیا دیکھتا ہوں کہ میں کعبہ کا طواف کررہا ہوں ۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندم گوں سیدھے بالوں والا شخص ہے جس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن مریم۔ پھر جو میں مڑنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بھاری بھرکم سرخ رنگ کا شخص ہے گھنگھریالے بالوں والا، آنکھ سے کانا ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ دجال ہے۔ لوگوں میں سے اس سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے جو خزاعہ میں سے ایک شخص تھا۔
عبدالعزیزبن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ اپنی نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے مالک سے، مالک نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے، نعیم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے رستوں پر فرشتے ہیں نہ طاعون اس میں داخل ہوگی اور نہ دجال۔
یحيٰ بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں دجال آئے گا تو وہ فرشتوں کو پائے گا کہ اس کا پہرہ دے رہے ہیں تو انشاء اللہ نہ دجال اس کے قریب پھٹکے گا اور نہ طاعون ۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان کیا۔ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ دیوار اِتنی کھولی جارہی ہے یعنی یاجوج ماجوج کی دیوار اور وہیب نے انگلیوں پر نوے کا عدد شمار کیا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عبدالملک سے، عبدالملک نے ربعی سے، ربعی نے حضرت حذیفہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے دجال کے متعلق فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی۔ اس کی آگ تو ٹھنڈا پانی اور اس کا پانی آگ ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نبی بھی مبعوث کیا گیا اُس نے اپنی اُمت کو جھوٹے کانے کے خطرے سے آگاہ کیا۔ دیکھو ! خیال رکھو وہ کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔ اس حدیث کے متعلق حضرت ابوہریرہ ؓاور حضرت ابن عباسؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک لمبی بات بیان کی منجملہ اس کے جو آپؐ ہم سے بیان کیا کرتے تھے یہ بات بھی ہے آپؐ نے فرمایا: دجال آئے گا اور اس پر حرام ہو گا کہ مدینہ کے راستوں سے داخل ہو تو وہ ان کھاری زمینوں میں سے کسی زمین پر اُترے گا جو مدینہ کے قریب ہیں اور اُس وقت ایک شخص جو عام لوگوں سے بہتر ہو گا یا فرمایا: بہترین لوگوں میں سے ہوگا، نکل کر اس کے پاس جائے گا اور وہ کہے گا میں جانتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا۔ تو دجال کہے گا: بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر میں اس کو مار ڈالوں اور پھر اسے زندہ کروں تو کیا تم اس امر میں شک کرو گے۔ لوگ کہیں گے نہیں۔ چنانچہ وہ اس کو مار ڈالے گا اور پھر اسے زندہ کرے گا اور وہ شخص کہے گا اللہ کی قسم! جتنی بصیرت مجھے آج تمہارے متعلق ہوئی ہے اس سے پہلے نہ تھی۔ دجال چاہے گا کہ اس کو مار ڈالے۔ مگر اس کو اس پر قدرت نہ دی جائے گی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی نیز اسماعیل (بن ابی اویس) نے بھی ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ اُن کے بھائی نے سلیمان سے، اُنہوں نے محمد بن ابی عتیق سے، ابن ابی عتیق نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے اُن کو بتایا۔ اُنہوں نے حضرت اُم حبیبہ بنت ابی سفیانؓ سے، اُنہوں نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس گھبرائے ہوئے آئے۔ آپؐ فرما رہے تھے: اللہ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی ہلاکت ہے اس شر سے جو بالکل نزدیک آن پہنچا۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار کو اس قدر کھولا گیا ہے اور آپؐ نے اپنی دونوں انگلیوں سے یعنی انگوٹھے اور اس سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب بنت جحشؓ کہتی تھیں، میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جبکہ ہمارے درمیان اچھے لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں جب گند بہت ہوجائے گا۔