بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
بشر بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے روایت کی کہ میں نے ابووائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ حضرت اُسامہ (بن زیدؓ) سے کہا گیا۔ کیا آپؓ ان سے گفتگو نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا: میں ان سے گفتگو کرچکا ہوں ۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا دروازہ کھولوں کہ جس کا کھولنے والا میں ہی پہلا ہوں اور میں ایسا شخص بھی نہیں کہ میں کسی آدمی کے متعلق کہ جودو شخصوں پر حاکم ہوچکا ہو یہ کہوں کہ تم سب سے اچھے ہو جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سن چکا ہوں کہ ایک آدمی کو لا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس میں اس طرح چکی چلائے گا جیسے گدھا اپنی چکی چلاتا ہے اور دوزخی اس کے ارد گرد اکٹھے ہوں گے اور پوچھیں گے۔ ارے فلاں ! کیا تم بھلی بات کا حکم نہیں کیا کرتے تھے اور بری بات سے منع نہیں کیا کرتے تھے ؟ تو وہ کہے گا: میں بھلائی کا حکم دیا کرتا تھا اور خود اسے نہیں کیا کرتا تھا اور برائی سے روکا کرتا تھا اور خود اسے کرتا تھا۔
(تشریح)عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا کہ عوف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: اللہ نے جنگ جمل کے دنوں میں ایک بات سے مجھے فائدہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنایا ہے تو آپؐ نے فرمایا: ایسی قوم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنی سیاست ایک عورت کے سپرد کی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی غَنِیَّہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ابووائل سے روایت کی کہ حضرت عمارؓ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے حضرت عائشہؓ کا ذکر کیا اور انکے چلے جانے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں مگر درحقیقت وہ بھی ان آزمائشوں میں سے ایک آزمائش ہیں جو تمہاری کی گئیں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ ابوبکر بن عیاش نے ہم سے بیان کیا۔ابوحصین نے ہمیں بتایا۔ ابومریم عبداللہ بن زیاد اسدی نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: جب حضرت طلحہ ؓاور حضرت زبیرؓ اور حضرت عا ئشہؓ بصرہ کی طرف گئے تو حضرت علیؓ نےحضرت عمار بن یاسرؓ اور حضرت حسن بن علیؓ کو بھیجا اور وہ دونوں کوفہ میں ہمارے پاس آئے اور وہ دونوں منبر پر چڑھے ۔ حضرت حسن بن علیؓ منبر کے اوپر اس کی چوٹی پر تھے اور حضرت عمارؓ حضرت حسنؓ سے نیچے کھڑے ہو گئے۔ہم اُن کے پاس جمع ہوگئے۔ میں نے حضرت عمارؓ کو یہ کہتے سنا کہ حضرت عائشہؓ بصرہ کو روانہ ہو گئی ہیں اور اللہ کی قسم یہ صحیح ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں مگر بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم کو آزمایا ہے تا کہ وہ جانے کیا تم اُس (اللہ) کی فرمانبرداری کرو گے یا اُن (حضرت عائشہؓ) کی۔
بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو(بن مرہ) نے مجھے خبر دی۔ میں نے ابووائل سے سنا وہ کہتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت ابومسعودؓ حضرت عمارؓ کے پاس اس وقت گئے جب حضرت علیؓ نے ان کو کوفہ والوں کی طرف بھیجا تھا کہ اُن کو جنگ کے لئے اکٹھا کریں تو اُن دونوں نے کہا: جب سے کہ تم مسلمان ہوئے ، ہم نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا کہ تم نے اس جلد بازی سے بڑھ کر ہمارے نزدیک کوئی ناپسندیدہ بات کی ہو جو تم اس معاملے میں کررہے ہو تو حضرت عمارؓ نے کہا: جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو میں نے تم سے کبھی کوئی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس دیر سے بڑھ کر میرے نزدیک ناپسندیدہ ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو اور اُنہوں نے ان دونوں کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا پھر وہ مسجد کو چل دئیے۔
بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو(بن مرہ) نے مجھے خبر دی۔ میں نے ابووائل سے سنا وہ کہتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت ابومسعودؓ حضرت عمارؓ کے پاس اس وقت گئے جب حضرت علیؓ نے ان کو کوفہ والوں کی طرف بھیجا تھا کہ اُن کو جنگ کے لئے اکٹھا کریں تو اُن دونوں نے کہا: جب سے کہ تم مسلمان ہوئے ، ہم نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا کہ تم نے اس جلد بازی سے بڑھ کر ہمارے نزدیک کوئی ناپسندیدہ بات کی ہو جو تم اس معاملے میں کررہے ہو تو حضرت عمارؓ نے کہا: جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو میں نے تم سے کبھی کوئی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس دیر سے بڑھ کر میرے نزدیک ناپسندیدہ ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو اور اُنہوں نے ان دونوں کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا پھر وہ مسجد کو چل دئیے۔
بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو(بن مرہ) نے مجھے خبر دی۔ میں نے ابووائل سے سنا وہ کہتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت ابومسعودؓ حضرت عمارؓ کے پاس اس وقت گئے جب حضرت علیؓ نے ان کو کوفہ والوں کی طرف بھیجا تھا کہ اُن کو جنگ کے لئے اکٹھا کریں تو اُن دونوں نے کہا: جب سے کہ تم مسلمان ہوئے ، ہم نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا کہ تم نے اس جلد بازی سے بڑھ کر ہمارے نزدیک کوئی ناپسندیدہ بات کی ہو جو تم اس معاملے میں کررہے ہو تو حضرت عمارؓ نے کہا: جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو میں نے تم سے کبھی کوئی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس دیر سے بڑھ کر میرے نزدیک ناپسندیدہ ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو اور اُنہوں نے ان دونوں کو ایک ایک نیا جوڑا پہنایا پھر وہ مسجد کو چل دئیے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق بن سلمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں حضرت ابومسعودؓ اور حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت عمارؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابومسعودؓ نے کہا: تمہارے ساتھیوں میں سے جتنے بھی ہیں اگر میں چاہوں تمہارے سوا اِن میں سے ہر ایک کا عیب بیان کروں اور جب سے تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے میں نے تم سے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس جلدبازی سے بڑھ کر میرے نزدیک معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کر رہے ہو ۔ حضرت عمارؓ نے کہا:ابو مسعودؓ میں نے نہ تم سے اور نہ تمہارے اس ساتھی سے جب سے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس ڈھیل سے میرے نزدیک بڑھ کر معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو ۔ حضرت ابومسعودؓ نے کہا، اور وہ مالدار تھے۔ اے لڑکے! دو نئے جوڑے لاؤ اور اُنہوں نے اُن میں سے ایک حضرت ابوموسیٰؓ کو دیا اور دوسرا حضرت عمارؓ کو اور کہا یہ پہن کر تم جمعہ کے لئے چلو۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق بن سلمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں حضرت ابومسعودؓ اور حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت عمارؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابومسعودؓ نے کہا: تمہارے ساتھیوں میں سے جتنے بھی ہیں اگر میں چاہوں تمہارے سوا اِن میں سے ہر ایک کا عیب بیان کروں اور جب سے تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے میں نے تم سے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس جلدبازی سے بڑھ کر میرے نزدیک معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کر رہے ہو ۔ حضرت عمارؓ نے کہا:ابو مسعودؓ میں نے نہ تم سے اور نہ تمہارے اس ساتھی سے جب سے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس ڈھیل سے میرے نزدیک بڑھ کر معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو ۔ حضرت ابومسعودؓ نے کہا، اور وہ مالدار تھے۔ اے لڑکے! دو نئے جوڑے لاؤ اور اُنہوں نے اُن میں سے ایک حضرت ابوموسیٰؓ کو دیا اور دوسرا حضرت عمارؓ کو اور کہا یہ پہن کر تم جمعہ کے لئے چلو۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق بن سلمہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں حضرت ابومسعودؓ اور حضرت ابوموسیٰؓ اور حضرت عمارؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابومسعودؓ نے کہا: تمہارے ساتھیوں میں سے جتنے بھی ہیں اگر میں چاہوں تمہارے سوا اِن میں سے ہر ایک کا عیب بیان کروں اور جب سے تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے میں نے تم سے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس جلدبازی سے بڑھ کر میرے نزدیک معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کر رہے ہو ۔ حضرت عمارؓ نے کہا:ابو مسعودؓ میں نے نہ تم سے اور نہ تمہارے اس ساتھی سے جب سے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو تمہاری اس ڈھیل سے میرے نزدیک بڑھ کر معیوب ہو جو تم اس معاملہ میں کررہے ہو ۔ حضرت ابومسعودؓ نے کہا، اور وہ مالدار تھے۔ اے لڑکے! دو نئے جوڑے لاؤ اور اُنہوں نے اُن میں سے ایک حضرت ابوموسیٰؓ کو دیا اور دوسرا حضرت عمارؓ کو اور کہا یہ پہن کر تم جمعہ کے لئے چلو۔
(تشریح)