بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عبداللہ بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سے روایت کی کہ حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جو بھی ان میں ہوتے ہیں پھر وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جاتے ہیں۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے واصل احدب سے، واصل نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: آج کل کے منافق اُن منافقوں سے بدتر ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے اُن دنوں تو وہ چھپاتے تھے اور آج یہ اعلانیہ نفاق کرتے ہیں۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر (بن کدام ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے ابوالشعثاء سے، ابوالشعثاء نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: نفاق تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا مگر آج تو ایمان کے بعد صرف کفر ہی ہے۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابو زناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ایک آدمی دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ نہ کہے۔ اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سےروایت کی۔ اُنہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک کہ دوس کی عورتوں کے کولہے ذوالخلصہ میں نہ مٹکتے پھریں وہ گھڑی برپا نہیں ہوگی اور ذوالخلصہ دوس کا وہ بت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ثور (بن زید دیلی) سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ قحطان کا ایک شخص ظاہر نہ ہوجائے جو لوگوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکے گا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اسرائیل ابوموسیٰ نے ہم سے بیان کیا اور میں ان سے کوفہ میں ملا تھا وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور اُن سے کہنے لگے: مجھے عیسیٰ (بن موسیٰ بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس) کے پاس لے چلیں تا کہ میں اُن کو نصیحت کروں۔ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ابن شبرمہ ابن موسیٰ کے متعلق ڈرے اور ان کو نہیں لے گئے۔ ابوموسیٰ نے کہا۔ حسن (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہا: جب حضرت حسن بن علیؓ فوجیں لے کر معاویہؓ کی طرف چلے تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے معاویہؓ سے کہا: میں تو ایسی فوج دیکھتا ہوں کہ جو اس وقت تک پیٹھ پھیر نے کی نہیں جب تک کہ اس کے مقابل کی دوسری فوج پیٹھ نہ پھیر دے۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: ان مسلمانوں کی اولاد کا کون رہے گا؟ تو حضرت عمروؓ نے کہا: میں۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن عامرؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ نے کہا ہم حضرت حسنؓ سے ملتے ہیں اور اُن کو صلح کے لئے کہتے ہیں۔ حسن (بصری) نے کہا: میں نے حضرت ابوبکرہؓ سے سنا کہتے تھے: اسی اثنا میں کہ نبیﷺ تقریر کر رہے تھے کہ حسنؓ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا عمرو (بن دینار) نے کہا: محمد بن علی نے مجھے بتایا کہ حرملہ جو حضرت اُسامہؓ کے غلام تھے، نے اُنہیں خبر دی۔ عمرو (بن دینار) کہتے تھے اور میں نے حرملہ کو دیکھا ہوا ہے وہ کہتے تھے: حضرت اُسامہؓ نے مجھے حضرت علیؓ کے پاس بھیجا اور کہا: حضرت علیؓ تم سے اب کچھ پوچھیں گے کہیں گے تمہارا ساتھی پیچھے کیوں رہ گیا ہے؟ تو تم اُن سے کہنا کہ اُسامہؓ آپ سے یہ کہتا ہے کہ اگر آپ شیر کے جبڑے میں بھی ہوں تو میں ضرور ہی پسند کروں کہ میں بھی آپ ساتھ اُس میں رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے کہ جو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (حرملہ کہتے تھے:) حضرت علیؓ نے مجھے کچھ نہیں دیا تو میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ اورابن جعفر کے پاس گیا انہوں نے میری اونٹنی میرے لئے لاد دی۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سےروایت کی۔ نافع نے کہا کہ جب مدینہ والوں نے یزید بن معاویہ (کی خلافت) سے دستکش ہونے کا فیصلہ کر لیا تو حضرت ابن عمرؓ نے اپنے خادم اور اپنے بیٹے جمع کئے اور کہنے لگے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قیامت کے دن ہر دغا باز کے لئے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور دیکھو ہم نے اس شخص کی بیعت اللہ اور اُس کے رسول کی بیعت کے موافق کی تھی اور میں اس سے بڑھ کر اور کوئی دغا بازی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے رسول کی بیعت کے مطابق کسی شخص کی بیعت کی جائے پھر اس سے لڑائی چھیڑ دی جائے اور تم میں سے جس کے متعلق بھی مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ خلافت سے الگ ہوا یا اس معاملہ میں کسی دوسرے کی بیعت کی تو میرے اور اس کے درمیان جدائی ہوگی۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوشہاب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عوف سے، عوف نے ابو منہال سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب ابن زیاد اور مروان شام میں تھے اور حضرت ابن زبیرؓ مکہ میں آئے اور قاری (اس وقت یہ لفظ خوارج کے لیے مستعمل تھا)بصرہ میں کود پڑے تو میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ کی طرف چلا گیا ہم اُن کے پاس اُن کے گھر میں گئے اور وہ اپنے بانس کے ایک بالا خانے کے سایہ میں بیٹھے تھے۔ اُن کے پاس جاکر بیٹھے اور میرا باپ مزے لے لے کر باتیں کرنے لگاکہ تا وہ بھی بات کریں اور اُنہوں نے کہا:ابو برزہؓ کیا آپ اس فتنہ کو نہیں دیکھتے جس میں لوگ پڑے ہیں؟ تو پہلی بات جو میں نے اُن کو کہتے ہوئے سنی وہ یہ تھی کہ میں نے اس کو اللہ کے نزدیک موجب ثواب سمجھا ہے کہ میں قریش کے قبیلوں پر ناراض ہوں۔ اے عرب کے لوگو ! تم اس ذلت اور غربت اور گمراہی کی حالت کو جانتے ہی ہو جس میں کہ تم تھے اور اللہ نے تمہیں اسلام کے طفیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بچا کر اس حالت تک پہنچا دیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو اور یہ دنیا ہے جس نے تمہارے درمیان بگاڑ ڈال دیا ہے اور وہ شخص جو شام میں ہے اللہ کی قسم وہ بھی تو صرف دنیا پر لڑرہا ہے اور یہ لوگ جو تمہارے درمیان ہیں بخدا یہ بھی دنیا پر ہی لڑ رہے ہیں اور وہ شخص جو مکہ میں ہے اللہ کی قسم وہ بھی دنیا پر ہی لڑرہا ہے۔