بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ سعید بن مسیب نے کہا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ حجاز کی زمین سے ایک آگ نہ نکلے جو بُصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کردے گی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سےبیان کیا۔ ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ داہنی آنکھ سے کانا ہوگا جیسا کہ وہ پھولے ہوئے انگور کا دانہ ہو۔
سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے،اُنہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال آئے گا اور آکر مدینہ کے قریب ایک طرف اُترے گا پھر مدینہ تین بار لرزہ کھائے گا اور ہر ایک کافر اور منافق نکل کر اس کے پاس جائے گا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے اِن کے دادا سے، اُن کے دادا نے حضرت ابوبکرہؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں مسیح دجال کا رعب داخل نہیں ہو گا اور اس زمانہ میں اس کے سات دروازے ہوں گے ہردروازے پر دو دو فرشتے ہوں گے۔
عبداللہ بن سعید کندی نے ہم سے بیان کیا کہ عُقبہ بن خالد نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ (بن عمر ) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، خبیب نے اپنے دادا حفص بن عاصم سے، اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ فرات سونے کا ایک خزانہ نمودار کرے گا سو جو وہاں موجود ہو تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ عقبہ (بن خالد) نے کہا اور عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو زناد نے ہمیں اسی طرح بتلایا۔ اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی مگر انہوں نے یوں کہا کہ فرات سونے کا ایک پہاڑ نمودار کرے گا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سےروایت کی کہ معبد نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حارثہ بن وہب سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: صدقہ دو کیونکہ لوگوں پر عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے صدقے کو لئے پھرے گا اور کسی کو نہ پائے گاجو اس کو قبول کرے۔ مسدد نے کہا: حارثہ عبیداللہ بن عمر کے ان کی ماں کی طرف سے بھائی تھے، بقول ابو عبد اللہ (امام بخاری) کے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابو زناد نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی برپا نہیں ہو گی جب تک کہ دو بڑے بڑے گروہ آپس میں نہ لڑیں۔اُن دونوں کے درمیان بہت ہی بڑی لڑائی ہوگی۔ اُ ن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور جب تک کہ تیس کے قریب دجال ظاہر نہ ہوجائیں ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور جب تک کہ علم اُٹھا نہ لیا جائے اور زلزلے کثرت سے نہ آئیں اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزر جائے اور فتنے نہ ہو لیں اور قتل و خونریزی بہت نہ ہولے اور جب تک کہ تم میں مال اس کثرت سے نہ ہوجائے کہ وہ (پانی کی طرح) بہنے لگ جائے یہاں تک کہ مال والے کو یہ فکر رہے گی کہ کون اس کا صدقہ قبول کرے گا یہاں تک کہ وہ پیش کرے گااور وہ شخص جس کے سامنے پیش کررہا ہوگا کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اور جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اونچی عمارتیں نہ بنانے لگ جائیں گے اور جب تک کہ یہ نہ ہولے گا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور وہ کہے گا: اے کاش ! میں اس جگہ ہوتا اور جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ کرے وہ گھڑی برپا نہ ہوگی۔ جب سورج ادھر سے چڑھے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو وہ سب کے سب ایمان لائیں گے، سو یہی وہ وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لاچکا ہو یا ایمان لا کر نیک کام نہ کئے ہوں۔ اور وہ گھڑی برپا ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلایا ہوا ہوگا، وہ ابھی ایک دوسرے سے خرید و فروخت نہ کرچکے ہوں گے اور اپنے کپڑے کو لپیٹا نہیں ہوگا۔ اور وہ گھڑی برپا ہوگی اور ایک شخص اپنی دودھیل اونٹنی کا دودھ لے کر لوٹے گا اور ابھی اس کو پیا نہیں ہو گا۔ اور وہ گھڑی برپا ہو جائے گی کہ وہ ابھی اپنا حوض لیپ رہا ہوگا اور ابھی اس میں پانی نہ پلایا ہو گا۔ اور وہ گھڑی برپا ہوجائے گی کہ آدمی اپنا نوالہ اپنے منہ تک اُٹھا چکا ہوگا مگر ابھی اسے کھایا نہ ہو گا ۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا۔ قیس (بن ابی حازم)نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ مجھے کہنے لگے: کسی نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق وہ باتیں نہیں پوچھیں جو میں نے آپؐ سے پوچھی تھیں اور آپؐ نے مجھے فرمایا: تمہیں اُس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ ہوگا اور پانی کا دریا ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: اس سے بڑھ کر بھی بات اللہ پر آسان ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بشر نے ہمیں بتایا۔ مسعر (بن کدام) نے ہم سے بیان کیا۔ سعد بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوبکرہؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں مسیح (دجال)کا رعب نہیں پڑے گا ۔ ان دنوں اس کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو دو فرشتے ہوں گے۔ (محمد بن مسلمہ) کہتے تھے اور ابن اسحاق نے صالح بن ابراہیم سےروایت کرتے ہوئے کہا، صالح نے اپنے باپ سے نقل کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں بصرہ میں آیا تو حضرت ابوبکرہؓ نے مجھ سے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں بھی تم کو اس کے خطرے سے آگاہ کرتا ہوں اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے خطرے سے نہ ڈرایا ہو اور اس کے متعلق میں تم سے ایک بات کہتا ہوں کہ جو بات کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی ۔ دیکھو وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں۔