بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا۔معاذ نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتلا یا۔انھوں نے قتادہ سے روایت کی۔کہتے تھے کہ حضرت انس بن مالک نے ہمیں بتلا یا۔کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو یا دن کو ایک ہی وقت میں اپنی بیویوں کے پاس ہو آتے اور وہ گیارہ تھیں۔کہتے تھے کہ میں نے حضرت انس سے کہا: کیا آپ اس کی طاقت رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ کو میں آدمیوں کی قوت دی گئی ہے اور سعید نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت انس نے انہیں بتلایا کہ نو (۹) بیویاں تھیں۔
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: زائدہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابوحصین سے۔ابوحصین نے ابو عبد الرحمن سے۔انہوں نے حضرت علیؓ سے روایت کی۔کہتے تھے کہ میں ایسا آدمی تھا جس کو مذی کا عارضہ تھا تو میں نے ایک شخص کو بوجہ اس کے کہ آپ کی بیٹی میرے ہاں تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔سے پوچھنے کے لیے کہا: اس نے پوچھا اور آپ نے فرمایا: وضو کرو اور اپنی شرم گاہ دھولو۔
ہم سے آدم ( بن ابی ایاس ) نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حکم نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابراہیم سے۔ابراہیم نے اسود سے۔اسود نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : جیسے کہ میں اب بھی خوشبو کی چمک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں۔حالانکہ آپ احرام کی حالت میں تھے۔
اور (حضرت عائشہ) کہتی تھیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے ہم اکٹھے ہی اس سے پانی چلو بھر بھر کر لیا کرتے تھے۔
(تشریح)ہم سے خلاد بن یحیی نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حسن بن مسلم سے۔حسن نے صفیہ بنت شیبہ سے۔صفیہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ہم میں سے جب کوئی جنسی ہوتی تو وہ اپنے ہاتھوں سے تین بار پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتی پھر اپنے ہاتھ سے اپنے داہنے حصہ پر ڈالتی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بائیں حصہ کو دھوتی۔
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں بتلایا ، انہوں نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا اور ان سے حضرت ابن عمر کا یہ قول ذکر کیا ” مجھے پسند نہیں کہ میں احرام کی حالت میں صبح اٹھوں اور خوشبو سے مہک رہا ہوں۔“ اس پر حضرت عائشہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺلا اللہ کو خوشبو لگائی۔پھر آپ نے اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور پھر صبح احرام باندھا۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے۔ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی وجہ سے غسل فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے اور وضو کرتے جس طرح کہ نماز کے لیے وضو کیا کرتے۔اس کے بعد نہاتے پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بالوں کا خلال کرتے ، یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ آپ نے اپنی جلد اچھی طرح تر کر لی ہے تو آپ اس پر تین بار پانی بہاتے۔پھر اپنا ( باقی ماندہ ) سارا جسم دھوتے۔
ہم سے یوسف بن عیسی نے بیان کیا، کہا: فضل بن موسیٰ نے ہمیں بتلایا، انہوں نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے۔سالم نے حضرت ابن عباس کے مولیٰ کریب سے۔کریب نے حضرت ابن عباس سے۔حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : رسول اللہ نے غسل جنابت کرنے کے لیے پانی رکھا اور اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی دو دفعہ یا تین دفعہ اُنڈیلا۔پھر اپنی شرمگاہ دھوئی۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر یا دیوار پر دو دفعہ یا تین دفعہ ملا۔پھر کلی کی اور ناک میںپانی لیا اور اپنا منہ اور دونوں باز و دھوئے۔پھر اپنے سر پر پانی بہایا۔پھر اپنا جسم دھویا۔اس کے بعد ایک طرف ہو گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔کہتی تھیں کہ پھر میں ایک کپڑا لائی تو آپ نے اسے نہ چاہا اور اپنے ہاتھ سے ( پانی ہو ) جھاڑنے لگے۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی گئی اور صفیں جبکہ لوگ کھڑے ہو گئے سیدھی کی گئیں اور رسول اللہ ہمارے پاس باہر آئے۔جب آپ اپنی نماز کی جگہ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔آپ نے ہمیں فرمایا: اپنی جگہ کھڑے رہو۔( یہ کہہ کر ) آپ واپس چلے گئے۔آپٴ نے غسل کیا۔ پھر ہمارے پاس باہر آئے اور آپ کے سرسے ( پانی کے ) قطرے ٹپک رہے تھے۔آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔عبدالاعلیٰ نے معمر سے۔معمر نے زہری سے بھی اسی طرح یہ (بات) روایت کی اور اوزاعی نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کی۔
(تشریح)ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: ابو حمزہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: میں نے اعمش سے سنا۔وہ سالم ( بن ابی جعد ) سے، سالم کریب سے، کریب حضرت ابن عباس سے روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا: حضرت میمونہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی ہے کے لیے نہانے کا پانی رکھا اور آپ کو ایک کپڑے سے پردہ کیا۔آپ نے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر رکھا اور اسے ملا۔پھر اسے دھویا۔پھر گھی کی اور ناک میں پانی لیا اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں بازوؤں کو دھویا۔اس کے بعد آپ نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے جسم پر (پانی) بہا دیا۔پھر ایک طرف ہو گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔پھر میں نے آپ کو ایک کپڑا دیا تو آپ نے اسے نہ لیا اور آپ چل پڑے۔آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑتے جاتے تھے۔
(تشریح)