بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا: عبد الرزاق نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے معمر سے۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے۔ حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل جنگے نہایا کرتے تھے (اور) وہ ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے اور حضرت موسیٰ اکیلے نہایا کرتے تھے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم موسیٰ کو ہمارے سامنے نہانے سے سوائے اس کے اور کوئی بات نہیں روکتی کہ وہ فتق سے بیمار ہے۔ ایک دفعہ حضرت موسیٰ نہانے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے حجر کے پاس رکھے اور حجر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا تو حضرت موسیٰ اس کے پیچھے دوڑے اور یہ کہتے جاتے تھے: حجر! میرا کپڑا، میرا کپڑا۔ آخر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسی“ کو تو کوئی بیماری نہیں۔ آپ نے اپنے کپڑے (اس سے) لے لیے اور حجر کو مارنے لگے۔ حضرت ابو ہریرۃ نے کہا: اللہ کی قسم اس حجر پر چھ یا سات زخم کے نشان ہیں اس مار کی وجہ سے جو حجر کو پڑی۔
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا: یزید بن زریع نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سعید نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ حضرت انس بن مالک نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی بیویوں کے پاس ہو آتے تھے اور آپ کی اس زمانہ میں نو بیویاں تھیں۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام اور شیبان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو سلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں سویا کرتے تھے کہ آپ جنبی ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور آپ وضو کر لیا کرتے تھے۔
(تشریح)ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے نافع سے۔ نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی اس حالت میں سو جائے کہ وہ جنبی ہو؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ جب تم میں سے کوئی وضو کر لے اور وہ جنبی ہو تو وہ سو سکتا ہے۔
اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت ایوب ننگے نہا رہے تھے کہ سونے کی مکڑیاں ان پر آگریں اور حضرت ایوب انہیں اپنے کپڑے میں لپیں بھر بھر کر ڈالنے لگے۔ اس پر ان کے رب نے انہیں پکارا: ایوب! کیا میں نے تجھے اس سے جس کو تو دیکھ رہا ہے، بے نیاز نہیں کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بے شک تیری عزت کی قسم، لیکن مجھے تیری برکت سے بے نیازی نہیں ہے۔ یہ روایت ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے صفوان بن سلیم سے، صفوان نے عطاء بن یسار سے۔ عطاء نے حضرت ابو ہریرہ سے۔ حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ انہوں نے یوں کہا: اسی اثناء میں کہ حضرت ایوب ننگے نہا رہے تھے۔
(تشریح)عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے۔ مالک نے عمر بن عبید اللہ کے مولیٰ ابو نضر سے روایت کی کہ ابو طالب کی بیٹی حضرت ام ہانی کے مولیٰ ابومرہ نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے ابو طالب کی بیٹی حضرت ام ہانی سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور میں نے آپ کو نہاتے پایا اور حضرت فاطمہ آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں۔ آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو میں نے کہا: ام ہانی ہوں۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: سفیان نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے اعمش سے۔ اعمش نے سالم بن ابی جعد سے۔ ابو جعد نے کریب سے۔ کریب نے حضرت ابن عباس سے۔ حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کو پردہ کیے ہوئے تھی اور آپ غسلِ جنابت فرما رہے تھے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرم گاہ کو اور جو کچھ اسے لگا ہوا تھا اس کو دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر مل لیا۔ پھر آپ نے وضو کیا جیسا کہ نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے۔ آپ نے پاؤں نہیں دھوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے جسم پر پانی ڈالا۔ پھر ایک طرف ہو کر آپ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ ابو عوانہ اور ابن فضیل نے پردہ کرنے کے متعلق انہی کی طرح حدیث بیان کی۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے۔ ہشام نے اپنے باپ سے۔ ان کے باپ نے حضرت ابو سلمہ کی بیٹی حضرت زینب سے۔ حضرت زینب نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: حضرت ابو طلحہ کی بیوی حضرت ام سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت بھی نہائے جب اسے احتلام ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب پانی دیکھے۔
(تشریح)ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حمید نے ہم سے بیان کیا، کہا: بکر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو رافع سے۔ ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستے پر کسی جگہ پر انہیں ملے اور وہ جنبی تھے۔ (وہ کہتے تھے) میں آپ سے جھجک کر پیچھے ہٹا اور پھر وہ گئے اور نہائے اور اس کے بعد آئے تو آپ نے فرمایا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں جنبی تھا اس لیے میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھوں درآنحالیکہ میں ناپاک ہوں۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔
(تشریح)ہم سے عیاش نے بیان کیا، کہا: عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حمید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے بکر سے۔ بکر نے ابو رافع سے۔ ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے اور میں جنبی تھا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ آپ بیٹھ گئے تو میں کھسک کر چلا گیا اور ڈیرے میں آیا اور نہایا۔ اس کے بعد آیا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ میں نے آپ کو بتلایا تو آپ نے فرمایا: سبحان اللہ، ابو ہریرہ! مومن ناپاک نہیں ہوتا۔
(تشریح)