بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسحق ازرق نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوںنے کہا:) سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ میں نے کہا: مجھے نبیﷺ کی ایک بات بتائیں جو آپؓ نے اچھی طرح یاد رکھی ہو۔آٹھویں ذوالحج کو آپؐنے ظہر و عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پوچھا: کوچ کے دن آپؐ نے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح (محصب) میں۔پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: جیسا تمہارے امیر کرتے ہیں تم بھی ویسا ہی کرو۔
آدم نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابواسحق ہمدانی سے روایت ہے ۔ انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں ہمیں نماز پڑھائی اور ہم اس وقت بہت بڑی تعداد میں تھے اور پورے امن میں تھے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن ابی بکرثقفی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا جبکہ وہ دونوںصبح کے وقت منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؓ اس دن کیا کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے لبیک پکارنے والا لبیک پکارتا تو کوئی اس کی یہ بات بُری نہ مانتا اور ہم میں سے تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو کوئی اس کی یہ بات بھی بُری نہ سمجھتا۔
علی (بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے سنا۔ (ابوبکر نے کہا:) عبدالعزیز (بن رفیع) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میں حضرت انسؓ سے ملا اور اسماعیل بن ابان نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں آٹھویں ذوالحج کو منیٰ کی طرف گیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملا۔ ایک گدھے پر سوار جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: نبی ﷺ نے آج کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: دیکھو جہاں تمہارے امیر نماز پڑھیں تم بھی وہیں پڑھو۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھے خبر دی کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے مجھے خبردی کہ ان کے باپ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اسی طرح حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اور حضرت عثمانؓ بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں نماز پڑھی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں۔ پھر اس کے بعد تم میں کئی اختلاف ہوگئے۔ کاش مجھے چار رکعتوں کے بدلے دو رکعتیں نصیب ہوں جو مقبول ہوں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبدالملک نے حجاج کو لکھا کہ وہ حج کے بارہ میں حضرت ابن عمرؓ کے خلاف نہ کرے۔ حضرت ابن عمر ص عرفہ کے دن آئے اور میں ان کے ساتھ ہی تھا؛ اس وقت جبکہ سورج ڈھل چکا تھا اور حجاج کے ڈیرے پر پہنچ کر انہوں نے زور سے آواز دی تو حجاج نکلے اور وہ کسم میں رنگی ہوئی زرد چادر اوڑھے تھے تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن کیا بات ہے؟ تو (حضرت عبداللہ بن عمرؓنے) کہا کہ چلنا ہوگا، اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو حجاج نے کہا: کیا اسی وقت؟ کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اتنی مہلت دیجئے کہ میں سر پر پانی ڈال لوں۔ پھر میں نکلوں گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سواری سے اُترے۔ یہاں تک کہ حجاج باہرآئے اور وہ میرے اور میرے باپ کے درمیان چلنے لگے۔میں نے حجاج سے کہا: اگرآپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر پڑھیں اور وقوف میں جلدی کریں۔ وہ حضرت عبداللہؓ کی طرف دیکھنے لگے۔ جب حضرت عبداللہؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: (سالم نے) سچ کہا ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابونضرسے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام عمیر سے، عمیر نے حضرت ام الفضل بنت حارثؓ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفات کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارہ میں اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ آپؐ روزے سے ہیں اور ان میں سے بعض نے کہا کہ آپؐ روزے سے نہیں۔ تو انہوں نے آپؐ کو دودھ کا پیالہ بھیجا جبکہ آپؐ اپنے اونٹ پر وقوف کی حالت میں تھے۔ آپؐ نے وہ پی لیا۔
اور لیث نے کہا کہ عقیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سالم نے مجھے خبر دی کہ حجاج بن یوسف جس سال حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لئے مکہ میں خیمہ زن ہوئے تو انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفات کے روز آپؓ وقوف کے مقام میں کیا کرتے ہیں؟ تو سالم نے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو پھر عرفات کے دن نماز دوپہر ڈھلنے پر پڑھیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا کہ سالم نے سچ کہا ہے۔ سنت تو یہی ہے کہ وہ ظہر و عصر جمع کیا کرتے تھے۔ (زہری کہتے ہیں کہ) میں نے سالم سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا تو سالم نے کہا کہ آپ لوگ٭ اس مسئلہ میں آپؐ کی سنت کے سوا کسی اور کی پیروی نہیں کرتے۔
(تشریح)