بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو لکھا کہ وہ حج میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی پیروی کریں۔ جب عرفات کا روز ہوا تو (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما جب سورج جھکا یا ڈھل چکا تو حجاج کے خیمہ کے پاس آئے اور میں ان کے ساتھ ہی تھا تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کہاں ہے؟ تو حجاج ان کے پاس آئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ چلنا ہے تو انہوں نے کہا: کیا ابھی؟ فرمایا: ہاں۔ کہا کہ مجھے مہلت دیجئے کہ میں اپنے اوپر پانی ڈال کر نہالوں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اُترے؛ یہاں تک کہ حجاج باہر آئے۔ میرے اور میرے باپ کے درمیان چلنے لگے تو میں نے کہا: اگرآپ آج سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر پڑھیں او ر وقوف میں جلدی کریں۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ (سالم نے) سچ کہا ہے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ جویریہ نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں آکر مغرب وعشاء جمع کیا کرتے تھے۔ لیکن وہ اس گھاٹی سے گذرتے جس گھاٹی کی سمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اختیار کی۔ حضرت عبداللہؓ وہاں جاتے اور حاجت سے فارغ ہوتے اور وضو کرتے اور نماز وہاں نہ پڑھتے۔ مزدلفہ میں آکر پڑھتے۔
کریب نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضلؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر لبیک کہتے رہے۔ یہاں تک کہ آپؐ جمرہ پر پہنچے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) محمد بن جبیر بن مطعم نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے باپ سے مروی ہے (کہ انہوں نے کہا) کہ میں (عرفات کے دن) اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا۔ اور مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا کہ عمرو(بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا۔ انہوں نے اپنے باپ حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا اور میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے لگا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں وقوف کی حالت میں دیکھا۔ میں نے کہا: بخدا آپؐ تو حُمس (یعنی پکے دیندار قریش میں سے) ہیں۔ آپؐ کا یہاں کیا کام؟
فروہ بن ابی مغراء نے ہم سے بیان کیا۔ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا کہ ہشام بن عروہ سے مروی ہے کہ عروہ نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ننگے ہو کر طواف کیا کرتے تھے۔ سوائے حُمس کے اور حمس قریش اوراُن کی اولاد ہیں۔قریش لوگوں کو خدا کے واسطے پہننے کے کپڑے دیا کرتے تھے۔ مرد مرد کو کپڑے دیتا کہ انہیں پہن کر طواف کرے اور عورت عورت کو کپڑے دیتی کہ انہیں پہن کر طواف کرے اور جسے قریشی کپڑے نہ دیتے؛ وہ بیت اللہ کا ننگے ہی طواف کرتا اور سب لوگ (وقوفِ) عرفات سے لوٹتے اور قریش مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے۔ ہشام نے کہا کہ میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ یہ آیت حمس کے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی۔یعنی پھر تم (بھی) وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لَوٹتے ہیں۔ (ہشام نے) کہا کہ وہ مزدلفہ سے لوٹا کرتے تھے تو انہیں عرفات تک جانے کے لئے کہا گیا کہ وہاں سے لوٹا کرو۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت اسامہؓ سے پوچھا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں کس رفتار سے چلتے تھے؛ جب آپؐ عرفات سے لوٹے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپؐ تیز قدم چلتے تھے اور جب آپؐ کھلی جگہ پاتے تو تیز قدم سے بھی زیادہ۔ ہشام نے کہا: نَصَّ تیز قدم سے زیادہ رفتار چلنے کو کہتے ہیں۔ ابو عبد اللہ (بخاریؒ) نے کہا: اور فَجْوَۃٌ کے معنی ہیں کشادہ جگہ اور اس کی جمع فَجَوَاتاور فِجَائٌہے اور اسی طرح رَکْوَۃٌ کی جمع رِکَائٌہے۔ سورئہ صٓ میں جو مَنَاصٌ کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں بھاگنے کا وقت نہیں ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے، کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے لوٹے تو آپؐ ایک گھاٹی کے نشیب میں مڑے اور وہاں آپؐ حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نماز پڑھیں گے؟ تو آپؐ نے فرمایا: نماز آگے چل کر۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابی حرملہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے، کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں گھاٹی پر پہنچے جو کہ مزدلفہ سے ورے ہے تو آپؐ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پیشاب کیا۔ پھر آپؐ آئے تو میں نے آپؐ پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپؐ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز ہوگی؟ فرمایا: نماز آگے چل کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے؛ یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے اور وہاں نماز پڑھی۔ پھر مزدلفہ کی صبح (دسویں ذوالحجہ) حضرت فضل (بن عباسؓ) آپؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سوید نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن ابی عمرو نے مجھ سے بیان کیا جو مطلب کے آزاد کردہ غلام تھے کہ سعید بن جبیر نے جو والبہ کوفی کے آزاد کردہ غلام تھے مجھے خبردی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ عرفہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ (عرفات سے) لوٹے تو نبی ﷺ نے اپنے پیچھے سخت ڈانٹ ڈپٹ، اونٹوں کو مارنے اور آوازوں کا شور سنا تو آپؐ نے ان کو اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا: اے لوگو! آہستگی سے چلو۔ کیونکہ نیکی دوڑ دھوپ سے نہیں حاصل ہوتی۔سورئہ توبہ میں اَوْضَعُوْا آیا ہے، اس کے معنی ہیں کہ تمہارے درمیان ریشہ دوانیاں کریں۔ خِلَالَکُمْ کا لفظ تَخَلُّل سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ وہ تمہارے اندر خلل پیدا کریں اور سورئہ کہف میں جو فَجَّرْنَا خِلَالَھُمَا آیا ہے، اس کے معنی ہیں کہ ان کے درمیان نہر چلائی۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے کریب سے، کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے تو ایک گھاٹی میں اُترے اور پیشاب کیا ۔ پھر وضو کیا اور پورے طور پر وضو نہیں کیا۔ (یعنی ہلکا ساکیا۔) تو میں نے آپؐ سے کہا کہ کیا نماز پڑھی جائے گی؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ نماز آگے چل کر۔ پھر آپؐ مزدلفہ میں آئے اور وضو کیا اور پورے طور پر کیا۔ پھر نماز کے لئے تکبیر اقامت ہوئی اور آپؐ نے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر ہر انسان نے اپنا اونٹ اپنے ٹھکانے میں بٹھایا ۔ پھر نماز (عشائ) کی تکبیر اقامت ہوئی تو آپؐ نے نماز پڑھی۔ ان دونوں کے درمیان نفل نہیں پڑھے۔
(تشریح)