بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں۔ ان میں سے ہر ایک نماز الگ تکبیر کے ساتھ۔ نہ تو ان کے درمیان سنت و نفل پڑھے اور نہ آخر میں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رو ایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے (منیٰ میں) رات کو ہی بھیج دیا۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان نے ہمیں بتایا، کہا: عبیداللہ بن ابی یزید نے مجھے خبر دی ۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات کو اپنے اہل بیت میں سے کمزور لوگوں کے ساتھ پہلے بھیجا تھا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمارہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن (بن یزید) سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کوئی نماز اپنے وقت پر نہ پڑھی ہو؛ سوائے مغرب اور عشاء کی دو نمازوں کے؛ جو آپؐ نے مزدلفہ میں جمع کیں اور صبح کی نمازاپنے وقت سے پہلے پڑھی۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زُھیر نے ہمیں بتایا کہ ابواسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے عبدالرحمن بن یزید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو ہم مزدلفہ میں اس وقت پہنچے جب عشاء کی اذان ہوتی ہے یا اس کے قریب قریب۔ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اذان دی اورتکبیر اقامت کہی۔ پھر مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر انہوں نے رات کا کھانا منگوایا اور کھایا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اذان دی۔ پھر تکبیر اقامت کہی۔ عمرو (بن خالد) نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شک زہیر سے ہوا ہے۔ پھر انہوں نے دو رکعت نمازِ عشاء پڑھی۔ جب صبح نمودار ہوئی تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہی نماز اس دن اس جگہ پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: یہ دونمازیں ہیں جو اپنے معمولی وقت سے ہٹائی گئیں۔ مغرب کی نماز جبکہ لوگ مزدلفہ میں آئیں اور فجر کی نماز جبکہ فجر ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اہل بیت میں سے کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیتے تھے۔ وہ مزدلفہ میں رات کو مشعرالحرام کے قریب ٹھہرتے اور اللہ کا ذکر کرتے جیسا ان کے دل میں آتا۔ پھر واپس لوٹتے، بیشتر اس کے کہ امام وقوف کرتا اور واپس لوٹتا۔ ان میں سے بعض فجر کی نماز کے وقت منٰی میں پہنچتے اور بعض اس کے بعد اور جب وہ پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور لوگوں کے لئے یہ اجازت دی ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت اسمائؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت اسمائؓ سے روایت کی کہ وہ مزدلفہ کی رات مزدلفہ کے قریب اُتریں اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگیں تو ایک گھڑی نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے کہا: بیٹا! کیا چاند ڈوب گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر تھوڑی دیر اور نماز پڑھی۔ پھر کہنے لگیں: کیا چاند ڈوب گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا: اب کوچ کرو۔ تو ہم نے کوچ کیا اور چلے۔ یہاں تک کہ (منیٰ پہنچ کر) کنکریاں پھینکیں۔ پھر لوٹیں اور اپنے پڑائو میں آکر صبح کی نماز پڑھی۔ تو میں نے ان سے کہا: اجی بی بی! میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ہم تاریکی ہی میں ہیں۔ (یعنی صبح نہیں ہوئی) تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دی ہے ۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ افلح بن حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم مزدلفہ میں آئے تو حضرت سودہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے مزدلفہ سے لوٹ جائیں اور وہ تیز نہیں چل سکتی تھیں تو آپؐ نے انہیں اجازت دی۔ تو وہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے روانہ ہوگئیں اور ہم وہاں صبح تک ٹھہرے اور پھر آپؐ کے واپس ہونے پر ہم بھی واپس ہوئے اور اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی جیسا کہ حضرت سودہؓ نے اجازت لی تو یہ بات خوش کن باتوں میں سے میرے لئے بہت پسندیدہ ہوتی۔
(تشریح)