بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
اور سعید (بن ابی عروبہ) نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے اُکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ بھیجا تھا۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن زید سے، ہشام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زہر آلودہ بکری لائی۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ کھایا، }پھر اس عورت کو لایا گیا۔٭ { (آپؐ سے) دریافت کیا گیا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ (حضرت انسؓ کہتے تھے:) میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ اس زہر کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالوئوں میں ہے۔
اور عبدالرحمن بن مبارک نے مجھے بتایا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ ( انہوں نے کہا:) ایوب(سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری مثال اُس برے شخص کی سی نہیں جو اپنے ہبہ سے پھرتا ہے، جیسے کتا قے کرکے چاٹتا ہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ ( ابن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ سے متعلق فیصلہ فرمایا کہ وہ اسی کا ہے جسے دیا گیا تھا۔
ابو النعمان نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ دیکھا تو ایک شخص کے پاس ایک صاع یا اس کے قریب قریب کچھ آٹا ہے۔ وہ گوند ھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک شخص پراگندہ بال،دراز قامت بکریاں ہانکتا ہوا پہنچا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:بیچنی ہیں یا یونہی دینی ہیں۔ عطیہ کا لفظ فرمایا یا ہبہ کا۔ اس نے کہا: یونہی نہیں بلکہ بیچنی ہیں۔ تو آپؐ نے اس سے ایک بکری خریدی۔ وہ ذبح کرکے پکانے کے لئے تیار کی گئی۔ آپؐ نے فرمایا: کلیجی بھونی جائے اور بخدا ایک سوتیس آدمیوں میں ایک بھی نہ تھا جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی کلیجی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو۔ اگر کوئی موجود تھا تو اسے دے دیااور اگر موجود نہ تھا تو آپؐ نے اس کے لئے محفوظ کرلیا اور اس کے گوشت سے دو بڑے بڑے پیالے تیار کئے گئے اور سب نے کھایا اور ہم سیر ہوگئے اور دونوں پیالوں میں گوشت بچ رہا۔ ہم نے اس کو اُونٹ پر رکھ لیا یا کچھ ایسے ہی الفاظ تھے جو راوی نے کہے۔
(تشریح)خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن دینار نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓنے ایک شخص (عطارد بن حاجب) کے پاس ایک ریشمی جوڑا دیکھا جو فروخت کیا جا رہا تھاتو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:آپؐ یہ ریشمی جوڑا خریدلیں، اسے جمعہ کے دن پہنا کریں اور اس وقت بھی جب آپؐ کے پاس نمائندے آئیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: یہ تو وہی پہنتا ہے جو آخرت میں بے نصیب ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ویسے ہی ریشمی جوڑے لائے گئے تو آپؐ نے اُن میں سے ایک جوڑا حضرت عمرؓ کو بھیجا۔حضرت عمرؓ نے کہا: میں اسے کیسے پہنوں؛ حالانکہ آپؐ اس کی نسبت فرماچکے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو۔ تم اسے بیچ لو یا کسی اور کو پہنا دو، تو حضرت عمرؓ نے اسے اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو ابھی تک مکہ والوں میں ہی تھا، ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیاکہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ ابھی مشرک ہی تھیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا۔ میں نے کہا: میری والدہ شوق سے میرے پاس آئی ہیں۔ کیا میں ان سے نیک سلوک کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اپنی والدہ سے نیک سلوک کرو۔
(تشریح)یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے لئے دیا تو جس کے پاس وہ تھا اس نے اس کو خراب کردیا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ اس سے وہ خرید لوں اور میں نے خیال کیا کہ وہ اس کو سستا ہی فروخت کرے گا۔ میں نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: اسے نہ خریدیں اگر چہ وہ تمہیں ایک درہم پر ہی کیوں نہ دے کیونکہ اپنے صدقہ میں لَوٹنے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیاکہ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج نے انہیں بتایا۔ کہتے تھے: عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا کہ ابن٭جد عان کے آزاد کردہ غلام صہیب کے بیٹوں نے خواب گاہ کے دو کمروں اور ایک کوٹھڑی کا دعویٰ کیا۔ اس بنا پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صہیب کو دئیے تھے تو مروان نے کہا: تمہارے لئے اس بات کی کوئی گواہی دے گا؟ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ۔ مروان نے ان کو بلایا اور انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب کو یقینا دو سونے کے کمرے اور ایک کوٹھڑی دی تھی۔ چنانچہ مروان نے حضرت عبداللہ ؓ کی شہادت کی بناء پر اُن کے حق میں فیصلہ کردیا۔
(تشریح)