بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
حفص بن عمر نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا، کہا: نضر بن انس نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: عمریٰ ( یعنی عمر بھر کے لئے کسی کو گھر دینا ) جائز ہے۔ اور عطاء (بن ابی رباح) نے بھی کہا کہ حضرت جابرؓ نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ سے اس طرح مروی ہے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد بن اَیمن نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا ۔ کہتے تھے: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اندر گیا اور وہ موٹے کپڑے کی ایک قمیض پہنے ہوئے تھیں جس کی پانچ درہم قیمت ہوگی۔ حضرت عائشہؓ نے (مجھ سے) کہا: میری لونڈی کی طرف دیکھو؛ وہ یہ قمیص گھر میں پہننے سے نخرہ کرتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی میرے پاس ایسی ایک قمیص تھی۔ مدینہ میں جس عورت کو بھی عروسی کے بنائو سنگھار کی ضرورت ہوتی؛ وہ مجھ سے یہ قمیص عاریتاً منگواتی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دودھیل اُونٹنی جو خوب دودھ دے، اس کا دینا بھی کیا ہی اچھا عطیہ ہے اوراسی طرح وہ بکری بھی جو خوب دودھ دے۔ صبح کو بھی باہر جاتے جاتے ایک برتن بھرکر دیتی ہو اور شام کو بھی واپس آکر ایک برتن بھرکر دودھ دے۔ عبداللہ بن یوسف اور اسماعیل( بن ابی اویس) نے ہمیں بتایا۔ مالک سے یہی روایت نقل کی ہے ۔ انہوں نے (’’کیا ہی اچھا عطیہ ‘‘کی جگہ) یہ کہا: کیا ہی اچھا صدقہ ہے۔ طرفہُ: ۵۶۰۸
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ ابن وہب نے ہمیں خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب مہاجر مکہ سے مدینہ آئے اور ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا اور انصار زمین اور جائیداد والے تھے تو انصار نے ان سے معاہدہ کیا کہ وہ ان کو اپنے باغوں کا میوہ ہر سال دیا کریں گے۔ لیکن ان میں کام کاج وہ خود ہی کریں گے۔ (مہاجرین کو نہیں کرنے دیں گے۔) حضرت انسؓ کی ماں حضرت امّ سلیمؓ تھیں جو حضرت عبداللہ بن ابی طلحہؓ کی بھی ماں تھیں تو حضرت انسؓ کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کھجور کے درخت دئیے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخت اپنی کھلائی حضرت امّ اَیمنؓ کو دے دئیے۔ جو حضرت اُسامہ بن زیدؓ کی ماں تھیں۔ ابن شہاب کہتے تھے: مجھے حضرت انسؓ بن مالک نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اہل خیبر کی لڑائی سے فارغ ہوئے اور مدینہ کو لَوٹ گئے، تو مہاجرین نے انصار کے وہ عطیے واپس کردئیے۔ یعنی وہ پھلدار درخت }جو انہوں نے ان کو اپنے باغوں سے دئیے تھے۔٭{نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت انسؓ کی ماں کو ان کی کھجوریں واپس کردیں اور ان کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امّ ایمنؓ کو اپنے باغ سے کچھ درخت دئیے۔ اور احمد بن شبیب کہتے تھے: میرے باپ نے بھی یونس سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہی بات بتائی اور مِنْ حَائِطِہِ کی بجائے مِنْ خَالِصِہِ کے الفاظ کہے: یعنی اپنی خاص جائیداد سے۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہم سے بیان کیا۔ اوزاعی نے ہمیں بتایا کہ حسان بن عطیہ نے ابوکبشہ سلولی سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی خصلتیں چالیس ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ خصلت دودھیل بکری کو عاریتاً دینا ہے۔ جو بھی عمل کرنے والا ان خصلتوں میں سے کسی خصلت پر بھی عمل کرتا ہے بحالیکہ اس کے ثواب کی اُمید اور اس وعدۂ ثواب کو سچا جانتا ہے جو اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے تو اللہ اسے اس کے اس امید و یقین کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔ حسان کہتے تھے: ہم نے دودھیل بکری کے عطیہ کے سوا دوسری خصلتوں کا شمار کیا۔ جیسے سلام کا جواب دینا اور چھینکنے پر دعا کرنا اور راستہ سے تکلیف دِہ چیز ہٹانا۔ اس طرح کی اور باتیں بھی۔ لیکن ہم سے پندرہ خصلتوں تک ہی گنتی پوری ہوسکی۔
اور محمد بن یوسف (امام بخاریؒ کے شیخ) نے کہا: اوزاعی نے ہم سے (اسی سند سے) کہا کہ زُہری نے مجھے بتایا۔ (انہوں نے کہا:)عطاء بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوسعیدؓ (خدری) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بدوی آیا۔ اس نے آپؐ سے ہجرت کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: ہجرت کا معاملہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ اُونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کی زکوٰۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کسی کو دودھ پینے کے لئے بھی جانور دیتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر آپؐ نے دریافت فرمایا: کیا ان اُونٹوں کو پانی پلاتے وقت دوہتے ہو (اور محتاجوں کو ان کا دودھ پلاتے ہو؟) اُس نے کہا: جی ہاں۔ تب آپؐ نے فرمایا: پھر تم سمندروں سے پار رَہ کر بھی عمل کرتے رہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا ثواب دینے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کرے گا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے طائوس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:مجھ سے اس نے بیان کیا جو اس بات کو اُن تمام (صحابہؓ) میں سے بڑھ کر جاننے والا تھا یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی ﷺ ایسی زمین کی طرف گئے جس میں کھیتی لہلہا رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: کس کی ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فلاں شخص نے یہ زمین پٹہ پر لی ہوئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر زمین کا مالک اس زمین کو اسے یونہی دے دیتا تو یہ اس کیلئے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ وہ اس پر مقررہ لگان لیتا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑ حضرت سارہؑ کولے کر اپنے وطن سے ہجرت کر گئے۔ ( پھر ظالم بادشاہ کا قصہ بیان کیا یہاں تک کہ) آخر انہوں نے حضرت ہاجرہؑ حضرت سارہؑ کو دی اور وہ واپس آئیں اور انہوں نے (حضرت ابراہیم ؑسے) کہا کہ آپؑ کو معلوم ہے کہ اللہ نے اس کافر کو ذلیل و خوار کیا اور اس نے ایک لونڈی بھی خدمت کے لئے دی۔ اور ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یوں نقل کیا کہ اس نے حضرت ہاجرہؑ حضرت سارہؑ کو خدمت کے لئے دی۔
(تشریح)