بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن داؤد نے ہمیں بتایا۔ فضیل بن غزوان نے ہم سے بیان کیا۔ فضیل نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو ایسی حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو اور آدمی جب چوری کرتا ہے تو ایسی حالت میں چوری نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ اعمش نے ہم سےبیان کیا۔ اعمش نے کہا: میں نے ابوصالح سے سنا۔ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: اللہ چور کو اپنی رحمت سے دور رکھے کہ وہ انڈا چراتا ہے اور اُس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور وہ رسّی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اعمش نے کہا: لوگ سمجھتے تھے کہ بیضہ سے مراد لوہے کا خود ہے اور حبل سے مراد وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسّی ہے جو کئی درہموں کی قمیت کی ہو۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے، زہری نے ابوادریس خولانی سے، اُنہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: ہم ایک مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کا کسی چیز کو بھی شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور نہ تم چوری کرو گے اورنہ زنا کرو گے اور آپؐ نے یہ آیت (يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ…)ساری پڑھی۔ سو جس نے تم میں سے اس عہد کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اور جس نے ان میں سے کوئی گناہ کیا اور اس کی وجہ سے اس کو سزا دی گئی تو وہ سزا اس کے گناہ کا کفارہ ہوگی اور جس نے ان میں سے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تو اگر وہ چاہے اس پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اس سے درگزر کر دے اور اگر چاہے اس کو سزا دے۔
محمد بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عاصم بن علی نے ہمیں بتایا۔ عاصم بن محمد نے ہم سےبیان کیا۔ عاصم نے واقد بن محمد سے روایت کی۔ (اُنہوں نے کہا:) میں نے اپنے باپ (محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر) سے سنا کہ حضرت عبداللہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: سنو ! کون سا مہینہ ہے جسے تم عزت میں سب سے بڑا جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا: کیا یہی ہمارا مہینہ نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بتلاؤ، کون سا شہر ہے جسے تم عزت میں سب سے بڑا جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا: کیا ہمارا یہی شہر نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بتلاؤ، کون سا دن ہے جسے تم عزت میں سب سے بڑا جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا: کیا ہمارا یہی دن نہیں؟ آپؐ نے فرمایا تو پھر دیکھو ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے خونوں کو اور تمہارے مالوں کو اور تمہاری عزتوں کو تم پر اسی طرح معزز کر دیا ہے جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینہ میں معزز ہیں، سوائے اس کے کہ جائز طور پر۔ سنو ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ تین بار آپؐ نے یہی فرمایا اورہر بار لوگ آپؐ کو یہی جواب دیتے تھے۔ کیوں نہیں ہاں، (آپؐ نے پہنچا دیا۔) آپؐ نے فرمایا: تم پر افسوس یا فرمایا: تم پر وائے، کہیں میرے بعد پھر کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن اڑاتے پھرو۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو باتوں کے متعلق اختیار دیا گیا تو آپؐ نے ان میں سے آسان کو ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہوتا۔ اگر گناہ ہوتا تو آپؐ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم ! آپؐ نے اپنی ذات کے لئے کبھی بھی کسی معاملہ میں بدلہ نہیں لیا جو آپؐ سے کیا جاتا ۔ مگر جب اللہ کی حرمتوں کی ہتک کی جاتی تو پھر آپؐ اللہ کے لئے بدلہ لیتے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت اُسامہ (بن زیدؓ)نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق سفارش کی۔ آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے جو تھے وہ اسی لئے ہلاک ہوئے کہ وہ ادنیٰ پر تو سزا کو جاری کیا کرتے تھے اور اعلیٰ کو چھوڑ دیتے تھے اور اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمؓہ یہ کرتی تو میں ضرور اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔
(تشریح)سعید بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اُس مخزومی عورت نے قریش کو فکر میں ڈال دیا تھا، جس نے چوری کی تھی تو اُنہوں نے کہا: اُسامہؓ کے سوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کون بات کرے گا اور کون آپؐ کے سامنے جرأت کرے گا؟ تو اُسامہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدوں میں سے کسی حد کے متعلق سفارش کرتے ہو؟ اس کے بعد آپؐ کھڑے ہوکر لوگوں سے مخاطب ہوئے، فرمایا: اے لوگو ! تم سے جو پہلے تھے وہ اسی لئے گمراہ ہوئے کہ اُن کی عادت تھی کہ جب کوئی بڑا چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے غریب چوری کرتا تو وہ اس پر سزا کو نافذ کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو محمدؐ اس کے ہاتھ کو بھی کاٹ ڈالے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ چرانے کی وجہ سے ہاتھ کاٹا جائے۔ (ابراہیم بن سعد کی طرح) عبدالرحمٰن بن خالد اور زہری کے بھتیجے اور معمر نے بھی زہری سے اِسے روایت کیا۔
عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ حسین (معلم) نے ہم سےبیان کیا۔ حسین نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری سے، اُنہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سےروایت کی کہ عمرہ نے اُن سے یہ بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُنہیں بتایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا: چوتھائی دینار کی وجہ سے بھی ہاتھ کاٹا جائے۔