بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 89 hadith
عیاش بن ولید نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ (بن عبدالاعلیٰ) نے ہمیں بتایا۔ معمر (بن راشد) نے ہم سےبیان کیا۔ معمر نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو غلہ بغیرماپ تول کے خریدنے اور اپنے ٹھکانوں میں پہنچنے سے پہلے بیچنے پر سزا دی جاتی تھی۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سےروایت کی کہ عروہ نے مجھے بتایا۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی معاملہ میں جو آپؐ کی ذات سے متعلق ہوتا انتقام نہیں لیا۔ جب اللہ کی حرمتوں کی ہتک کی جاتی تو آپؐ اللہ کے لئے انتقام لیتے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے فضیل بن غزوان سے، فضیل نے (عبدالرحمٰن) بن ابی نُعم سے، اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے اپنے غلام لونڈی کو زنا سے متہم کیا جبکہ وہ اس بہتان سے بری ہے جو اُس نے باندھا تو قیامت کے دن اُسے کوڑے لگائے جائیں گے سوائے اس کے کہ وہ ایسا ہو جیسا اُس نے کہا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے حضرت سہل بن سعدؓ سے نقل کیا کہ اُنہوں نے کہا: میں نے دو لعان کرنے والوں (عورت اور مرد) کو دیکھا اور میں اس وقت پندرہ برس کا تھا۔ اُن دونوں میں علیحدگی کرا دی گئی ۔ اس عورت کے خاوند نے کہا: اگر میں نے اس کو رکھا تو میں نے اس کے متعلق جھوٹ کہا: سفیان نے کہا: میں نے یہ حدیث زہری سے یاد رکھی کہ (آپؐ نے فرمایا:) اگر یہ ایسا ایسا بچہ جنی تو وہ سچا ہے اور اگر یہ ایسا ایسا بچہ جنی گویا کہ وہ رنگ میں گرگٹ ہے تو وہ جھوٹا ہے اور میں نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے: وہ اسی کے مشابہ بچہ جنی جس کی شکل مکروہ تھی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابوزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوزناد نے قاسم بن محمد سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے لعان کرنے والے مرد اور عورت کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد نے پوچھا: کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بغیر ثبوت کے سنگسار کرنے والا ہوتا تو اس کو کرتا؟ اُنہوں نے کہا: نہیں وہ ایک اور عورت تھی جو کھلے عام بدکاری کی مرتکب ہوئی تھی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا گیا تو عاصم بن عدی نے اس کے متعلق ایک بات کہی اور کہہ کر لوٹ گئے اور اُن کی قوم میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا ہے۔ حضرت عاصمؓ نے کہا: میں اپنی اس بات کی وجہ سے ہی اس میں مبتلا ہوا ہوں اور وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو اس شخص نے آپؐ سے اس آدمی کے متعلق بیان کیا جسے اس نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا اور یہ شخص زرد رنگ کا دبلا سیدھے بالوں والا تھا اور جس آدمی کے متعلق اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ ، سڈول، پُرگوشت جسم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ اصل حقیقت کھول دے۔ تو وہ اُس مرد کے ہمشکل جنی جس کے متعلق اس کے خاوند نے ذکر کیا تھا کہ اس نے اس کو اس کے پاس دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ یہ سن کر ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے اسی مجلس میں پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر بغیر ثبوت کے میں کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نہیں وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں ہوکر کھلے طور پر بدکاری کرتی تھی۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث (سالم) سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ کیا گناہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور اُس نفس کو قتل کرنا جس کاقتل اللہ نے حرام کیا ہے سوائے اِس کے کہ جائز طور پر اُسے قتل کیا جائے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور انجان پاکدامن مؤمن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زُہری سے، زُہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ نے ضرور ہی ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرناہے۔ اس کا مخالف کھڑا ہوا اور وہ اُس سے زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا: اس نے سچ کہا، اللہ کی کتاب کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور مجھے اجازت دیں یا رسول اللہ کہ میں بیان کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ اُس نے کہا: میرا بیٹا اِس شخص کے گھر والوں کے پاس ملازم تھا تو اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ تو میں نے ایک سو بکری اور ایک نوکر دے کر اِس سے اُس کو چھڑا لیا اور میں نے اہل علم میں سے کئی لوگوں سے مسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور اُسے ایک سال کے لئے جلاوطن کرنا چاہیئے اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کرنا چاہیئے۔ آپؐ نے سن کر فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں کتاب اللہ کے مطابق ہی تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ ایک سو بکری اور وہ نوکر تمہیں واپس ملے گا اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے اُسے جلا وطن کردیا جائے اور اے اُنیسؓ! کل صبح تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کردو۔ چنانچہ اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زُہری سے، زُہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ نے ضرور ہی ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرناہے۔ اس کا مخالف کھڑا ہوا اور وہ اُس سے زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا: اس نے سچ کہا، اللہ کی کتاب کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور مجھے اجازت دیں یا رسول اللہ کہ میں بیان کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ اُس نے کہا: میرا بیٹا اِس شخص کے گھر والوں کے پاس ملازم تھا تو اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ تو میں نے ایک سو بکری اور ایک نوکر دے کر اِس سے اُس کو چھڑا لیا اور میں نے اہل علم میں سے کئی لوگوں سے مسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور اُسے ایک سال کے لئے جلاوطن کرنا چاہیئے اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کرنا چاہیئے۔ آپؐ نے سن کر فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں کتاب اللہ کے مطابق ہی تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ ایک سو بکری اور وہ نوکر تمہیں واپس ملے گا اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے اُسے جلا وطن کردیا جائے اور اے اُنیسؓ! کل صبح تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کردو۔ چنانچہ اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔