بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرت عائشہؓ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ صرف ڈھال کی قیمت کے بدلے میں ہی کاٹا گیا تھا۔ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی ڈھال۔ عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
یوسف بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپؓ فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ڈھال کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا خواہ وہ لوہے کی ڈھال ہو یا چمڑے کی ڈھال اور ان میں سے ہر ایک قیمتی تھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر ؓسے روایت کی وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی وجہ سے ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے کہا: نافع نے مجھ سےبیان کیا۔ نافع نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی وجہ سے ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے کہا: میں نے ابو صالح سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ چور کو اپنی رحمت سے دور کرے۔ وہ انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسّی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: چمڑے کی ڈھال یا لوہے کی ڈھال سے کم قیمت کی چیز میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔ اِن میں سے ہر ایک ڈھال قیمتی ہوتی۔ اس حدیث کو وکیع اور ابن ادریس نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے مُرسل روایت کیا۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ ابوضمرہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی وجہ سے کہ جس کی قیمت تین درہم تھی ایک چور کا ہاتھ کاٹا۔محمد بن اسحاق نے بھی اس کو روایت کیا اور لیث نے کہا: مجھ سے نافع نے (بجائے ثَمَنُهُ کے) قِيمَتُهُ بیان کیا۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں:اور اِس کے بعد وہ آیا کرتی تو میں اس کی ضرورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتی اس نے توبہ کی تھی اور اس کی توبہ اچھی طرح ہوئی۔
عبداللہ بن محمد (جعفی)نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زہری سے، زہری نے ابوادریس (خولانی) سے، ابوادریس نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک جماعت کے ساتھ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اور نہ تم چوری کرو اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو اور نہ تم بہتان باندھو جسے تم اپنے سامنے دیکھتے بھالتے گھڑو اور بھلی بات میں میری نافرمانی نہ کرو۔ سو جس نے تم میں سے اس عہد کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا اور جس نے ان میں سے کوئی گناہ کیا اور دنیا میں اس کی وجہ سے اس کو پکڑا گیا تو یہ اس کے لئے کفارہ ہو گا اور اس کو گناہ سے پاک کرنے کا موجب ہو گا اور جس کی اللہ نے پردہ پوشی کی تو اُس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اگر چاہے تو اُس کو سزا دے اگر چاہے تو اس کی پردہ داری کرتے ہوئے اس سے درگزر کر دے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا: اگر چور اپنے ہاتھ کاٹے جانے کے بعد توبہ کرلے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی اور اسی طرح ہر سزا یافتہ جب توبہ کرلے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔