بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا ابوقلابہ جرمی نے مجھ سے بیان کیا۔ ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: عکل کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے۔ پھر اُنہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا تو آپؐ نے اُن سے فرمایا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں میں چلے جائیں اور اُن کے پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ تندرست ہوگئے۔ پھر وہ مرتد ہوگئے اور چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپؐ نے اُن کے پیچھے سوار بھیجے اور اُن کو پکڑ کر لایا گیا تو آپؐ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا ڈالے اور اُن کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں۔ پھر اُن کے زخموں کو(خون بند کرنے کے لیے) نہیں داغا اور وہ اِسی طرح مر گئے۔
(تشریح)محمد بن صلت ابویعلیٰ (توزی)نے ہم سے بیان کیا کہ ولید (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ اوزاعی نے مجھ سے بیان کیا۔ اوزاعی نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ کے لوگوں کے ہاتھ کٹوائے اور (خون بند کرنے کے لئے) اُن کو نہیں داغا یہاں تک کہ وہ اسی طرح مرگئے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیا ن کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ذکوان سے، ذکوان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو ایسی حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو، اور آدمی جب چوری کرتا ہے تو ایسی حالت میں نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو، اور جب شراب پیتا ہے تو ایسی حالت میں نہیں پیتا کہ وہ مؤمن ہو اور اس کے بعد بھی توبہ میسر ہوتی ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے وہیب (بن خالد) سے، وہیب نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: عکل کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ صفہ میں ٹھہرے اور اُنہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا۔ اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ہمیں دودھ منگوادیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے لیے یہی مناسب پاتا ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اونٹوں میں آئے اور اُنہوں نے اُن کے دودھ اور پیشاب پیے یہاں تک کہ وہ تندرست ہوگئے اور موٹے ہوگئے اور اُنہوں نے چرواہے کو مار ڈالا اوراونٹ ہانک کر لے گئے۔ اس پر فریادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپؐ نے تعاقب کرنے والوں کو اُن کے پیچھے بھیج دیا۔ تو ابھی دن اچھی طرح نہیں چڑھا تھا کہ اُن کو لے آئے۔ آپؐ نے سلائیاں گرم کرنے کا حکم دیا جو گرم کی گئیں اور پھر آپؐ نے اُن کی آنکھوں میں پھرائیں اور اُن کے ہاتھ اور پاؤں کٹواڈالے اور (خون بند کرنے کے لئے) اُن کو داغا نہیں۔ پھر وہ پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے، پانی مانگتے تھے اور اُنہیں پانی نہیں دیا گیا یہاں تک کہ اسی طرح مرگئے۔ ابو قلابہ کہتے تھے: اُنہوں نے چوری کی، قتل کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابو قلابہ سے، اُنہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ کچھ لوگ عکل کے یا کہا عرینہ کے اور میں یہی جانتا ہوں انہوں نے یہی کہا عکل کے لوگ مدینہ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں چند دودھیل اونٹنیوں کے متعلق حکم دیا اور اُن کو فرمایا کہ وہ جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ اچھے ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ تو صبح سویرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی اور آپؐ نے تعاقب کرنے والوں کو اُن کے پیچھے بھیج دیا۔ دن ابھی نہیں چڑھا تھا کہ انہیں لایا گیا۔ آپؐ نے اُن کے متعلق حکم دیا اور اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور ان کی آنکھ میں سلائیاں پھروا دیں، پتھریلی زمین میں وہ ڈال دئیے گئے، پانی مانگتے تھے اور انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چوری کی، قتل کیااور اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا سات آدمی ہیں جنہیں اللہ قیامت کے دن اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن کہ اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ ایک عادل امام اور ایک نوجوان جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ہو اور ایک وہ شخص جس نے خلوت میں اللہ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑیں اور ایک وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے اور دو وہ شخص جنہوں نے اللہ ہی کے لئے آپس میں محبت رکھی اور ایک وہ شخص جس کو عالی خاندان اور خوبصورت عورت نے اپنے ساتھ بدی کرنے کے لئے بلایا اور اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور ایک وہ شخص جس نے صدقہ کیا اور اس نے اس کو چھپایا یہاں تک کہ اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا۔
داؤد بن شبیب نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے ہم سے بیان کیا۔ ہمام نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انسؓ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا جو میرے بعد تم سے کوئی بھی (یہ کہہ کر )بیان نہیں کرے گاکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سنا۔ (حضرت انسؓ نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپؐ فرما رہے تھے وہ گھڑی نہیں برپا ہوگی یا فرمایا اس گھڑی کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اُٹھا لیا جائے گااور جہالت کا غلبہ ہوگا اور شراب پی جائے گی اور زنا کثرت سے ہو گا اور مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ ہوں گی۔ یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی سرپرست ہو گا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیاکہ اسحاق بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ فضیل بن غزوان نے ہمیں خبر دی ۔ فضیل نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب زنا کرتا ہے تو اس حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو، اور جب وہ چوری کرتا ہے تو ایسی حالت میں چوری نہیں کرتا کہ وہ مؤمن ہو، اور جب وہ شراب پیتا ہے تو ایسی حالت میں شراب نہیں پیتا کہ وہ مؤمن ہو اور نہ ایسی حالت میں قتل کرتا ہے کہ وہ مؤمن ہو۔ عکرمہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: اس سے ایمان کیسے چھین لیا جاتا ہے؟ اُنہوں نے کہا: اس طرح، اور انہوں نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا پھر نکال لیں اور اگر وہ توبہ کرے تو ایمان اس کی طرف اس طرح لوٹ آتا ہے اور اُنہوں نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ منصور اور سلیمان نے مجھے بتایا۔ ان دونوں نے ابووائل سے، ابووائل نے ابومیسرہ سے، ابومیسرہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا۔ میں نے کہا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس لئے مار ڈالو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھائے۔ میں نے کہا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ یحيٰ نے کہا: اور ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ واصل (بن حیان) نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ !… پھر اسی طرح نقل کیا۔ عمرو (بن علی فلاس) نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن (بن مہدی) سے اس حدیث کا ذکر کیا اور عبدالرحمٰن نے یہ حدیث یوں بیان کی تھی کہ سفیان سے مروی ہے۔ انہوں نے اعمش اور منصور اور واصل سے، انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے ابومیسرہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: اس سند کو بھی رہنے دو۔