بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
اور لیث نے عمرو بن حارث سے یوں نقل کیا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن جعفر بن زبیر سے، اُنہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، عباد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک شخص مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اور کہنے لگا: میں جل گیا۔ آپؐ نے فرمایا: کس سے جل گیا؟ وہ بولا ۔ رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: صدقہ دو۔ وہ کہنے لگا: میرے پاس تو کچھ نہیں اور یہ کہہ کر بیٹھ گیا اور آپؐ کے پاس ایک شخص گدھا ہانکتے ہوئے آیا۔ اس کے ساتھ کھانے کی کوئی چیز تھی۔ عبدالرحمٰن نے کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو آپؐ نے پوچھا: وہ جلنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں یہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے لو اور اس کو صدقہ میں دے دو۔ اس نے کہا: کیا اس کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو ؟ میرے گھر والوں کے پاس تو کھانے کو کوئی چیز نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم ہی اسے کھاؤ ۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا: پہلی حدیث زیادہ واضح ہے یعنی اپنے گھروالوں کو کھلاؤ۔
ابن شہاب نے کہا: مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابرؓسے سنا، وہ کہتے تھے: میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اس پر پتھر پھینکے۔ ہم نے عیدگاہ میں اس کو سنگسار کیا۔ جب پتھروں نے اس کو بے قرار کیا تو دوڑ پڑا۔ ہم نے حَرّہ میں جاکر اس کو پکڑ لیا اور پھر اس کو سنگسار کردیا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن ابی سلمہ) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں خبر دی۔ ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ اس شخص کے متعلق جس نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ نہ ہو ایک سو کوڑے لگائے جانے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کرنے کا حکم دیتے تھے۔
عبدالقدوس بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن عاصم کلابی نے مجھے بتایا۔ ہمام بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ہمیں بتایا۔ اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میں نے ایسا گناہ کیا ہے کہ جس پر شرعی سزا لازم آتی ہے۔ اس لئے آپ مجھے سزا دیں۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: آپؐ نے اس سے اس گناہ کے متعلق نہیں پوچھا۔ کہتے تھے اور نماز کا وقت آ گیا تھا تواس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ شخص اُٹھ کر آپؐ کے پاس گیا اور کہا: یا رسول اللہ ! میں نے ایسا گناہ کیا ہے کہ جس پر شرعی سزا لازم آتی ہے اس لئے آپؐ میرے متعلق اللہ کا حکم نافذ کریں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر اللہ نے تم پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے تمہارے گناہ کو معاف کردیا ہے۔ ذَنْبَكَ کا لفظ فرمایا یا حَدَّكَ کا۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا۔ اُنہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب ماعزبن مالکؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپؐ نے اُس سے فرمایا: شاید تم نے بوسہ لیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا یا دیکھا ہوگا ۔ اُس نے کہا: نہیں یارسول اللہ ۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا؟ آپؐ نے کنایہ سے نہیں پوچھا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: تب آپؐ نے اُس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
(تشریح)سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: لیث نے مجھے بتایاکہ عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: لوگوں میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپؐ مسجد میں تھے۔ اس نے آپؐ سے پکار کر کہا: یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔ اس سے اس کی مراد اپنے تئیں تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے منہ پھیر لیا تو وہ ہٹ کر اُسی طرف گیا جس طرف کہ آپؐ نے اپنامنہ پھیرا تھا۔ اور کہا: یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔آپؐ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا۔ تو وہ پھر اسی طرف آیا جس طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرا تھا۔ جب اس نے چار دفعہ اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تمہیں جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: ہاں یا رسول اللہ ۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ اس کو سنگسار کرو۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے یہ حدیث زہری کے منہ سے سن کر یاد رکھی۔ زہری نے کہا عبیداللہ (بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود)نے مجھے خبر دی کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے سنا۔ وہ دونوں کہتے تھے۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ کو ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کرنا ہو گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص کھڑا ہوا جس سے اس کا جھگڑا تھا اور یہ اُس درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرماویں اور مجھے اجازت دیں ( کہ میں بیان کروں) آپؐ نے فرمایا: کہو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے پاس ملازم سے زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا: آپؐ ہمارے تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ میں نے ایک سو بکریاں اور ایک نوکر دے کر اِس سے اُس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم میں سے کئی افراد سے مسئلہ پوچھا اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے۔(یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اللہ جل ذکرہ کی کتاب کے موافق ہی فیصلہ کروں گا۔ ایک سو بکری اور وہ نوکر واپس لئے جائیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اور اے اُنیسؓ! اس عورت کے پاس صبح جاؤ اگر اس نے اقرار کیا تو پھر اس کو سنگسار کرو ۔ چنانچہ حضرت اُنیسؓ اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔ میں نے سفیان سے کہا: اس شخص نے یوں نہیں کہا تھا کہ علماء نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے تو سفیان نے کہا: میں بھی اس کے متعلق شک رکھتا ہوں کہ میں نے یہ زہری سے سنا اس لئے کبھی تو میں نے اسے بیان کیا اور کبھی میں خاموش رہا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان )بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے یہ حدیث زہری کے منہ سے سن کر یاد رکھی۔ زہری نے کہا عبیداللہ (بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود)نے مجھے خبر دی کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے سنا۔ وہ دونوں کہتے تھے۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ کو ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کرنا ہو گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص کھڑا ہوا جس سے اس کا جھگڑا تھا اور یہ اُس درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرماویں اور مجھے اجازت دیں ( کہ میں بیان کروں) آپؐ نے فرمایا: کہو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے پاس ملازم سے زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا: آپؐ ہمارے تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ میں نے ایک سو بکریاں اور ایک نوکر دے کر اِس سے اُس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم میں سے کئی افراد سے مسئلہ پوچھا اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے پڑنے چاہیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے۔(یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اللہ جل ذکرہ کی کتاب کے موافق ہی فیصلہ کروں گا۔ ایک سو بکری اور وہ نوکر واپس لئے جائیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اور اے اُنیسؓ! اس عورت کے پاس صبح جاؤ اگر اس نے اقرار کیا تو پھر اس کو سنگسار کرو ۔ چنانچہ حضرت اُنیسؓ اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کیا اور حضرت اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔ میں نے سفیان سے کہا: اس شخص نے یوں نہیں کہا تھا کہ علماء نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے تو سفیان نے کہا: میں بھی اس کے متعلق شک رکھتا ہوں کہ میں نے یہ زہری سے سنا اس لئے کبھی تو میں نے اسے بیان کیا اور کبھی میں خاموش رہا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے،زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حضرت عمر ؓ کہتے تھے: مجھے تو یہ ڈر پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں لوگوں پر اتنا زیادہ زمانہ نہ گزر جائے کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ کتاب اللہ میں رجم کا حکم ہم نہیں پاتے اور اس سے وہ اس فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں جس کو اللہ نے نازل کیا۔ سنو! جس شخص نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ ہو اسے سنگسار کرنا ضروری ہے بشرطیکہ ثبوت بہم پہنچ گیا ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ سفیان نے کہا: مجھے یوں یاد ہے ۔ سنو! اور رسول اللہ ﷺ نے بھی زناکار کو سنگسار کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے بعد سنگسار کیا۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے زُہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں مہاجرین میں سے کئی افراد کو قرآن پڑھایا کرتا تھا۔ اُن میں سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی تھے۔ ایک بار میں اُن کے اس گھر میں تھا جو مِنیٰ میں ہے اور وہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس گئے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس آخری حج کا ہے جو حضرت عمرؓ نے کیا۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ میرے پاس واپس آئے تو انہوں نے کہا: کاش تم بھی اس شخص کو دیکھتے جو آج امیر المؤمنین کے پاس آیاا ور کہنے لگا: امیر المؤمنین ! کیا آپ کو فلاں شخص کے متعلق علم ہوا جو کہتا ہے اگر حضرت عمرؓ فوت ہو گئے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا۔ اللہ کی قسم! حضرت ابوبکرؓ کی بیعت تو یونہی افراتفری میں غلطی سے ہو گئی تھی اور وہ سر انجام پاگئی ۔ (یہ سن کر) حضرت عمرؓ رنجیدہ ہوئے۔ پھر اُنہوں نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو میں آج شام لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور اُنہیں ان لوگوں سے چوکس کروں گا جو ان کے معاملات کو زبردستی اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے تھے۔ میں نے کہا:امیر المؤمنین ! ایسا نہ کریں کیونکہ حج میں برے بھلے ہر قسم کے عوام اکٹھے ہوتے ہیں تو جب آپ لوگوں میں کھڑے ہوں گے تو یہی لوگ آپ کے قریب اکٹھے ہوجائیں گے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ کھڑے ہو کر جو بات کریں گے اُسے اڑانے والا آپ کے متعلق کچھ اور کا اور نہ اڑا دے اور لوگ اسے نہ سمجھیں اور مناسب محل پر اسے چسپاں نہ کریں۔ آپ اس وقت تک انتظار کریں کہ مدینہ میں پہنچیں کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔ آپ سمجھدار اور شریف لوگوں کو الگ کر کے جو آپ نے کہنا ہو اطمینان سے کہیں۔ا ہل علم آپ کی بات سمجھیں گے اور مناسب محل پر اسے چسپاں کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اچھا بخدا مدینہ میں مَیں پہلی بار جو خطبے کے لئے کھڑا ہوں گا تو انشاء اللہ یہ بات بیان کروں گا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: ہم مدینہ ذی الحج کے اخیر میں پہنچے۔ جب جمعہ کا دن ہوا جونہی کہ سورج ڈھلا میں جلدی (مسجد میں) آ گیا۔ وہاں (پہنچ کر ) میں سعید بن زید بن عمروبن نفیلؓ کو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے پاتا ہوں۔ میں بھی اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا گھٹنا اُن کے گھٹنے سے لگ رہا تھا۔ میں تھوڑی ہی دیر ٹھہرا تھا کہ حضرت عمر بن خطابؓ باہر تشریف لائے۔ جب میں نے اُنہیں سامنے سے آتے دیکھا میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیلؓ سے کہا: آج حضرت عمرؓ ایسی بات کہیں گے جو اُنہوں نے جب سے کہ وہ خلیفہ ہوئے ہیں نہیں کہی۔ اُنہوں نے میری بات قبول نہیں کی۔ اور کہنے لگے: اُمید نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں کہی۔ حضرت عمرؓ منبر پربیٹھ گئے۔ جب اذان دینے والے خاموش ہوگئے وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر کہا: اما بعد! میں تم سے ایک ایسی بات کہنے لگا ہوں کہ میرے لئے مقدر تھا کہ میں وہ کہوں۔ میں نہیں جانتا کہ شاید یہ بات میری موت کے قریب کی ہو۔ اس لئے جس نے اس بات کو سمجھا اور اچھی طرح یاد رکھا تو جہاں بھی اس کی اونٹنی اس کو پہنچا دے وہ اس بات کو بیان کرے اور جس کو یہ خدشہ ہو کہ اس نے اس کو نہیں سمجھا تو میں کسی کے لئے جائز نہیں رکھتا کہ وہ میرے متعلق جھوٹ کہے۔ اللہ نے محمد ﷺ کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپؐ پر کتاب نازل کی تو اُن احکام میں سے جو اللہ نے نازل کئے رجم کا حکم بھی ہے۔ ہم نے اس حکم کو پڑھا، اور ہم نے اس کو سمجھا اور ہم نے اس کو اچھی طرح یاد رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی سنگسار کیا اور ہم نے بھی آپؐ کے بعد سنگسار کیا اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں لوگوں پر اتنا لمبا زمانہ نہ گزر جائے کہ کوئی کہنے والا کہے، اللہ کی قسم ہم تو کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے اور پھر وہ ایک فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں۔ اللہ نے اس حکم کو نازل کیا اور اللہ کی کتاب کے مطابق رجم کی سزا اس شخص کے لئے نہایت ہی ضروری ہے جس نے زنا کیا بشرطیکہ وہ شادی شدہ ہو، مرد ہوں یا عورتیں۔ بشرطیکہ ثبوت بہم پہنچ جائے یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ پھر کتاب اللہ میں جو ہم پڑھا کرتے تھے اس میں یہ بھی پڑھا کرتے تھے کہ اپنے باپ دادوں سے روگردانی نہ کرو کیونکہ یہ تمہاری ناشکری ہوگی کہ اپنے باپ دادوں سے روگردانی کرو۔یا کہا کہ یقینًا یہ تمہاری ناشکری ہو گی کہ تم اپنے باپ دادوں سے روگردانی کرو۔ سنو! پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسا کہ عیسیٰ بن مریمؑ کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا اور تم یہ کہو کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔پھر مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر عمرؓ کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں کی بیعت کروں گا۔ اس لئے کوئی شخص دھوکا میں رہ کر یہ نہ کہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت یونہی افراتفری میں ہو گئی تھی اور وہ سرانجام پاگئی۔ سنو! بے شک وہ بیعت اسی طرح جلدی میں ہوئی تھی لیکن اللہ نے اس افراتفری کے شر سے بچائے رکھا اور تم میں حضرت ابوبکرؓ جیسا کوئی نہیں ہے کہ جس کے پاس اونٹوں پر سوار ہو کر لوگ آئیں۔جس نے مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو اس کی بیعت نہ کی جائے اور نہ اس شخص کی جس نے اس کی بیعت کی۔ نتیجۃً وہ دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اور (اصل میں) ہمارا واقعہ یوں ہوا تھا کہ جب اللہ نے نبی ﷺ کو وفات دی تو انصار نے ہماری رائے سے اختلاف کیا اور وہ سب سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوگئے اور علیؓ اور زبیرؓ اور جو اُن دونوں کے ساتھ تھے اُنہوں نے بھی ہم سے اختلاف کیا۔ اور مہاجرین اکٹھے ہو کر حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے۔ میں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: ابوبکرؓ ! آئیں ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس چلیں۔ ہم اُنہی کا قصد کرتے ہوئے چلے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک آدمی ہمیں ملے اور جس مشورے پر وہ لوگ بالاتفاق آمادہ تھے ان دونوں نے اس کا ذکر کیا اور اُنہوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت ! آپ لوگ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم ان انصار بھائیوں کو ملنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: ہر گز نہیں۔ آپ کے لیے یہی مناسب ہے کہ اُن کے پاس نہ جائیں۔ جو آپ نے فیصلہ کرنا ہے وہ خود ہی کرلیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے اور ہم یہ کہہ کر چل پڑے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اُن کے پاس پہنچے۔ تو کیا دیکھا کہ ایک شخص ان کے درمیان چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہؓ ہیں۔ میں نے پوچھا: ان کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا۔ انہیں بخار ہورہا ہے۔ جب ہم تھوڑی دیر بیٹھے تو ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر اُس نے کہا: اما بعد ہم اللہ کے انصار ہیں اور اسلام کی فوج ہیں اور تم اے مہاجرین کی جماعت! تھوڑے سے لوگ ہو اور تمہاری قوم سے ایک قلیل سی جماعت نکل کر آئی تھی تو کیا ہے کہ وہ لوگ اب چاہتے ہیں کہ وہ ہماری بیخ کنی کریں اور ہمیں تھپکی دے کر اس خلافت سے الگ کریں۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو میں نے چاہا کہ بات کروں اور میں نے بھی ایک تقریر تیار کر رکھی تھی جو مجھے عمدہ معلوم ہوتی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ سے پہلے اس کو بیان کروں اور کسی حد تک حضرت ابوبکرؓ کے رنج کو دور کروں ۔ جب میں نے بولنا چاہاتو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ذراٹھہرو، اور میں نے ناپسند کیا کہ میں انہیں ناراض کروں اور حضرت ابوبکرؓ نے تقریر کی اور وہ مجھ سے زیادہ زیرک اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم جو بات بھی مجھے اپنے خیال میں عمدہ معلوم ہوئی تھی انہوں نے فی البدیہہ وہی کہی یا اس سے بہتر کہی اور کہہ کر خاموش ہو گئے۔ انہوں نے یہ کہا تھا جو تم نے اپنی فضیلت کے متعلق بیان کیا ہے تو تم اس کے اہل ہو اور یہ خلافت سوائے قریش کے اس خاندان کے اور کسی کے لئے ہرگز تسلیم نہیں کی جائے گی۔ نسب اور خاندان کے لحاظ سے وہ تمام عربوں میں سب سے اعلیٰ ہیں اور میں نے تمہارے لئے ان دو شخصوں میں سے ایک کو پسند کیا ہے ان دونوں میں سے جس کی تم چاہو بیعت کر لو۔ یہ کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ اور ابوعبیدہ بن جراحؓ کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس بات کے سوا میں نے اور کوئی بات ناپسند نہیں کی جو انہوں نے کہی۔ اللہ کی قسم! یہ حال تھا کہ اگر مجھے آگے بڑھا کر میری گردن اڑا دی جاتی تاکہ یہ موت مجھے کسی گناہ کے قریب نہ پھٹکنے دے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند تھی اس سے کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں کہ جس میں حضرت ابوبکرؓ ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میرا نفس موت کے وقت میرے سامنے کوئی اور بات خوبصورت کر کے پیش کرتا جس کو اب میں اپنے اندر نہیں پارہا۔ اس پر انصار میں سے ایک کہنے والا بول پڑا۔ میں اس معاملہ میں وہ لکڑی ہوں جس سے کھجلی کی جاتی ہے اور وہ پھلدار کھجور ہوں جس کے اردگرد باڑ لگی ہو۔ اے قریش کی جماعت ! ہم میں سے بھی ایک امیر ہو اور تم میں سے بھی ایک امیر ہو۔ اس پر بہت شور مچا اور آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ میں ڈر گیا کہیں اختلاف نہ ہوجائے۔ میں نے کہا: ابوبکرؓ اپنا ہاتھ بڑھائیں تو اُنہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ میں نے اُن کی بیعت کی اور مہاجرین نے اُن کی بیعت کی اس کے بعد انصار نے ان کی بیعت کرلی اور ہم سعد بن عبادہؓ کے پاس گئے تو انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم نے سعد بن عبادہؓ کو مار ڈالا۔ میں نے کہا:اللہ نے سعد بن عبادہؓ کو مارا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: اور بخدا ہم جس مشورے کے لئے آئے تھے اس میں حضرت ابوبکرؓ کی بیعت سے زیادہ ضروری کسی اور بات کو نہ پایا۔ ہم ڈر گئے کہ اگر ہم لوگوں سے ایسی حالت میں الگ ہوگئے کہ کوئی بھی بیعت نہ ہو تو وہ ہمارے بعد اپنے میں سے کسی ایسے شخص کی بیعت نہ کر لیں کہ جس کی یا تو ہم ایسی حالت میں بیعت کر لیتے کہ ہم پسند نہ کر رہے ہوتے اور یا ہم اس کی مخالفت کرتے اور اس سے فساد ہوتا۔ اس لئے جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو پھر اس کی پیروی نہ کی جائے اور نہ ہی اس شخص کی پیروی کی جائے جس نے اس کی بیعت کی ہو ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ دونوں اپنی جان گنوا بیٹھیں۔