بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی کہ اُن دونوں نے اُن کو بتایا کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے اور اُن میں سے ایک نے کہا کہ کتاب اللہ کے موافق آپؐ ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور دوسرے نے کہا: اور وہ ان دونوں میں زیادہ سمجھدار تھا۔ ہاں یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اورمجھے اجازت دیں کہ بیان کروں آپؐ نے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا۔ مالک نے کہا: عَسِيفٌ کے معنی ہیں مزدور۔ اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو میں نے ایک سو بکری اور اپنی ایک لونڈی دے کر اُس سے اس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے ہی پڑنے تھے اور ایک سال کے لئے شہر سے نکالا جانا تھا اور سنگسار تو اس کی عورت کو کیا جانا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں کتاب اللہ کے موافق ہی تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور لونڈی جو ہیں تو وہ تمہیں واپس دی جائیں اور آپؐ نے اس کے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے اس کو جلا وطن کر دیا اور آپؐ نے اُنیس اسلمیؓ کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی عورت کے پاس آئے اگر وہ اقرار کر لے تو پھر اس کو سنگسار کرو۔ چنانچہ اس نے اقرار کیا اور اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔
عمروبن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔مسلم بن ابی مریم نے ہم سےبیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن جابر نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمٰن نے اس شخص سے روایت کی کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی کہ اُن دونوں نے اُن کو بتایا کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے اور اُن میں سے ایک نے کہا کہ کتاب اللہ کے موافق آپؐ ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اور دوسرے نے کہا: اور وہ ان دونوں میں زیادہ سمجھدار تھا۔ ہاں یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے موافق ہمارے درمیان فیصلہ فرماویں اورمجھے اجازت دیں کہ بیان کروں آپؐ نے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا۔ مالک نے کہا: عَسِيفٌ کے معنی ہیں مزدور۔ اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو میں نے ایک سو بکری اور اپنی ایک لونڈی دے کر اُس سے اس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے ہی پڑنے تھے اور ایک سال کے لئے شہر سے نکالا جانا تھا اور سنگسار تو اس کی عورت کو کیا جانا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں کتاب اللہ کے موافق ہی تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور لونڈی جو ہیں تو وہ تمہیں واپس دی جائیں اور آپؐ نے اس کے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے اس کو جلا وطن کر دیا اور آپؐ نے اُنیس اسلمیؓ کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی عورت کے پاس آئے اگر وہ اقرار کر لے تو پھر اس کو سنگسار کرو۔ چنانچہ اس نے اقرار کیا اور اُنیسؓ نے اس کو سنگسار کیا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔آپؓ فرماتی تھیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا اور کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو روکے رکھا ہے حالانکہ وہ کسی پانی کے پاس نہیں اور اُنہوں نے مجھے ملامت کی۔ اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کونچ مارنے لگےاور مجھے ہلنے سے صرف یہی بات روکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے تو اس وقت اللہ نے تیمم کی آیت نازل کی۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔عمرو نے مجھے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اُنہیں بتایا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، اُ ن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ سامنے سے آئے اور مجھے زور سے ایک گھونسہ لگایا اور کہا: تم نے ایک ہار کے لئے لوگوں کو روک دیا؟ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی وجہ سے ایسی بے حس و حرکت تھی گویا مجھ پر موت وارد تھی حالانکہ اس سے مجھے درد ہوئی۔ لَكَزَ اور وَكَزَ ایک ہی ہے۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک (بن عمیر) نے ہم سےبیان کیا۔ عبدالملک نے حضرت مغیرہؓ کے منشی ورّاد سے، ورّاد نے حضرت مغیرہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تومیں تلوار کی دھار سے اس کا کام تمام کر دوں۔ تو اُن کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: کیا تم سعدؓ کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ میں اُن سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی بڑھ کر غیرت مند ہے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہارے اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا:اُن کا رنگ کیسا ہے؟اُس نے کہا: سرخ۔آپؐ نے فرمایا: کیا اُن میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔آپؐ نے فرمایا: یہ کہاں سے آیا؟ اس نے جواب دیا میں سمجھتا ہوں، اصل (آباء و اجداد) نے اس کو اپنے مشابہ کر لیا ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا تو شاید تمہارا بیٹا بھی ایسا ہی ہو کہ جس کو اصل (آباء و اجداد)نے اپنے مشابہ کرلیاہو۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ یزید بن ابی حبیب نے مجھ سے بیان کیا۔ یزید نے بکیر بن عبداللہ سے، بکیر نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ لگائے جائیں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا۔عمرو (بن حارث) نے مجھے خبر دی کہ بکیر نے اُنہیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ایک دفعہ جبکہ میں سلیمان بن یسار کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں عبدالرحمٰن بن جابر آئے اور سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی۔ پھر سلیمان بن یسار ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: عبدالرحمٰن بن جابر نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ اُن کے باپ نے اُنہیں بتایا کہ انہو ں نے حضرت ابوبردہ انصاریؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہ لگاؤ۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لگاتار روزے رکھنے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے کئی آدمیوں نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ تو لگا تار روزے رکھتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون میری طرح ہے؟ میں تو رات ایسی حالت میں گزارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔ جب وہ لگاتار روزے رکھنے کی بات نہ مان کر روزے رکھنے سے نہ رکے تو آپؐ بھی اُن کے ساتھ لگاتار روزے رکھنے لگے۔ ایک دن رکھا، پھر ایک دن اور رکھا۔ پھر لوگوں نے ہِلال دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: اگر کچھ دنوں کے بعد نکلتا تو میں تمہارے ساتھ اور رکھتا جیسے کہ آپؐ اُن کو نصیحت دینے لگے تھے کہ جب اُنہوں نے نہ مانا۔ (عقیل کی طرح) شعیب (بن ابی حمزہ) اور یحيٰ بن سعید اور یونس نے بھی زہری سے یہی روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے بھی اس کو ابن شہاب سے نقل کیا۔ اُنہوں نے سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔