بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
ابن شہاب نے کہا: اور عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے جلا وطن کیا اور پھر ا س کے بعد یہی دستور رہا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے متعلق جس نے زنا کیا اور وہ شادی شدہ نہ ہو یہ فیصلہ کیا کہ اس کو شرعی سزا دے کر ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا جائے۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ (بن ابی کثیر) نے ہم سےبیان کیا۔ یحيٰ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں میں سے ہیجڑے بننے والوں اور عورتوں میں سے اُن کو جو مردوں کی وضع قطع اختیار کریں ملعون قرار دیا اور فرمایا: اُن کو تم گھروں سے نکال دو اور آپؐ نے فلاں کو نکالا اور حضرت عمرؓ نے فلاں کو نکالا۔
عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی کہ بدوی لوگوں میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ اس وقت (مسجد میں) بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرماویں۔ (یہ سن کر) اس کا مخالف کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اس نے سچ کہا ہے یا رسول اللہ ! آپؐ اس کے لئے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرماویں۔ میرا بیٹا اس کے پاس ملازم تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا تو میں نے ایک سو بکری اور ایک لونڈی فدیہ میں دی۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے پڑیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا۔ آپؐ نے یہ سن کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں کتاب اللہ کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا ۔ بکریاں اور لونڈی جو ہیں تو وہ تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگوائے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کر دیا جائے اور اے اُنیسؓ ! تم یوں کرو کہ اس شخص کی عورت کے پاس صبح جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔ چنانچہ حضرت اُنیسؓ دوسرے دن صبح گئے اور اُنہوں نے اس کو سنگسار کیا۔
عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی کہ بدوی لوگوں میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ اس وقت (مسجد میں) بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرماویں۔ (یہ سن کر) اس کا مخالف کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اس نے سچ کہا ہے یا رسول اللہ ! آپؐ اس کے لئے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرماویں۔ میرا بیٹا اس کے پاس ملازم تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا تو میں نے ایک سو بکری اور ایک لونڈی فدیہ میں دی۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے پڑیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا۔ آپؐ نے یہ سن کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں کتاب اللہ کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا ۔ بکریاں اور لونڈی جو ہیں تو وہ تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگوائے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کر دیا جائے اور اے اُنیسؓ ! تم یوں کرو کہ اس شخص کی عورت کے پاس صبح جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔ چنانچہ حضرت اُنیسؓ دوسرے دن صبح گئے اور اُنہوں نے اس کو سنگسار کیا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو تو؟ آپؐ نے فرمایا: اگر زنا کرے تو اس کو کوڑے لگواؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگواؤ۔ پھر اس کے بعد اس کو بیچ ڈالو، گو ایک رسی کے بدلے۔ ابن شہاب نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپؐ نے تیسری یا چوتھی بار کے بعد فرمایا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو تو؟ آپؐ نے فرمایا: اگر زنا کرے تو اس کو کوڑے لگواؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگواؤ۔ پھر اس کے بعد اس کو بیچ ڈالو، گو ایک رسی کے بدلے۔ ابن شہاب نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپؐ نے تیسری یا چوتھی بار کے بعد فرمایا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ( کیسان) سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو چاہیئے کہ وہ اس کو کوڑے لگائے اور ملامت نہ کرے۔ پھر اگر وہ زنا کرے پھر اس کو کوڑے لگائے اور ملامت نہ کرے۔ پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو پھر اس کو بیچ ڈالے گو بالوں کی ایک رسی کے بدلے۔ (لیث کی طرح) اسماعیل بن اُمیّہ نے بھی اس حدیث کو سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ (سلیمان) شیبانی نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے رجم کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا۔ میں نے پوچھا: سورة النور سے پہلے یا اس کے بعد؟ اُنہوں نے کہا:میں نہیں جانتا۔ (عبدالواحد کی طرح) اس حدیث کو علی بن مسہر اور خالد بن عبداللہ اور (عبدالرحمٰن) محاربی اور عبیدہ بن حمید نے بھی شیبانی سے روایت کیا اور بعض راویوں نے (سورہ)نور کی بجائے (سورہ)مائدہ کہا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپؐ سے بیان کیا کہ اُن میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا: تم رجم کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو اُنہوں نے کہا: ہم منہ کالا کرکے گدھے پر سوار کرتے ہیں۔ پھر اُنہیں کوڑے لگاتے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے تورات میں تو رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور اس کو کھولا تو اُن میں سے ایک نے رجم کے حکم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس کے ماقبل اور ما بعد پڑھا۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے اُس سے کہا: اپنا ہاتھ اُٹھاؤ ۔ اُس نے اپنا ہاتھ اُٹھایا تو کیا دیکھا کہ اُس میں رجم کا حکم ہے۔ یہودیوں نے کہا: اے محمدؐ! (عبداللہ بن سلامؓ) سچے ہیں۔ تورات میں رجم کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کے متعلق حکم دیااور انہیں سنگسار کیا گیا۔ (حضرت عبد اللہؓ کہتے ہیں:)میں نے اُس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر جھک جاتا تھا اور اُسے پتھروں سے بچاتا تھا۔
(تشریح)