بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 42 hadith
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی۔ وہ کہتے تھے:عطاء نے مجھے بتایا۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ (انصاری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ان سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے، خطبے سے پہلے نماز پڑھی۔
(ابن جریج) کہتے تھے: اور عطاء نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے حضرت ابن زبیرؓ کو جب ان کی بیعت کی گئی کہلا بھیجا کہ رسو ل اللہ ﷺ کے زمانہ میں عید الفطر کے دن اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہی ہوتا۔
(ابن جریج کہتے ہیں:) اور عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے اور حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔دونوں نے کہا: عیدالفطر میں اذان نہیں دی جاتی تھی اور عیدالاضحٰی میں بھی۔
(ضحاک بن مخلد) ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حسن بن مسلم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدین پڑھی ہیں۔ یہ سب خطبہ سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، اورحضرت عمر رضی اللہ عنہما دونوں عیدوں (کی نماز) خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
احمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا ،کہا: اسحق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ (سعید) سے مر وی ہے۔ ان کے باپ نے کہا: حجاج حضرت ابن عمرؓؓ کے پاس آئے اورمیں ان کے پاس تھا۔ حجاج نے پوچھا: یہ (زخم) کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اچھا ہے۔ حجاج نے کہا: آپؓ کو کس نے مارا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس نے مارا ہے جس نے ایسے دن ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا ہے، جس میں اس کا اُٹھانا جائز نہیں اور اس سے ان کی مراد حجاج تھا۔
اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے بھی یہ روایت نقل کی کہ انہوں نے کہا:میں نے ان سے سنا ۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ اٹھے اور نمازسے آغاز کیا۔ پھر بعد اس کے لوگوں سے مخاطب ہوئے جب نبی ﷺ خطبہ سے فارغ ہوئے تو آپؐ نیچے اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور آپؐ حضرت بلالؓ کے ہاتھ پر سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلالؓ اپنے کپڑے کو پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتیں۔ (ابن جریج کہتے تھے:) میں نے عطاء سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اب بھی امام کے لئے ضروری ہے کہ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کرے جب وہ خطبہ سے فارغ ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا: یقینا یہ ان کے لئے ضروری ہے اور انہیں کیا روک ہے کہ وہ ایسا کریں۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے دن دورکعتیں پڑھیں اور آپؐ نے نہ اس سے پہلے کوئی (نفل) پڑھے اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپؐ عورتوں کے پاس آئے اور حضرت بلالؓ آپؐ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم دیا تو وہ صدقہ دینے لگیں۔ کوئی عورت اپنی بالی پھینکتی اور کوئی اپنا ہار۔
آدم (بن ابی عیاس) نے ہم سے بیا ن کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زبید (بن حارث) نے ہم سے بیان کیا، کہا : میں نے شعبی سے سنا کہ حضرت براء بن عازب سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: پہلا کام جو ہم اپنے اس تہوار میں کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر ہم لوٹ جاتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ پس جس نے ایسا کیا وہ ٹھیک ہمارے طریق پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا وہ صرف گوشت ہی ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا ہے۔ قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پر انصار میں سے ایک شخص نے جن کو حضرت ابوبردہ بن نیارؓ کہتے تھے، کہا: یا رسول اللہ! میں تو ذبح کرچکا ہوں۔ اب میرے پاس ایک برس کی پٹھیا ہے جو دو سال کی بکری سے بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی جگہ اس کو ذبح کردو۔ تمہارے بعد کسی کو یہ اجازت کام نہ دے گی۔
(تشریح)زکریا بن یحيٰ ابوسُکَین نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبدالرحمن) محاربی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: محمد بن سوقہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے۔ وہ کہتے تھے: میں (حج میں) حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ کے ساتھ تھا۔ جب کہ ان کے پائوں کے تلوے میں نیزے کی اَنّی لگی اور ان کا پائوں رکاب سے چمٹ گیا تو میں اترا اَور نیزہ ان کے پائوں سے کھینچ کر نکالا اور یہ واقعہ منیٰ میں ہوا۔ حجاج کو یہ خبر پہنچی تو وہ ان کی بیمار پرسی کو آئے۔ حجاج نے کہا: کاش ہمیں یہ معلوم ہو کہ کس نے یہ نیزہ آپؓ کو مارا۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: تم ہی نے مجھے نیزہ مارا ہے۔ حجاج نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے ایسے دن میں ہتھیار اٹھوائے ہیں جس دن ان کو اٹھوایا نہیں جاتا تھا۔ اور حرم میں تم نے ہتھیار داخل کئے حالانکہ حرم کے اندر ہتھیار نہیں لائے جاتے تھے۔