بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 42 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبیدسے، زبید نےسے، نے حضرت براء (بن عازبؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عیدالاضحٰی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: پہلا کام جو ہم اپنے اس دن میں کرتے ہیں وہ نماز ہے۔پھر واپس جاکر ہم قربانی کرتے ہیں۔ پس جس نے ایسا کیا تو اس نے ٹھیک ہمارا طریق اختیار کیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کرلیا وہ صرف گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی سے کرلیا۔ قربانی سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ اس پر میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیارؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے تو نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کرلیا ہے اور میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوسال والی بکری سے بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تم اس کو اس کی جگہ قربانی میں دے دو یا فرمایا: اس کو ذبح کردو اور تمہارے بعد کسی کو بھی ایک سال کی پٹھیا کام نہ دے گی۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک بن انس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: محمد بن ابی بکر ثقفی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس (بن مالکؓ) سے، جبکہ ہم دونوں صبح کو منٰی سے عرفات کو جارہے تھے، لبیک کی بابت پوچھا کہ آپ نبی
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوہاب (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عیدالفطر اور عیدالاضحیہ کے دن برچھی گاڑی جاتی۔ پھر آپؐ نماز پڑھتے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید (بن مسلم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے ابی عمرو (اوزاعی) نے بیان کیا، کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو عید گاہ جاتے اور برچھی آپؐ کے آگے آگے اُٹھا کر لے جائی جاتی اور عید گاہ میں آپؐ کے سامنے گاڑدی جاتی۔ آپؐ اس کے سامنے نماز پڑھتے۔
عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرحمن نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سفیان نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمن سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں عید الفطر یا عید الاضحی میں نبی ﷺ کے ساتھ نکلا ۔ آپؐ نے نماز پڑھائی اور پھر آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اس کے بعد عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ کیااور نصیحت کی اور صدقہ دینے کے لئے فرمایا۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن اعمش) سے، سلیمان نے مسلم البطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے، انہوں نے نبی ﷺسے روایت کی ۔آپؐ نے فرمایا: کوئی عمل بھی جو دوسرے دنوں میں کیا جائے ان دس دنوں کے عمل سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: کیا جہاد بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں۔ مگر ہاں وہ شخص جو اپنی جان ومال خطرے میں ڈالتے ہوئے نکلے اورپھر کوئی چیز بھی واپس نہ لائے۔
(تشریح)محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہم سے عمر بن حفص (بن غیاث) نے، انہوں نے کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (بن سلیمان) سے، عاصم نے حفصہ (بنت سیرین) سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: ہمیں عید کے دن نکلنے کے لئے کہا جاتا۔ ہم کنواریوں کو بھی ان کے پردے سے نکالتیں بلکہ حائضہ کو بھی نکالتیں اور عورتیں لوگوں کے پیچھے رہتیں اور مردوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی کی امید رکھتیں۔
(تشریح)عبد اللہ بن عبدالوھاب نے ہم سے بیان کیا،کہا: حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے،محمد نے حضرت ام عطیہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ ہم پردہ دار جوان عورتوں کو بھی (عید کے دن) لے کر جایا کریں اور ایوب سے مروی ہے کہ انہوں نے حفصہ سے بھی ایسی ہی روایت نقل کی۔ حفصہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ایوب نے یا حفصہ نے کہا: جوان عورتوں اور پردہ نشینوں کو بھی اور حیض والیاں نماز گاہ سے علیحدہ رہتیں۔
(تشریح)ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن طلحہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبید سے، زبید نے شعبی سے، شعبی نے حضرت برائؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف نکلے ۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپؐ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہماری پہلی عبادت اس دن یہ ہوگی کہ ہم نماز پہلے پڑھیں۔ پھر لوٹ کر قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا تو اس نے ٹھیک ہماری سنت کے موافق کیا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کیا تو اُس نے صرف اپنے گھر والوں کے لئے جلدی کی۔ وہ قربانی نہیں ہے۔ اس پر ایک شخص اُٹھا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں تو ذبح کر چکا ہوں۔ اب میرے پاس ایک پٹھیا ہے جو دوسالہ بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو ذبح کرلواور تمہارے بعد پھرکسی اور کی ( یہ غرض ) پوری نہیں کرے گی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عابس نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ ان سے پوچھا گیا: کیا آپؓ نبی ﷺ کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ بچپن کی وجہ سے اگر مجھے خصوصیت حاصل نہ ہوتی تو میں عید میں آپؐ کے ساتھ نہ ہوتا۔ آپؐ اُس نشان کے پاس آئے جو کثیربن صلت کے گھرکے پاس تھا۔ آپؐ نے نماز پڑھی ۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ تھے۔ آپؐ نے وعظ کیا اور نصیحت کی اور صدقہ کا انہیں حکم دیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ہاتھ پھیلا پھیلا کر حضرت بلالؓ کے کپڑے میں ڈالتی جاتی تھیں۔ پھر آپؐ حضرت بلالؓ سمیت گھر کو چلے گئے۔
(تشریح)