بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 51 hadith
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کی کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اسلام میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو کھانا کھلائے اور سلامتی کی دعا دے، اسے بھی جسے تو جانتا ہے اور اسے بھی جسے تو نہیں جانتا۔
(تشریح)ہم سے سلیمان ابور بیچ نے بیان کیا، کہا: بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابو سہیل نے اپنے باپ (مالک) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے نبی
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ابو زناد نے ہم سے بیان کیا۔ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبد الرحمن سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں جو شخص ایمان کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر (عبادت کے لئے) اٹھتا ہے تو اس سے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں، ان سے اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔
عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن بیمار سے، عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جہنم دکھایا گیا۔ اکثر عورتیں ہیں۔ پوچها گیا: کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکر گذاری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تو کسی پر زمانہ بھر بھی احسان کرتا رہے اور پھر وہ تجھ سے کچھ ایسی ویسی بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تجھ سے کبھی بھی بھلائی نہیں دیکھی۔
(تشریح)ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے واصل احدب سے، واصل نے معرور سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوذر (غفاری) کو ربذہ مقام میں ملا اور وہ ایک نیا جوڑہ پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی ایک نیا جوڑہ پہنے ہوئے تھا۔ میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ میری ایک شخص سے گالی گلوچ ہوئی تو میں نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا۔ اس پر مجھے نبی ﷺ نے فرمایا: ابوذر کیا تم نے اس کو ماں کا طعنہ دیا۔ تم تو ایک ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ تمہارے بھائی ہی تمہارے نوکر چاکر ہیں۔ اللہ نے ان کو تمہارے ماتحت کردیا ہے۔ پس جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو چاہیے کہ جس کھانے سے وہ خود کھاتا ہے، اس سے اس کو بھی کھلائے اور جو وہ پہنتا ہے، اس سے اس کو بھی پہنائے اور تم انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو دو جوان کی طاقت سے بالا ہو اور اگر تم انہیں ایسے کام کی تکلیف دو تو پھر ان کی مدد کیا کرو۔
(تشریح)ہم سے عبد الرحمن بن مبارک نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایوب اور یونس نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حسن سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ میں اس شخص (یعنی حضرت علی) کی مدد کرنے کے لئے گیا تھا تو مجھے حضرت ابوبکرہ ملے۔ انہوں نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: میں اس شخص کی مدد کروں گا۔ انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب دو مسلمان اپنی اپنی تلوار میں لے کر آپس میں بھڑ جائیں تو قاتل بھی اور مقتول بھی دوزخ میں ہوں گے۔ اس پر میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو قاتل ہوا اور مقتول کس لئے؟ فرمایا: اس لئے کہ وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کرنے پر حریص تھا۔
(تشریح)ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ نیز مجھ سے بشر نے بیان کیا، کہا: محمد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ» (الأنعام: ۸۳) تو رسول الله صلى الله علیہ وسلم کے صحابہ کہنے لگے: ہم میں سے کس نے ظلم نہیں کیا تو اللہ (عزوجل) نے یہ وحی نازل کی: «إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» (لقمان: ۱۴)۔ شرک ہی تو ایک بہت بڑا ظلم ہے۔
(تشریح)ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عبدالله بن مرة سے، مرۃ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمايا: چار حصلتیں جس میں ہوں۔وہ پورا منافق ہوتا ہے اور جس میں ان خصلتوں میں سے ایک ہی خصلت ہو، اس میں نفاق کی بھی ایک ہی خصلت ہوگی۔جب تک وہ اسے نہ چھوڑ دے۔اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے اور جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب عہد کرتا ہے تو عہد شکنی کرتا ہے اور جب جڑتا ہے تو گالی بکتا ہے۔شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کرتے ہوئے سفیان کی طرح یہی بیان کیا۔
(تشریح)ہم سے حرمی بن حفص نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمارہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ (عز وجل) نے اس شخص کے لئے جو اس کی راہ میں نکلتا ہے، یہ اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے واپس لوٹا دوں گا یا اسے جنت میں داخل کروں گا۔ بشرطیکہ مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے ہی اسے (جہاد کے لئے) نکالا ہو۔ اور اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں ہر دستہ فوج کے ساتھ جاتا، اور میری تو خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں۔
(تشریح)