بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 51 hadith
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے زبید سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابو وائل سے مرجیہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت عبد اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عدی بن ثابت نے مجھے بتلایا انہوں نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن یزید سے سنا۔انہوں نے حضرت ابومسعود سے، حضرت ابومسعود نے نبی ﷺ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اگر آدمی اپنے گھر والوں پر خرچ کرے کہ اس سے رضاءِ الہی چاہتا ہو تو یہ خرچ کرنا اس کے لئے صدقہ ہوگا۔
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔زہری نے کہا: عامر بن سعد نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ حضرت سعد نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: اسماعیل سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: مجھے قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ (بجلی) سے روایت کرتے ہوئے بتلایا انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نماز سنوار کر پڑھنے اور زکوۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر کی۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبادہ بن صامت نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کے متعلق خبر دینے کو نکلے تو مسلمانوں میں سے دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے۔ اس پر آپ نے فرمایا: میں نکلا تاکہ تمہیں لیلتہ القدر کے متعلق خبر دوں اور دیکھا یہ فلاں فلاں شخص آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں۔ سو وہ اُٹھالی گئی اور ہوسکتا ہے کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ پس تم اسے رمضان کے اخیر کے ساتویں، نویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) ابو حیان تیمی نے ہمیں بتلایا۔ ابو حیان نے ابو زرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک دن لوگوں کے لئے باہر تشریف رکھتے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں کو مانے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو بھی مانے۔ اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز سنوار کر پڑھے اور مقرر کردہ زکوۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔اس نے پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اُسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اُسے نہیں دیکھتا تو پھر وہ تجھے یقینا دیکھ ہی رہا ہے۔ اس نے پوچھا : وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا: جس شخص سے متعلق پوچھا جا رہا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اور میں تجھے اس کے نشانات کا پتہ دے دیتا ہوں۔ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرواہے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اونچی عمارتیں بنائیں گے۔ وہ گھڑی بھی انہی پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت آخر تک پڑھی: یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ آپ نے فرمایا: اسے واپس لے آؤ۔ تو انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا۔ تب آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے۔ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابو عبد اللہ بخاری نے کہا: آپ نے ان تمام باتوں کو ایمان قرار دیا۔
(تشریح)ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی کہ ابن عباس نے ان سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ابن عباس نے مجھے بتایا کہ ابوسفیان بن حرب نے مجھے بتلایا کہ ہر قل نے ان سے کہا کہ میں نے تم سے پوچھا تھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں۔ تو تم نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان اسی طرح بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہو کر پھر اس دین کو ناپسند کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جاتا ہے؟ تو تم نے کہا: نہیں اور ایمان بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ جب اس کی بشاشت دل میں رچ جاتی ہے تو اسے کوئی بھی ناپسند نہیں کرتا۔
(تشریح)ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، (کہا: ) زکریا نے۔ نعمان بن بشیر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ نے فرمایا: حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ والی کچھ باتیں ہیں۔ اکثر لوگ انہیں نہیں جانتے۔ پس جو ان مشتبہ باتوں سے بچا، اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط سے کام لیا اور جو ان مشتبہ امور میں جا پڑا تو وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو اپنے ریوڑ کے آس پاس چرا رہا ہے۔ دیکھو ہر بادشاہ کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی باتیں ہیں۔ خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہے تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ وہ دل ہے۔
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابو جمرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباس کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔مجھے اپنی چارپائی پر بٹھلاتے۔انہوں نے کہا: میرے پاس ٹھہر جاؤ تا کہ میں اپنے مال سے تمہارے لئے ایک شَهْرَيْنِ اور انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: یہ کون لوگ ہیں یا (فرمایا) یہ کون وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قوم کے۔آپ نے فرمایا: مرحبا اس قوم کو یا وفد کو۔نہ ذلیل ہوں اور نہ پشیمان۔یارسول اللہ ﷺ ہم آپ کے پاس نہیں آسکتے مگر عزت ! والے مہینہ میں۔کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان یہ کفار مضر کا قبیلہ ہے۔اس لئے آپ ہمیں ایک حکم دیں۔تاہم اپنے پچھلوں کو بھی وہ بتلائیں اور اس پر عمل کر کے ہم بھی جنت میں داخل ہوں۔نیز انہوں نے آپ سے پینے والی چیزوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع فرمایا: ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے اللہ پر ایمان لانا کیا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: اس بات کا اقرار کرنا کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کا رسول ہے اور نماز سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت سے پانچواں حصہ بھی دیا کرنا اور آپ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا۔سبز لاکھی مرتبان اور کدو کے تو نے اور گریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے اور کبھی راوی نے مُقیر کہا اور آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یا درکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں انہیں بھی بتلاؤ۔
(تشریح)ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، محمد نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال تو نیت پر موقوف ہیں اور ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی ہو۔پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو۔اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کے پانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی خاطر ہو تو اسی کے لئے ہوگی جس کے لئے اس نے ہجرت کی