بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت اُمّ حُفَید بنت حارث بن حزنؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ گھی اور پنیر اور گوہیں بطور تحفہ کے بھیجیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منگوایا اور وہ آپؐ کے دسترخوان پر کھائی گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کراہت کرنے والے کی طرح ان سے ہاتھ کھینچ لیا، اگر وہ حرام ہوتیں تو آپؐ کے دسترخوان پر نہ کھائی جاتیں اور آپؐ نے ان کے کھانے کا حکم بھی نہیں دیا۔
احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ یونس نے مجھے خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن ابی رباح نے مجھے بتایا۔ عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا (فرمایا:) ہماری مسجد سے الگ رہے اور وہ اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے اور آپؐ کے پاس ایک برتن لایا گیا۔ ابن وہب نے کہا: یعنی ہانڈی جس میں کچھ کچی ترکاریاں تھیں ۔ آپؐ نے اُن کی بو محسوس کی تو آپؐ نے ان کے متعلق پوچھا۔ جواس میں ترکاریاں تھیں آپؐ کو بتائی گئیں۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں ان کے سامنے رکھو۔ چنانچہ انہوں نے صحابہ میں سے کسی کے سامنے رکھیں جو آپؐ کے ساتھ تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ نے ان کے کھانے سے کراہت کی ہے تو آپؐ نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ میں اس سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم مناجات نہیں کرتے۔ اور ابن عفیر نے ابن وہب سے نقل کیا کہ ایک ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاری تھی اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے ہانڈی کا واقعہ نہیں ذکر کیا اس لئے میں نہیں جانتا کہ آیا یہ زُہری کا قول ہے یا حدیث میں ہے۔
عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ اور میرے چچا نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا: ہمارے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ محمد بن جبیر نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ حضرت جبیر بن مطعمؓ نے اُن کو خبر دی کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے آپؐ سے کسی امر کے متعلق بات کی تو آپؐ نے اس کے متعلق ایک فرمان جاری کیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بتائیں اگر میں آپؐ کو نہ پاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکرؓ کے پاس آؤ۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ اس کا مطلب تھا آپؐ وفات پا جائیں۔
(تشریح)اور ابوالیمان نے کہا کہ شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت معاویہؓ سے سنا۔ وہ مدینہ میں قریش کی ایک جماعت سے بیان کر رہے تھے اور انہوں نے کعب الاحبار کا ذکر کیا اور کہنے لگے: اگر چہ وہ ان تمام محدثین سے جو اہل کتاب کی روایت کی بنا پر باتیں بیان کرتے ہیں سب سے زیادہ سچے ہیں اس کے باوجود ہم ان کی بھی بعض باتیں جھوٹی پایا کرتے تھے۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا۔ علی بن مبارک نے ہم سے بیان کیا۔ علی نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اہل کتاب تورات، عبرانی زبان میں پڑھا کرتے تھے اور مسلمانوں کے لئے عربی زبان میں اس کی تفسیر کیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ جھوٹا کہو اور یہ کہو: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس پر جو ہماری طرف اُتارا گیا اور جو تمہاری طرف اُتارا گیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم اہل کتاب سے کسی بات کے متعلق کیسے پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری وہ کتاب جو رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی قریب تر زمانے کی ہے۔ تم اس کو خالص پڑھتے ہو جس میں کچھ نہیں ملایا گیا اور حالانکہ اللہ نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل ڈالا ہے اور اس کو کچھ اَور کا اَور کر دیا ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک اور کتاب لکھی ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تا کہ وہ اس ذریعہ سے تھوڑا سا مول کما لیں۔ جو علم تمہارے پاس آیا ہے کیا یہ تمہیں ان سے پوچھنے سے نہیں روکتا؟ اللہ کی قسم ہم نے ان میں سے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کتاب کے متعلق پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔
(تشریح)اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلاّم بن ابی مطیع سے، سلاّم نے ابوعمران جونی سے، جو نی نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک تمہارے دل مانوس ہوں قرآن پڑھتے رہو، جب دل اُکتانے لگے تو پھر اس سے اُٹھ کھڑے ہو۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: عبدالرحمٰن نے سلام سے سنا۔
اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عمران جونی نے ہمیں بتایا۔ جو نی نے حضرت جندب بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک تمہارے دل مانوس ہوں قرآن پڑھتے رہو جب دل اُکتانے لگے تو پھر اس سے اُٹھ کھڑے ہو۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور یزید بن ہارون نے ہارون اعوَر سے نقل کیا کہ ابوعمرا ن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت جندبؓ سے، حضرت جندبؓ نے نبی ﷺسے روایت کی۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے، معمر نے زُہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ کی وفات کا وقت آیا تو آپؐ نے فرمایا۔ اور اُس وقت گھر میں کچھ لوگ تھے جن میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی تھے۔ آپؐ نے فرمایا: لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ نبی ﷺ کو بیماری نے بے بس کر دیا ہوا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے اور اللہ کی کتاب ہمیں کافی ہے۔ گھر کے لوگوں نے اختلاف کیا اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ ان میں سے وہ بھی تھے جو کہتے تھے لکھنے کا سامان لاؤ تا کہ رسول اللہ ﷺ ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو اور ان میں سے ایسے بھی تھے جو وہ بات کہتے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہی۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کے پاس بہت شور اور جھگڑا کیا تو آپؐ نے فرمایا: اُٹھ کر میرے پاس سے چلے جاؤ۔ عبیداللہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباسؓ کہا کرتے تھے: ساری کی ساری مصیبت وہ بات ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے لئے تحریر سے روک دیا یعنی ان کا وہ جھگڑا کرنا اور شور مچانا۔
(تشریح)مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ عطاء نے کہا کہ حضرت جابرؓ نے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور محمد بن بکر برسانی نے بھی کہا کہ ابن جریج نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عطا نے مجھے خبر دی کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا جبکہ کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے خالص حج کی نیت سے لبیک پکارتے ہوئے احرام باندھا۔ اس کے ساتھ عمرہ نہیں کرنا تھا۔ عطاءنے کہا: حضرت جابرؓ کہتے تھے: نبی ﷺ ذوالحج کی چوتھی رات کی صبح کو ( مکہ میں) پہنچے اور جب ہم وہاں پہنچے تو نبی ﷺ نے ہمیں احرام کھولنے کا کہا۔ فرمایا: احرام کھول دو اور تم ازدواجی تعلق قائم کر سکتے ہو۔ عطاء نے کہا: حضرت جابرؓ کہتے تھے: اور ان کو تاکیدی حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کے لئے عورتوں سے تعلق قائم کرنا جائز قرار دیا تھا۔ پھر آپؐ کو یہ خبر پہنچی کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں۔ جب ہمارے اور عرفات کے درمیان صرف پانچ راتیں ہی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ عورتیں ہمارے لئے جائز ہیں تو ہم عرفات اس حالت میں جائیں گے کہ ہمارے ازدواجی تعلق کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہو گا۔ عطاء نے کہا: اور حضرت جابرؓ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے اور عطاء نے ہاتھ ہلایا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں بخوبی علم ہو چکا ہے کہ میں اللہ کی نافرمانی سے تم سے زیادہ بچنے والا ہوں اور تم سے زیادہ راستباز ہوں اور تم سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میں نے قربانی کے جانور آگے نہ بھیج دئیے ہوتے تو میں بھی اسی طرح احرام کھول دیتا جس طرح تم کھولو گے اس لئے تم احرام کھول ڈالو اور اگر میں اپنے معاملہ کو پہلے سے جان لیتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں قربانی نہ بھیجتا، تو ہم نے احرام کھول ڈالے اور آپؐ کا حکم سنا اور مان لیا۔