بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثنا میں کہ ہم مسجد میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا: یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم آپؐ کے ساتھ باہر گئے اور ان کے تورات پڑھانے کے مدرسہ میں پہنچے۔ نبی ﷺ وہاں کھڑے ہو گئے اور اُن کو پکار کر کہا: اے یہودیوں کی جماعت! اسلام قبول کر لو تم سلامتی میں رہو گے۔ انہوں نے کہا: ابوالقاسم! آپؐ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے اُن سے فرمایا: میں یہی چاہتا ہوں تم اسلام قبول کرلو، تم سلامتی میں رہو گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپؐ نے پہنچا دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اُن سے فرمایا: میں یہی چاہتا ہوں۔ پھر آپؐ نے تیسری بار یہ دُہرایا اور فرمایا: تم جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ پس میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس ملک سے نکالوں اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت چاہتا ہو تو وہ اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
(تشریح)اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا۔ ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن حضرت نوحؓ کو لایا جائے گا اور اُن سے پوچھا جائے گا کہ کیا پیغام دیا تھا؟ وہ کہیں گے ہاں اے میرے ربّ! (دیا تھا۔) پھر اُن کی اُمت سے پوچھا جائے گا: کیا انہوں نے تم کو پیغام پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تو اللہ فرمائے گا: تمہارے کون گواہ ہیں؟ وہ کہیں گے: محمد (ﷺ) اور اُن کی اُمت، پھر تمہیں لایا جائے گا اور تم شہادت دو گے۔ پھر رسول اللہ ﷺنے یہ آیت پڑھی: اوراسی طرح ہم نے تمہیں اعلیٰ درجہ کی اُمت بنایا ہے تاکہ تم (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو اور یہ رسول تم پر نگران ہو۔ (وَسَطًا کے معنی بیان کرتے ہوئے) کہا: یعنی عادل۔ اور جعفر بن عون سے مروی ہے کہ اعمش نے بھی ہم سے یہی بیان کیا۔ انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی سے، ان کے بھائی نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب کو یہ بیان کرتے سنا کہ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ، دونوں نے اُن کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی کے ایک انصاری شخص کو بھیجا اور آپؐ نے اس کو خیبر کا مُحَصِّل بنایا اور وہ عمدہ کھجور لایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا خبیر کی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بخدا نہیں۔ ہم ملی جلی کھجوروں کے دو صاع کے بدلہ میں ایک صاع خرید لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر ہی لیا دیا کرو یا اس کو بیچو اور اس کی قیمت سے اس کو خریدو اور اسی طرح ہر وہ چیز جو تولی جاتی ہے۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی سے، ان کے بھائی نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب کو یہ بیان کرتے سنا کہ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ، دونوں نے اُن کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی کے ایک انصاری شخص کو بھیجا اور آپؐ نے اس کو خیبر کا مُحَصِّل بنایا اور وہ عمدہ کھجور لایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا خبیر کی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بخدا نہیں۔ ہم ملی جلی کھجوروں کے دو صاع کے بدلہ میں ایک صاع خرید لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر ہی لیا دیا کرو یا اس کو بیچو اور اس کی قیمت سے اس کو خریدو اور اسی طرح ہر وہ چیز جو تولی جاتی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یزید مُقری مکی نے ہم سے بیان کیا کہ حیوہ بن شریح نے ہمیں بتایا۔ یزید بن عبداللہ بن ہاد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے، انہوں نے بُسر بن سعید سے، بُسر نے ابوقیس سے جو حضرت عمرو بن العاصؓ کے غلام تھے، ابوقیس نے حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے ہیں: جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ پوری طرح کوشش کرے پھر صحیح فیصلہ کو پہنچ جاوے تو اُس کو دو ثواب ہوں گے اور جب وہ فیصلہ کرے اور پوری پوری کوشش کرے پھر غلطی کر بیٹھے تو اس کو ایک ثواب ہوگا۔ (یزید بن عبداللہ) کہتے تھے: میں نے ابوبکر بن عمرو بن حزم سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے ایسے ہی بیان کیا اور عبدالعزیز بن مطلب نے بھی عبداللہ بن ابوبکر سے اسی طرح نقل کیا۔ عبداللہ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) عطاء نے مجھ سے بیان کیا۔ عطاء نے عبید بن عمیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰؓ نے حضرت عمرؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کو مشغول پایا تو وہ واپس لوٹ آئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا میں نے عبداللہ بن قیسؓ کی آواز نہیں سنی؟ انہیں اجازت دو۔ چنانچہ اُن کو بلا کر حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے تو حضرت عمرؓ نے پوچھا: تم نے جو کیا ہے، کس بات نے تم کو اس پر آمادہ کیا؟ تو حضرت عبداللہ بن قیسؓ نے کہا: ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس بات پر میرے پاس ثبوت لاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ تو وہ انصار کی ایک مجلس میں چلے گئے۔ انصار نے کہا: ہم میں سے جو چھوٹے ہیں وہ بھی شہادت دے سکتے ہیں۔ اس پر حضرت ابوسعید خدریؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: بے شک ہمیں یہی حکم دیا جاتا تھا تو حضرت عمرؓ کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر پوشیدہ رہا۔ بازاروں میں خرید وفروخت نے مجھے غافل رکھا۔
علی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اعرج سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہؓ نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: تم یہ خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی بہت باتیں سناتا ہے۔ سب نے اللہ کے پاس جانا ہے۔ میں ایک مسکین آدمی تھا، اپنا پیٹ بھر کر رسول اللہ ﷺ سے چمٹا رہتا تھا اور مہاجرين ایسے تھے کہ بازاروں میں ان کو خریدو فروخت مشغول رکھتی اور انصار جو تھے ان کی جائیدادوں کی نگرانی ان کو مشغول رکھتی۔ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا تو آپؐ نے فرمایا: جو شخص اپنی چادر اس وقت تک بچھائے رکھے گا جب تک میں اپنی بات ختم نہ کرلوں، پھر اس کو سمیٹ لے گا تو وہ کبھی کچھ نہیں بھولے گا جو اُس نے مجھ سے سنا ہو۔ (یہ سن کر) میں نے اپنی چادر بچھا دی جو مجھ پر ہوا کرتی تھی۔ اُس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، میں کبھی کچھ نہیں بھولا جو میں نے آپؐ سے سن لیا۔
(تشریح)حماد بن حُمَید نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن معاذ نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ کو دیکھا۔ وہ اللہ کی قسم کھاتے تھے کہ ابن صیاد ہی وہ دجال ہے۔ میں نے کہا: آپؓ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمرؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اِس بات پر قسم کھاتے سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار نہیں کیا۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے ابوصالح سمان سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے رکھنا تین طرح کا ہے۔ ایك شخص کے لئے ثواب، ایک شخص کے لئے پردہ پوشی اور ایك شخص پر وبال۔ وہ شخص جس کے لئے ثواب ہے تو وہ وہ شخص ہے جس نے اُن کو اللہ کی راہ میں باندھے رکھا اور مرغزار یا کسی باغ میں ان کی رسی کو لمبا کردیا تو وہ اُس رسی کے لمبائی میں اُس مرغزار یا باغ سے جہاں تک چریں وہ اُس کے لئے نیکیاں ہوں گی۔ اور اگر وہ رسی توڑا کر ایک یا دو میل تک چھلانگیں لگاتے ہوئے بھاگ بھی جائیں تو اُن کے قدموں کے نشان اور ان کی لید میں بھی اُس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی ندی پر سے گزریں اور وہاں سے (پانی) پی لیں اور وہ نہ چاہتا ہو کہ وہاں سے اُن کو پلائے تو یہ بھی اس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے ثواب ہیں۔ اور ایك شخص نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے اور مانگنے سے بچنے کی غرض سے ان کو باندھا اور اللہ کا وہ حق نہ بھولا جو اُن کی گردنوں اور ان کی پیٹھوں میں ہے تو یہ گھوڑے اس کيلئے پردہ پوشی کا موجب ہوں گے۔ اور ایك شخص نے ان کو فخر اور دکھلاوے کے لئے باندھا تو یہ اُس پر وبال ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ان کے متعلق مجھ پر اللہ نے سوائے اس بےنظیر جامع آیت کے اور کوئی وحی نازل نہیں کی۔ یعنی جو ذرہ بھر بھلائی کرے گا وہ اُس کو دیکھ لے گا اور جو ذرہ بھر بُرائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔
یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور بن صفیہ سے، منصور نے اپنی والدہ سے، اُن کی والدہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ نیز محمد نے جو عقبہ کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نمیری بصری نے ہمیں بتایا۔ منصور بن عبدالرحمٰن ابن شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ میری والدہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے فارغ ہونے کے بعد کیسے نہائے؟ آپؐ نے فرمایا: تم ایک کپڑا جس کو مُشک لگی ہو لو اور اُس کے ذریعے سے تم دھو کر صاف کرو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس سے کیسے صاف کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: دھو کر صاف کرو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس سے کیسے پاک صاف کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا:اس کے ذریعہ سے صاف ستھری ہوجاؤ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں وہ بات سمجھ گئی جو رسول اللہ ﷺچاہتے تھے تو میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کو سمجھا دیا۔