بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ زُہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ زُہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے ہمام سے، ہمام نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اے علماء کے گروہ! سیدھی راہ اختیار کرو، یقیناً تم مقابلہ کی دوڑ میں بہت آگے نکل جاؤ گے اور اگر تم نے دائیں اور بائیں (رستہ) کو اختیار کیا تو تم (سیدھے راستے سے) بہت دور جا پڑو گے۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا۔ ہلال بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میری اُمت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے میری فرمانبرداری کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے انکار ہی کیا۔
محمد بن عبادہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید نے ہمیں بتایا۔ سلیم بن حیان نے ہم سے بیان کیا۔ اور (یزید نے) ان کی تعریف کی۔ سعید بن میناء نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں بتایا۔ یا (کہا:) میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ملائکہ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سوئے ہوئے تھے تو اُن میں سے بعض نے کہا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آنکھ تو سوئی ہوئی ہے اور دل بیدار ہے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے تو (ایک نے) کہا: تم اس کی مثال بیان کرو۔ پھر بعض نے کہا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ آنکھ تو سوئی ہوئی ہے اور دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا: ان کی مثال اس شخص کی سی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دعوت تیار کی اور بلانے والے کو بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی اور گھر میں آگیا اور دعوت سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہ کی اور گھر میں نہ گیا اور دعوت نہ کھائی۔ پھر وہ فرشتے کہنے لگے: اس مثال کی حقیقت اُن کو بتا دو تا وہ اس کو سمجھ لیں۔ تو اُن میں سے کسی نے کہا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور کسی نے کہا کہ آنکھ تو سوئی ہوئی ہے اور دل بیدار ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ گھر جو ہے جنت ہے اور بلانے والے محمد ﷺ ہیں۔ جس نے محمد ﷺ کی فرمانبرداری کی تو اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور محمد ﷺ لوگوں کے درمیان (کھرے کھوٹے کا) فرق کرنے والے ہیں۔ (محمد بن عبادہ کی طرح) اس حدیث کو قتیبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ انہوں نے لیث سے، لیث نے خالد سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔
ابوکُرَیب نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ ابو اسامہ نے بُرَید سے، بُرَید نے ابو بُردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، حضرت ابو موسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میری مثال اور اس پیغام کی مثال جو اللہ نے مجھے دیکر بھیجا اُس شخص کی مثال کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر کو دیکھا اور میں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اس لئے اپنی جان بچانے کے لئے بھاگو، تو اُس قوم میں سے ایک گروہ نے اس کی بات مان لی اور وہ رات ہی کو اطمینان سے سنبھل کر نکل گئے اور بچ گئے اور ایک گروہ نے اس کو جھٹلایا۔ انہوں نے اپنی جگہوں پر ہی صبح کی۔ اس لشکر نے صبح کو اُن پر چھاپا مارا اور انہیں ہلاک کر دیا اور اُن کی بیخ کنی کردی۔ پس یہی مثال ہے اُن کی جو میری اطاعت کریں اور اس کی اتباع کریں جو میں لایا ہوں اور ان کی مثال جو میری نافرمانی کریں اور اُس کو جھٹلائیں جو میں حق میں سے لے کر آیا ہوں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے زُہری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی۔ عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے بعد خلیفہ بنائے گئے اور عرب میں سے جو منکر ہونے تھے منکر ہوگئے تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: آپؓ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ یہ اقرار نہ کرلیں کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ ہی اور جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا اُس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بچا لیا سوائے اس کے کہ کسی حق کے بدلے میں اس کو لیا جاوے اور اس کا حساب اللہ پرہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے (یہ سن کر) جواب دیا: اللہ کی قسم! میں تو اس شخص سے ضرور لڑوں گا جس نے نماز اور زکوٰة میں فرق کیا کیونکہ زکوٰة (اللہ کا) وہ حق ہے جو مال سے لیا جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر لوگوں نے وہ رسی کا بندھن بھی مجھ سے روکے رکھا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تب بھی میں اُن سے اس کے روکنے پر لڑوں گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! بات صرف یہی تھی کہ میں نے دیکھا، اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کے سینے کو لڑائی کیلئے کھول دیا تھا۔ پھر میں بھی سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔ابن بکیر اور عبداللہ نے لیث سے (بجائے عِقَال کے) عَنَاقًا نقل کیا۔ (یعنی بکری کا پلوٹھا) اور وہی زیادہ صحیح ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے زُہری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی۔ عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے بعد خلیفہ بنائے گئے اور عرب میں سے جو منکر ہونے تھے منکر ہوگئے تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا: آپؓ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ یہ اقرار نہ کرلیں کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ ہی اور جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا اُس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بچا لیا سوائے اس کے کہ کسی حق کے بدلے میں اس کو لیا جاوے اور اس کا حساب اللہ پرہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے (یہ سن کر) جواب دیا: اللہ کی قسم! میں تو اس شخص سے ضرور لڑوں گا جس نے نماز اور زکوٰة میں فرق کیا کیونکہ زکوٰة (اللہ کا) وہ حق ہے جو مال سے لیا جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر لوگوں نے وہ رسی کا بندھن بھی مجھ سے روکے رکھا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تب بھی میں اُن سے اس کے روکنے پر لڑوں گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! بات صرف یہی تھی کہ میں نے دیکھا، اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کے سینے کو لڑائی کیلئے کھول دیا تھا۔ پھر میں بھی سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔ابن بکیر اور عبداللہ نے لیث سے (بجائے عِقَال کے) عَنَاقًا نقل کیا۔ (یعنی بکری کا پلوٹھا) اور وہی زیادہ صحیح ہے۔
اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر مدینہ میں آئے اور اپنے بھتیجے حُرّ بن قیس بن حصن کے پاس ٹھہرے اور حُرّ اُن لوگوں میں سے تھے جنہیں حضرت عمرؓ اپنے قریب بٹھایا کرتے تھے اور علماء حضرت عمرؓ کی مجلس میں بیٹھنے والے اور اُن کو مشورہ دینے والے ہوتے تھے، بوڑھے ہوں یا جوان۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: میرے بھتیجے! کیا ان امیر(المؤمنین) کے پاس تمہاری کوئی وجاہت ہے کہ تم میرے لئے ان کے پاس آنے کی اجازت لے دو۔ حُرّ نے کہا: میں آپ کے لئے ان کے پاس آنے کی اجازت لے لوں گا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر حُرّ نے عیینہ کے لئے اجازت لی۔ جب عیینہ اندر آیا تو کہنے لگا: خطاب کے بیٹے! اللہ کی قسم نہ تو آپ ہمیں مال دیتے ہیں اور نہ آپ ہمارے درمیان انصاف کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض ہوئے یہاں تک کہ اس کو کچھ سزا دینے ہی لگے تھے کہ حُرّ نے کہا: امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے: (اے نبی! ہمیشہ) درگذر سے کام لے اور معروف باتوں کا حکم دے اور جاہل لوگوں سے اعراض کر۔ اور یہ جاہلوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! جب حُرّ نے حضرت عمرؓ کے سامنے یہ آیت پڑھی تو انہوں نے اس آیت سے تجاوز نہیں کیا اور وہ اللہ کی کتاب پر بالکل ٹھہر جایا کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے فاطمہ بنت منذر سے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب سورج گرہن ہوا میں حضرت عائشہؓ کے پاس آئی اور لوگ کھڑے تھے اور وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو حضرت عائشہؓ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ۔ میں نے کہا: کوئی نشان ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: جو چیز بھی میں نے نہیں دیکھی تھی اُس کو میں نے اپنے اس مقام میں دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی اور مجھے یہ وحی کی گئی کہ تمہیں قبروں میں تقریباً اسی طرح آزمایا جائے گا جتنا فتنہ دجال کے ذریعہ سے۔ پھر جو مومن ہوگا یا جو مسلمان ہوگا۔ (فاطمہ کہتی تھیں) میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماءؓ نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، تو وہ کہے گا: محمد (ﷺ) ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل لائے۔ ہم نے اُن کا کہنا مان لیا اور ایمان لائے تو کہا جائے گا: آرام سے سو رہو۔ ہم نے جان لیا کہ تم یقین کرنے والے ہو، اور جو منافق ہوگا یا شک کرنے والا ہوگا۔ (فاطمہ کہتی تھیں) میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماءؓ نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی کہہ دیا۔