بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی اور یہ کہہ کر آپؐ نے اسے اُتار دیا اور فرمایا: اب میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اُتار دیں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے زُہری سے، زہری نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: بغیر سحری کھانے کے مسلسل روزے نہ رکھو۔ صحابہ نے کہا: آپؐ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں، میں ایسی حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا بھی ہے اور مجھے پلاتا بھی ہے مگر وہ وصال کے روزے رکھنے سے باز نہ آئے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے دودن یا (کہا) دو راتیں بغیر افطار کے روزے رکھے۔ پھر لوگوں نے ہلال دیکھ لیا اور نبی ﷺ نے فرمایا: اگر ہلال دیر سے نکلتا تو میں تمہارے ساتھ اور روزے رکھتا، جیسے کہ آپؐ ان کو تنبیہ کر رہے تھے۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم تیمی نے مجھے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اینٹوں کے ایک ممبر پر کھڑے ہوکر ہم سے خطاب کیا۔ اور انہوں نے تلوار حمائل کی ہوئی تھی جس میں ایک کاغذ لٹکا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس اور کوئی کتاب نہیں جس کو پڑھاجاتا ہو سوائے اللہ کی کتاب کے اور سوائے اس کے جو اس کاغذ میں ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس کاغذ کو کھولا تو اس میں اونٹوں کی عمروں کا ذکر تھا۔ نیز اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ عیر سے لے کر فلاں جگہ تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی تو اُس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔ اللہ اس سے نہ نفل قبول کرے گا اور نہ فرض اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہی ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک ادنیٰ شخص بھی اس کے متعلق کوشش کر سکتا ہے۔ سو جس نے مسلمان کے عہد کو توڑا تو اُ س پر بھی اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اللہ اس سے نہ کوئی فرض قبول کرے گا نہ نفل۔ اس میں یہ بھی تھا جس نے اپنے موالی کی اجازت کے بغیر کسی اور قوم سے تعلق استوار کیا تو اُس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اللہ اس سے نہ کوئی نفل قبول کرے گا نہ فرض۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ مسلم نے ہمیں بتایا۔مسلم نے مسروق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمل کیا جس کے متعلق آپؐ نے اجازت دی تھی اور کچھ لوگوں نے اس سے پرہیز کیا تو یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپؐ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا: ان لوگوں کی کیا حالت ہے کہ جو ایسے کام سے اپنے آپ کو بالا سمجھتے ہیں جس کو میں کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سے بڑھ کر جانتا ہوں اور ان سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع بن عمر سے، نافع نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: قریب تھا کہ دو بہترین آدمی ہلاک ہو جاتے، یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ۔ جب بنو تمیم کے نمائندے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس تمیمی حنظلی کے متعلق مشورہ دیا، جو بنو مجاشع میں سے تھا اور دوسرے نے اس کے سوا کسی اور کے متعلق مشورہ دیا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: بس آپؓ تو مجھ سے اختلاف کرنا چاہتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آپؓ کی مخالفت کا میں نے ارادہ نہیں کیا۔ اس پر ان دونوں کی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلند ہوئیں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ…۔ ابن ابی ملیکہ کہتے تھے: حضرت ابن زبیرؓ نے کہا: اس کے بعد حضرت عمرؓ کی یہ عادت تھی اور انہوں نے اپنے نانا حضرت ابوبکرؓ کے متعلق یہ ذکر نہیں کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات کرتے تو وہ آپؐ سے اتنی آہستہ بات کرتے جیسے کہ کوئی راز کی بات کررہا ہے۔ اتنی کہ آپؐ کو اُن کی بات سنائی نہ دیتی یہاں تک کہ آپؐ حضرت عمرؓ سے دریافت فرماتے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے کہا: ابوبکرؓ جب آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے اس لئے حضرت عمرؓ سے فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے حضرت حفصہؓ سے کہا: تم کہو کہ ابوبکرؓ جب آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے اس لئے حضرت عمرؓ سے فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت حفصہؓ نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف والی عورتیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں۔ حضرت حفصہؓ حضرت عائشہؓ سے کہنے لگیں: میں کبھی بھی ایسی نہ ہوئی کہ تم سے کوئی بھلائی پاؤں۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ زہری نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عویمر عجلانیؓ عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہنے لگے: بھلا بتاؤ تو سہی کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو پائے اور وہ اس کو مار ڈالے تو کیا تم اس کو اس شخص کے بدلے میں مار ڈالو گے؟ عاصمؓ رسول اللہ ﷺ سے مجھے یہ پوچھ دو۔ تو انہوں نے آپؐ سے پوچھا تو نبی ﷺ نے ان سوالوں کو بُرا منایا اور معیوب گردانا۔ یہ دیکھ کر عاصمؓ لوٹ آئے اور عویمرؓ کو بتایا کہ نبی ﷺ نے ایسے سوالات کو ناپسند کیا ہے۔ عویمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو نبی ﷺ کے پاس ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ وہ آئے اور اللہ تعالیٰ نے عاصمؓ کے جانے کے بعد قرآن نازل کردیا تھا تو آپؐ نے اس سے فرمایا: اللہ نے تمہارے متعلق قرآن نازل کردیا ہے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں (میاں بیوی) کو بلا یا اور وہ آگے بڑھے اور انہوں نے آپس میں لعان کیا۔ پھر اس کے بعد عویمرؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا تو میں نے اس کے متعلق جھوٹ کہا۔ یہ کہہ کر عویمرؓ اس سے جدا ہو گئے حالانکہ نبی ﷺ نے اس سے علیحدگی کا انہیں حکم نہیں دیا تھا۔ آخر لعان کرنے والوں کے متعلق یہی طریقہ جاری ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو دیکھتے رہو، اگر تو وہ سرخ رنگ کا پست قد بچہ جنی جیسے چھوٹا گرگٹ ہوتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس شخص نے جھوٹ بولا اور اگر وہ سانولے رنگ کا بڑی آنکھوں والا بڑے سرینوں والا جنی تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق سچ کہا ہے۔ آخر وہ اسی مکروہ حلیہ کے مطابق جنی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مالک بن اوس نصری نے مجھے بتایا اور محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے اس کا کچھ ذکر کیا تھا (جو سن کر) میں مالک کے پاس گیا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں چل پڑا اور حضرت عمرؓ کے پاس اندر گیا۔ اتنے میں ان کا دربان یرفا ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپؓ حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن زبیرؓ اور حضرت سعدؓ کو ملنا چاہیں گے وہ اجازت مانگ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ وہ اندر آئے اور انہوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر یرفا نے کہا: کیا آپؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو ملنا چاہیں گے؟ تو حضرت عمرؓ نے ان دونوں کو اجازت دی۔ حضرت عباسؓ نے کہا: امیر المومنین! میرے اور اس ظالم کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہا تو وہ لوگ (یعنی ) حضرت عثمانؓ اور ان کے ساتھی کہنے لگے: امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیں اور ایک کو دوسرے سے چھٹکارا دلائیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ میں تم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اس سے مراد اپنی ذات تھی۔ اس جماعت نے کہا: بے شک آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں تم دونوں سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا تھا؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اب میں اس معاملے کی حقیقت تم سے بیان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال میں اپنے رسول ﷺ کے لئے کچھ حصہ مخصوص کر دیا تھا جو اس نے آپؐ کے سوا اور کسی کو نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ۔ تو یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص کر تھا۔ پھر اللہ کی قسم آپؐ نے تمہیں چھوڑ کر اس کو اپنے لئے سنبھال نہیں رکھا اور نہ ہی اس میں تم پر اپنے آپ کو مقدم کیا اور تمہیں بھی یہ مال دیا اور تمہارے درمیان اس کو فراخ دلی سے تقسیم کیا۔ آخر اس میں سے یہ جائیداد باقی رہی اور اس جائیداد سے نبی ﷺ اپنے گھر والوں کو ان کے ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا وہ لے کر آپؐ اس کو وہاں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال خرچ کیا جاتا ہے۔ نبی ﷺ اپنی زندگی میں اس پر عمل درآمد کرتے رہے۔ میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم یہ جانتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اس کے بعد اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات دی اور حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں اور حضرت ابوبکرؓ نے اس جائیداد کو اپنے قبضے میں لیا اور اس میں وہی تصرف کیا جو رسول اللہ ﷺ اس میں کیا کرتے تھے اور اس وقت تم دونوں، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف آپؓ متوجہ ہوئے، یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ اس جائیداد کے معاملہ میں ایسے ایسے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس میں سچے نیک راہ راست پر چلنے والے حق کے پیرو تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کا ولی ہوں۔ میں نے اس جائیداد کو دو سال تک اپنے قبضہ میں رکھا، اس میں وہی تصرف کرتا تھا جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کرتے رہے پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں کی بات ایک ہی بات تھی اور تمہارا آپس میں اتفاق تھا۔ عباسؓ! تم میرے پاس آئے مجھ سے اپنا وہ حصہ مانگنے لگے جو تمہیں اپنے بھتیجے کی طرف سے پہنچتا تھا اور یہ میرے پاس آئے مجھ سے اپنی بیوی کا حصہ مانگنے لگے جو اس کو اس کے باپ کی طرف سے پہنچتا تھا۔ میں نے کہا: اگر تم دونوں یہ چاہو تو میں یہ جائیداد تم دونوں کے سپرد کئے دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم دونوں پر اللہ کا عہد اور اس کا پختہ پیمان ہوگا کہ تم دونوں اس جائیداد میں وہی تصرف کرو گے جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور جو تصرف اس میں حضرت ابوبکرؓ نے کیا اور جو تصرف میں نے اس وقت سے کیا جب سے میں اس کا نگران ہوا، ورنہ تم اس کے متعلق مجھ سے بات نہ کرو تو تم دونوں نے کہا: اس شرط پر آپ ہمارے حوالے کردیں چنانچہ میں نے اس شرط پر یہ جائیداد تم دونوں کے حوالے کردی۔ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں نے یہ جائیداد اس شرط پر ان دونوں کے حوالے کی تھی؟ اس جماعت نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں تم دونوں سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا میں نے یہ جائیداد تمہارے حوالے اس شرط پر کی تھی؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ اس ذات کی قسم! جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں، اس کے سوا کوئی اور فیصلہ میں اس کے متعلق نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ گھڑی بھی برپا ہوجائے۔ اگر تم دونوں اس جائیداد کے انتظام سے عاجز آگئے ہو تو اس کو میرے سپرد کردو، میں تمہاری جگہ اس کا انتظام کر لوں گا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس جگہ سے لے کر اس جگہ تک اس میں درخت نہ کاٹا جائے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت جاری کی اُس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ عاصم کہتے تھے: موسیٰ بن انس نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا: یا کسی بدعتی کو پناہ دے۔
(تشریح)سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمٰن بن شریح وغیرہ نے مجھ سے بیان کیا۔ ان سب نے ابوالاسود سے، ابوالاسود نے عروہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو (بن عاصؓ) حج کو گئے۔ ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ علم کو تمہیں دینے کے بعد یونہی جھپٹا مار کر نہیں چھین لیتا بلکہ علماء کو مع علم اُٹھا کر اس کو لوگوں سے چھینتا ہے۔ پھر جاہل لوگ رہ جاتے ہیں۔ اُن سے فتویٰ پوچھا جائے تو اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں۔ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے یہ بیان کیا۔ پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمروؓ حج کو آئے تو حضرت عائشہؓ نے کہا: میرے بھانجے! عبداللہؓ کے پاس چلو اور وہ حدیث جو تم نے مجھے اُن سے روایت کرتے ہوئے بتائی تھی وہ مجھے اُن سے ٹھیک ٹھیک پوچھ دو تو میں ان کے پاس آیا اور اُن سے پوچھا تو انہوں نے اس حدیث کو مجھ سے اس طرح بیان کیا جس طرح انہوں نے پہلے مجھ سے بیان کیا تھا۔ پھر میں حضرت عائشہؓ کے پاس آیا اور اُن کو (وہ حدیث) بتائی تو حضرت عائشہؓ نے تعجب کیا اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! عبداللہ بن عمروؓ نے خوب یاد رکھا۔