بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کہ ابوحمزہ نے ہمیں بتایا کہ میں نے اعمش سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ صفین میں موجود تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور میں نے حضرت سہل بن حنیفؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ نیز موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت سہل بن حنیفؓ کہتے تھے: اے لوگو! اپنے دین کے مقابل میں اپنی ہر رائے کو غلط سمجھا کرو۔میں اپنے تئیں اُس دن دیکھ چکا ہوں جس دن ابوجندلؓ آیا تھا اور اگر میں رسول اللہ (ﷺ) کی بات کو ردّ کر سکتا تو میں ضرور اس کو ردّ کرتا۔ ہم نے جب بھی کسی ایسی مہم کے لئے کہ جس نے ہمیں اچانک گھبرا دیا ہو اپنے کندھوں پر اپنی تلواریں رکھیں تو ضرور ہی اُن تلواروں نے ہمیں اس نتیجہ تک آسانی سے پہنچا دیا جس کو ہم خوب سمجھتے تھے سوائے اس مہم کے۔ (اعمش نے) کہا: ابووائل کہتے تھے: میں صفین میں موجود تھا اور کیا ہی بُری تھی صفین (کی لڑائی)۔
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے، حضرت مغیرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا یہاں تک اللہ کا حکم اُن کو ایسی حالت میں پہنچے گا کہ وہ غالب ہی ہوں گے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن منکدر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ کہتے تھے: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ میری عیادت کو میرے پاس آئے اور وہ دونوں پیدل چل کر آئے اور ایسے وقت میں وہ میرے پاس پہنچے کہ مجھ پر غشی طاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا جس سے میں ہوش میں آگیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور کبھی سفیان نے یوں کہا: میں نے کہا: اے رسول اللہ! میں اپنی جائیداد کے متعلق کیسے فیصلہ کروں؟ میں اپنی جائیداد کو کیا کروں؟ کہتے تھے: آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن اصبہانی سے، عبدالرحمٰن نے ابوصالح ذکوان سے، ابوصالح نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! مرد تو آپؐ کی ساری باتیں لے گئے۔ ہمارے لئے بھی آپؐ اپنی ذات سے کچھ حصہ ایسے دن رکھیں کہ جس میں ہم آپؐ کے پاس آیا کریں، جو باتیں اللہ نے آپؐ کو سکھائی ہیں وہ ہمیں سکھائیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ پر تم سب اکٹھی ہو۔ چنانچہ وہ اکٹھی ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے اور آپؐ نے ان کو بھی وہ باتیں سکھائیں جو اللہ نے آپؐ کو سکھائی تھیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تم میں سے جو عورت بھی اپنے تین بچے اپنے آگے بھیجے گی تو وہ اُس کے لئے آگ سے بچاؤ کا موجب ہوں گے۔ اُن میں سے ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! دو ہوں۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: اس نے اس لفظ کو دُہرایا آپؐ نے فرمایا: اور دو بھی اور دو اور دو بھی۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حُمید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے سنا۔ وہ تقریر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُس کو دین کی سمجھ دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ دیتا ہے اور اس اُمت کی حالت اس وقت تک کہ وہ گھڑی برپا ہو یا (فرمایا:) اس وقت تک کہ اللہ عزوجل کا حکم آجائے درست رہے گی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو دینار نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الفاظ نازل ہوئے: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ۔ تو آپؐ نے کہا: میں تیرے منہ کی پناہ لیتا ہوں۔ (جب یہ الفاظ نازل ہوئے) اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ۔ تو کہا: میں تیرے منہ کی پناہ لیتا ہوں۔ جب یہ الفاظ نازل ہوئے: اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّ يُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ تو آپؐ نے فرمایا: یہ دونوں باتیں ہلکی ہیں یا فرمایا: آسان ہیں۔
(تشریح)اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا:میری بیوی نے ایک سیاہ فام لڑکا جنا ہے اورمیں نے انکار کردیا ہے کہ وہ میرا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایاکہ کیا تمہارے کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اُن کا کیا رنگ ہے؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اُن میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: اس میں خاکی رنگ کے بھی ہیں۔ فرمایا: بتاؤ یہ رنگ کہاں سے اُن میں آیا؟ کہنے لگا: یا رسول اللہ! کوئی رَگ ہے جس نے ان کو اپنے ہم رنگ کر لیا ہے، آپؐ نے فرمایا: شاید یہ بھی کوئی رَگ ہو جس نے اس بچے کو اپنے ہم شکل کرلیا ہو اور آپؐ نے اُس کو اجازت نہ دی کہ اُس بچے سے انکار کرے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہنے لگی: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر حج کرنے سے پہلے وہ مرگئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج کرلو۔ بھلا بتاؤ تو سہی اگر تمہاری ماں کے ذمے کچھ قرض ہو تو کیا تم اسے چکاؤ گی؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر جو اللہ کا ہے وہ بھی تم چکاؤ کیونکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جاوے۔
شہاب بن عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن حُمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک نہیں ہونا چاہیئے مگر دو شخصوں پر ہی۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور حق میں اس مال کے خرچ کرنے کی اس کو توفیق دی گئی ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت دی ہو اور وہ اُس سے فیصلہ کرتا ہے اور اس کو سکھاتا ہے۔
محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی کہ حضرت مغیرہؓ نے کہا: حضرت عمر بن خطابؓ نے عورت کے جنین کے گرائے جانے کے متعلق پوچھاکہ جس کو پیٹ پر مارا جاوے اور وہ بچہ گرا دے۔ آپؓ نے فرمایا: تم میں سے کسی نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق کچھ سنا؟ میں نے کہا: میں نے سنا ہے تو انہوں نے کہا: کیا سنا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک بردہ دینا ہوگا، غلام ہو یا لونڈی، حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم جاؤ گے نہیں جب تک کہ جو تم نے کہا ہے اُس کے متعلق نکلنے کی راہ میرے پاس نہیں لاتے۔