بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ( انہوں نے کہا:) ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایاکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں۔ جیسے چوپائے جانور صحیح سالم چوپائے جانور جنتے ہیں۔ کیا تم ان میں کن کٹا پاتے ہو؟ (یہ حدیث بیان کرکے) حضرت ابوہریرہؓ یہ آیت پڑھتے یعنی اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں چاہیے۔ یہی صحیح دین ہے۔
(تشریح)اور حجاج بن منہال نے کہا : جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ حسن سے مروی ہے کہ( انہوں نے کہا:) حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے اسی مسجد (بصرہ) میں ہم سے بیان کیا اور ہم یہ نہیں بھولے اور نہ ہمیں اندیشہ ہے کہ حضرت جندبؓ نبی
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہم سے شعیب نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے آپ کو گلاگھونٹ کر مارتا ہے۔ وہ آگ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا۔ جو اپنے آپ کو زخمی کر کے مارتا ہے وہ آگ میں بھی اپنے آپ کو زخمی کرکے مارتا رہے گا۔
اسحق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا۔جب ابوطالب فوت ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے کہا: چچا اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ ایسا اقرار ہوگا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کے لئے اس کی شہادت دوں گا۔ تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کروگے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اُن کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں وہی بات کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ابوطالب نے آخری بات جو اُن سے کی وہ یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے ہی دین پر قائم رہیں گے اور انہوں نے لَاا ِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے سے انکار کیا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اللہ کی قسم! میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میں اس سے روک نہ دیا جائوں۔ چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی ۔ مَاکَان لِلنَّبِیِّ...
(تشریح)یحيٰ (بن جعفر بیکندی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں تو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان میں سے ایک جو ہے تو وہ پیشاب سے بچائو نہیں کرتا تھا اورجو دوسرا ہے وہ چغلی کھاتا تھا۔ پھر آپؐ نے کھجور کی تازہ شاخ لی اور چیر کر دوٹکڑے کئے ۔ پھر ہرقبر پرایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ نے یہ کیوں کیا؟ آپؐ نے فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ شاخیں سوکھیں ان سے (عذا ب میں )تخفیف کی جائے ۔
(تشریح)عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: جریر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن حبیب) سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ آپؐ بیٹھ گئے اور ہم آپؐ کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپؐ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپؐ نے سر جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں یا فرمایا: کوئی ایسی زندہ جان نہیں مگر اس کا ٹھکانہ جنت اور آگ میں مقرر ہوچکا ہے اور اس کے لئے فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ بد بخت ہے یا نیک بخت ۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے اس نوشتہ پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل چھوڑ دیں؟ کیونکہ ہم میں سے جو نیک بختوں میں سے ہوگاتو وہ ضرورنیک بختوں کے کام کی طرف رجوع کرے گا اور ہم میں سے جو بدبختوں میں سے ہوگا وہ بدبختوں کے کام کی طرف جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: جو نیک بخت ہیں، انہیں نیکی کرنے کی سہولتیں دی جائیں گی اور جو بدبخت ہیں انہیں بدی کرنے کی سہولتیں دی جائیں گی۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی...
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس سے، حضرت ابن عباس نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب عبداللہ بن ابی بن سلول مرگیا تو رسول اللہ ﷺ کو بلایا گیا کہ آپؐ اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں آپؐ کی طرف لپکا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ ابن اُبی کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں اور اس نے تو فلاں دن یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ بات کہی تھی۔ میں اس کے خلاف اس کی باتیں گننے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: عمرؓ ہٹ جائو۔ جب میں نے آپؐ سے بہت اصرار کیا تو آپؐ نے فرمایا: مجھے تو اختیار دیا گیا ہے۔ سومیں نے اختیار کرلیا ہے اور اگر میں یہ جانوں کہ میں ستر بار سے زیادہ اس کے لئے دعائے مغفرت کروں اور وہ بخشا جائے گا تو میں ضرور اس سے بھی زیادہ کروں۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: چنانچہ رسول اللہ ﷺنے اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر آپؐ لوٹ آئے اور تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ سورئہ برآء ۃ کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں یعنی تو ان میں سے کسی کی بھی جو مرجائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھ اور تو اس کی قبر پر بھی کھڑا نہ ہو کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ ایسی حالت میں مر گئے کہ وہ بد عہد تھے۔ (حضرت عمرؓ) کہتے تھے: اس کے بعد میں نے اپنی جسارت پرتعجب کیا جو میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دکھائی تھی اور اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عبدالعزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: لوگ ایک جنازے کے پاس سے گذرے اور انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ پھر ایک اور جنازے کے پاس سے گذرے۔ انہوں نے اس کی مذمت کی۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ حضرت عمربن خطّاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپؐ نے فرمایا: جس کی تم نے اچھی تعریف کی، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے مذمت کی ہے، اس کے لئے آگ واجب ہوگئی ۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
عفان بن مسلم (جو صفّار ہیں) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) دائود بن ابی فرات نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے ابوالاسود سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ میں آیا اور وہاں بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو اس جنازے والے کی اچھی تعریف کی گئی۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ ایک اور جنازہ گذرا اس کی بھی اچھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ ایک تیسرا جنازہ گذرا۔ اس کی مذمت ہوئی۔( حضرت عمرؓ) نے کہا: واجب ہوگئی۔ ابوالاسود کہتے تھے: میں نے کہا: یا امیرالمومنین! کیا چیز واجب ہوگئی؟ کہنے لگے: میں نے وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاتھا۔ جس مسلمان کی بھی چار مسلمان اچھی شہادت دے دیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ ہم نے کہا: اگر تین گواہی دیں ؟ آپؐ نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے کہا: اگر دو گواہی دیں؟ آپؐ نے فرمایا: دو بھی ۔ پھر ہم نے آپؐ سے ایک کی شہادت کے بارے میں نہیں پوچھا۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، علقمہ نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے، حضرت برائؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب مومن کو اس کی قبرمیں بٹھا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس (آنے والے) آتے ہیں۔ پھر وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور یہی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو مومن ہیں مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا کی زندگی اور آخرت میں مضبوطی سے قائم رکھتا ہے۔ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہم سے یہی بیان کیا اور اسے اتنا بڑھایا: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قبر کے عذاب کی نسبت نازل ہوئی۔