بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 158 hadith
علی بن عبداللہ مدینی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھے بتایا۔ صالح( بن کیسان )سے مروی ہے کہ نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت (عبداللہ )بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیب(کنوئیں) والوں کو اوپر سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تمہارے ربّ نے (تم سے) جو وعدہ کیا تھا؛ کیا تم نے اسے سچا پالیا؟ آپؐ سے کہا گیا: کیا۱؎ آپؐ ان مردوں کو پکارتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ، البتہ وہ جواب نہیں دیتے۔
معلّی (بن اسد) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: خالد بن سعید بن عاص کی بیٹی (حضرت امّ خالدؓ) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے نبی ﷺسے سنا کہ آپؐ قبر کے عذاب سے پناہ مانگ رہے تھے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ (عثمان) نے مجھے بتایا۔ شعبہ سے مروی ہے کہ (انہوں نے کہا:) میں نے اشعث سے سنا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور اس نے قبر کے عذاب کا ذکر کیا اور ان سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے بچائے رکھے۔ حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کی نسبت پوچھا توآپؐ نے فرمایا: ہاں عذاب قبر (ضرور) ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کو ئی نماز پڑھی ہو اور (اس میں) عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ غندر نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا: عذاب قبر حق ہے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) (عبداللہ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوںنے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہاسے سنا۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور آپؐ نے قبر کے اس امتحان کا ذکر کیا، جس میں آدمی پر کھا جاتا ہے۔ جب آپؐ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے گھبرا کر (آہ و بکاسے) شور بپا کردیا۔
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت انس ؓنے ان سے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے لوٹ جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز بھی سنتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھادیتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس شخص محمدؐ کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ پس جو مومن ہے وہ کہے گا: میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں تو اس سے کہا جائے گا: آگ میں اپنا ٹھکانا دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے اس کی جگہ جنت میں ٹھکانابنا دیا ہے۔ تو وہ ان دونوں کو ہی اکٹھا دیکھے گا۔ قتادہ نے کہا : اور ہم سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں اس کے لئے کشادگی کر دی جائے گی۔ پھر قتادہ نے حضرت انسؓ کی یہ حدیث بیان کرنا شروع کی۔ کہا: لیکن جو منافق یا کافر ہے۔ اس سے پوچھا جائے گا: اس شخص (محمدؐ) کی نسبت تمہارا کیا اعتقاد تھا؟ تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا ۔ میں وہی کچھ کہتا تھا ، جو لوگ کہتے تھے۔ تو اُس سے کہا جائے گا: نہ توخود سمجھا اور نہ تو نے (سمجھنے والے کی) پیروی کی اور اس پر لوہے کے گرزوں کی مار پڑے گی اور وہ زور سے چلائے گا۔ جو بھی اس کے آس پاس ہوں گے سوائے آدمیوں اور جنوں کے سب سنیں گے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا،کہا: عون بن ابی جحُیفہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے،ان کے باپ نے حضرت براء بن عازبؓ سے، حضرت برائؓ نے حضرت ابو ایوب (انصاری) رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے۔ سورج غروب ہوچکا تھا۔ آپؐ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: یہود ہیں۔ انہیں قبروں میں سزا دی جارہی ہے۔ اور نضر (بن شمیل) نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عون نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے اپنے باپ (ابو جحُیفہ) سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت برائؓ سے سنا۔ حضرت براء نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہما سے ، حضرت ابوایوب ؓ نے نبی ﷺسے روایت کی۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے۔ آپؐ نے فرمایا: ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: البتہ ان میںسے ایک جوہے تو وہ غیبت کرتا پھرتا تھا اور دوسرا جو ہے، وہ پیشاب سے بچائو نہیں کرتا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: پھر آپؐ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو ٹکڑے کئے۔ پھر اُن میں سے ہر ایک ٹکڑے کو ہر ایک قبر پر گاڑ دیا۔ پھر فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ سوکھیں نہیں اُن کے عذاب میں تخفیف کی جائے ۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ (جنت یا دوزخ والا) اس کے سامنے پیش کرکے اسے دکھایا جاتا ہے۔ اگر جنتیوں میں سے ہوا تو جنتیوں میں اور اگر دوزخیوں میں سے ہوا تو دوزخیوں میں اور اسے کہا جاتا ہے: یہ ہے تیرا ٹھکانہ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے دن اُٹھائے ۔