بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ اس سے آگے کوئی اونٹ نہیں نکل سکتا تھا۔ حُمَید کہتے یا (یوں کہا کہ) ممکن نہ تھا کہ کوئی اونٹ اس سے آگے نکل سکے۔ ایک بدوی (نوجوان) اونٹ پر سوار آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں پر یہ شاق گذرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہچان گئے۔ آپؐ نے فرمایا:اللہ یہ ضرور کرتا ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے اسے (کبھی نہ کبھی) ضرور ہی نیچا دکھاتا ہے۔ موسیٰ (بن عقبہ) نے یہ حدیث حماد سے روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے۔ حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے۔ طرفہُ: ۲۸۷۱۔ گدھے پر جنگ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سفید خچر حضرت انسؓ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اورحضرت ابوحمید (عبدالرحمن بن سعد ساعدیؓ) نے کہا: ایلہ کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفہ میں بھیجا۔
عمروبن علی نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابواسحق نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت عمرو بن حارثؓ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ترکہ نہیں چھوڑا سوائے اپنی سفید خچر کے اور اپنے چند ہتھیاروں کے اور کچھ زمین کے، وہ بھی آپؐ بطور صدقہ چھوڑ گئے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابواسحق نے مجھے بتایا کہ حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا: ابوعمارہ! حُنَین کی جنگ میں تم پیٹھ پھرکر چل دئیے تھے۔ انہوں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری۔ بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی۔ ہوازن نے ان کا تیروں سے مقابلہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید خچر پر سوار تھے۔ ابوسفیانؓ بن حارث اس کی لگام پکڑ ے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ (شعر) پڑھ رہے تھے: میں موعود نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں
(تشریح)ـ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معاویہ بن اسحق سے، معاویہ نے عائشہ بنت طلحہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کے لئے اجازت مانگی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے۔اور عبد اللہ بن ولید نے کہا کہ سفیان (ثوری) نے معاویہ سے یہی حدیث نقل کی۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملحان کی بیٹی (حضرت امّ حرامؓ) کے پاس گئے اور تکیہ لگا کر لیٹ گئے۔ پھر آپؐ ہنسے۔ (حضرت امّ حرامؓ) نے پوچھا: یارسول اللہ! آپؐ کیوں ہنستے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں اس سبز سمندر میں سوار ہو رہے ہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔ امّ حرامؓ نے کہا: یارسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرے۔ آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کو بھی ان میں شامل کر پھرآپؐ سو گئے اور ہنس پڑے۔ پھر امّ حرامؓ نے آپؐ سے اسی طرح کہا ،یا ایسا ہی کچھ پوچھا تو آپؐ نے ویسا ہی جواب دیا۔ امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو اوّلین میں سے ہو اور پچھلوں میں سے نہیں۔ (عبدا للہ نے) کہا: حضرت انسؓ کہتے تھے: امّ حرام نے عبادہ بن صامتؓ سے شادی کی اور وہ بنت قرظہ کے ساتھ سمندر میں سوار ہوئیں۔ جب وہ لوٹیں تو اپنے جانور پر سوار ہوئیں جس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس پر سے گریں پھر وہ فوت ہوگئیں۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملحان کی بیٹی (حضرت امّ حرامؓ) کے پاس گئے اور تکیہ لگا کر لیٹ گئے۔ پھر آپؐ ہنسے۔ (حضرت امّ حرامؓ) نے پوچھا: یارسول اللہ! آپؐ کیوں ہنستے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں اس سبز سمندر میں سوار ہو رہے ہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔ امّ حرامؓ نے کہا: یارسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرے۔ آپؐ نے دعا کی: اے اللہ! اس کو بھی ان میں شامل کر پھرآپؐ سو گئے اور ہنس پڑے۔ پھر امّ حرامؓ نے آپؐ سے اسی طرح کہا ،یا ایسا ہی کچھ پوچھا تو آپؐ نے ویسا ہی جواب دیا۔ امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو اوّلین میں سے ہو اور پچھلوں میں سے نہیں۔ (عبدا للہ نے) کہا: حضرت انسؓ کہتے تھے: امّ حرام نے عبادہ بن صامتؓ سے شادی کی اور وہ بنت قرظہ کے ساتھ سمندر میں سوار ہوئیں۔ جب وہ لوٹیں تو اپنے جانور پر سوار ہوئیں جس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس پر سے گریں پھر وہ فوت ہوگئیں۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا کہ یونس (بن یزید) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوںنے کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ زُہری نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے سنا۔ یہ سب حضرت عائشہؓ کی حدیث روایت کرتے تھے۔ ہر ایک نے مجھے اس حدیث کا کچھ نہ کچھ حصہ بتایا۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب (سفر پر) جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے ناموں کا قرعہ ڈالتے۔ پھر جس کا قرعہ نکلتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ ایک جنگ میں جو آپؐ نے کی ہمارے درمیان آپؐ نے قرعہ ڈالا۔ اس میں میرا نام نکلا۔ تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی۔ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد٭ کا ہے۔
ابومعمر نے ہمیںبتایا۔ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب اُحدکی جنگ ہوئی تو لوگ شکست کھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوگئے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ اور حضرت امّ سُلَیمؓ کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھا کہ ان دونوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھایا ہوا تھا۔ ان کی پازیبیں مجھے نظر آرہی تھیں۔ وہ مشکیں بھر بھر کر دے رہی تھیں اور دوسرے راوی نے کہا کہ اپنی پیٹھوں پر مشکیں لارہی تھیں۔ پھر وہ لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔ پھر واپس جاتی تھیں۔ پھر ان کو بھرتیں اور پھر آتی تھیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ }عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔٭{ یونس نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی بعض عورتوں کے درمیان اوڑھنیاں تقسیم کیں تو ایک عمدہ اوڑھنی بچ رہی۔ جو لوگ ان کے پاس تھے، ان میں سے کسی نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیٹی کو دے دیں جو آپؐ کے پاس ہیں۔ ان کی مراد اُمّ کلثوم بنت علی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: امّ سلیطؓ زیادہ حقدار ہیں اور امّ سلیطؓ ان انصاری عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اُحد کی جنگ میں مشکیں لاد لاد کر ہمارے پاس لاتی تھیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: تَزْفِرُ کے معنی ہیں تَخِیْطُ یعنی سیتی ہے۔ طرفہُ: ۴۰۷۱۔ جنگ میں عورتوں کا زخمیوں کا علاج معالجہ کرنا