بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ بشر بن مفضل نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن ذکوان نے ہمیں بتایا کہ ربیع بنت مُعَوِّذ سے مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم زخمیوں کو پانی پلاتیں اور ان کا علاج معالجہ کرتیں اور لاشوں کو مدینہ واپس لے جاتیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن ذکوان سے، خالد نے ربیع بنت مُعَوِّذ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے نکلتیں اور لوگوں کو پانی پلاتیں اور ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور مقتولوں کو مدینہ واپس لے جاتیں۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرَید بن عبداللہ سے، بُرَید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوعامرؓ کے گھٹنے میں تیر لگا۔ میں ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے کہا: اس تیر کو کھینچ کر نکال لو۔ چنانچہ میں نے اس کو کھینچ کر نکالا تو زخم سے پانی پھوٹ کر بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے آپؐ کو خبر دی۔ آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ! عُبَید ابوعامر کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اس کے گناہوں سے درگذر کر۔
اسماعیل بن خلیل نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں خبردی۔(انہوں نے کہا:) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جاگا کرتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ میں آئے تو آپؐ نے فرمایا: کاش کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی نیک شخص آج رات میرا پہرہ دے۔ اتنے میں ہم نے ہتھیار کی آواز سنی۔ آپؐ نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: سعد بن ابی وقاص ہوں۔ میں آپؐ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں۔ پھر نبی ﷺ سوگئے۔ طرفہُ: ۷۲۳۱۔
یحيٰ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحصین سے، ابوحصین نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا ہی بد بخت ہے درہم و دینار کا بندہ اور چادر اور کمبل والا بندہ، اگر اسے دیا جائے تو خوش ہو اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش۔ اور اسرائیل (بن یونس) اور محمد بن جحادہ نے یہ حدیث (عثمان بن عاصم) ابوحصین سے مرفوعاً نہیں موقوف روایت کی۔
اور عمرو (ابن مرزوق) نے سند میں زیادہ ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے ہمیں خبردی کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔ انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بدبخت ہے درہم و دینار کا بندہ اور کمبل والا بندہ۔ اگر اسے دیا جائے تو خوش ہے اور نہ دیا جائے تو ناراض۔ بدنصیب ہوا اور خائب و خاسر ہوا اور اگر کسی کے کانٹا لگے تو نہ نکالے۔ خوش نصیب ہے وہ بندہ جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار رہے، سرپراگندہ ہو اور پائوں غبار آلودہ، اگر وہ پہرے پر مقرر ہو تو پہرہ دے رہا ہو اور اگر فوج کے پچھلے حصہ میں ہو تو پچھلے حصہ میں رہے۔ اگر وہ اندر آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ دی جائے۔ اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے یہ حدیث ابوحصین سے مرفوعاً روایت نہیں کی۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول فَتَعْسًا سے یہ مراد ہے کہ اللہ ان کو سرنگوں کردے۔ طُوْبٰی فُعْلٰی کا وزن ہے ۔ یعنی نہایت پاکیزہ ترین شئے جو خوش گوار ہو لفظ طِیْب کی یاء واؤ میں تبدیل کی گئی اوریہ طَابَ یَطِیْبُ سے مشتق ہے۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس بن عُبَید سے، یونس نے ثابت بُنانی سے، ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں جریر بن عبداللہ (بجلیؓ) کے ساتھ رہا ہوں۔ وہ میری خدمت کیا کرتے تھے۔ بحالیکہ وہ حضرت انسؓ سے بڑے تھے۔ جریرؓ کہتے تھے: میں نے انصار کو ایک بات کرتے دیکھا (یعنی تعظیم رسول اللہ ﷺ) میں جب بھی ان میں سے کسی کو پاتا ہوں تو ضرور تعظیم سے پیش آتا ہوں۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عمربن ابی عمرو سے جو کہ مُطَّلِب بن حَنْطَب کے آزاد کردہ غلام تھے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کو گیا۔ میں آپؐ کی خدمت کرتا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر مدینہ کے قریب پہنچے اور آپؐ کو سامنے سے اُحد پہاڑ دکھائی دیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہمیں پیارا ہے اور ہم اس کو پیارے ہیں پھر آپؐ نے مدینہ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا: اے میرے اللہ! اس (مدینہ) کے دو پتھریلے کناروں میں جو جگہ ہے میں اس کو حر م قرار دیتا ہوں جیسا کہ ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔ اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مُدّ میں برکت ڈال۔
سلیمان بن دائود ابوالربیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن زکریا سے روایت کی کہ عاصم نے انہیں بتایا۔ انہوں نے مُوَرِّق عِجْلی سے، مُوَرِّق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم (ایک سفر میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے اوپر سایہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ یوں کرلیتا کہ ایک کمبل اپنے سر پر تان لیتا اور جو لوگ روزے سے تھے انہوں نے کوئی کام نہ کیا اور جو روزے سے نہیں تھے انہوں نے سواریوں کو اُٹھا یا اور پانی پلایا اور کام کاج کیا اور خدمت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو روزے سے نہیں تھے وہ آج سارا ثواب لے گئے۔ اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اُٹھایا
اسحق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ہر دن ہرجوڑ کی ہڈی کے ذمہ صدقہ ہے۔ کوئی کسی آدمی کی اس کے جانور سے متعلق مددکرے یعنی اس کو اس پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اُٹھا کر اس پر رکھ دے یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات کہنا صدقہ ہے اور ہر قدم جو وہ نماز کے لئے اُٹھاتا ہے یہ بھی ایک صدقہ ہے اور راستہ بتانا بھی ایک صدقہ ہے۔