بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غُندر (محمد بن جعفر) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے قتادہ سے سنا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے یوں روایت کی کہ آپؐ نے اجازت دی یا اجازت دی گئی خارش کی وجہ سے جو ان دونوں کو تھی۔
اسحق بن محمد فروِی نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہودیوں سے لڑوگے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر پکار اُٹھے گا: اے اللہ کے بندے یہ ایک یہودی میرے٭ پیچھے ہے، اس کو بھی قتل کردے۔ طرفہُ: ۳۵۹۳۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے، جعفر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ شانے کا گوشت کھا رہے تھے اور آپؐ اسے چھری سے کاٹ رہے تھے۔ پھر نماز کے لئے آپؐ بلائے گئے۔ آپؐ نے نماز پڑھائی اور (باوضو ہونے کی وجہ سے) وضو نہیں کیا۔ ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی اور انہوں نے یہ زائد بیان کیا کہ (جب آپؐ نماز کیلئے بلائے گئے تو) آپؐ نے چھری رکھ دی۔
(تشریح)اسحق بن یزید دمشقی نے مجھے بتایا کہ یحيٰ بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ثوربن یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے خالد بن معدان سے روایت کی کہ عمیر بن اسود عنسی نے ان سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبادہ بن صامتؓ کے پاس آئے جبکہ وہ حمص میں ندی کے کنارے پر اُترے ہوئے تھے اور وہ اپنی ایک عمارت میں تھے اور ان کے ساتھ حضرت امّ حرامؓ تھیں۔ عمیر نے کہا: حضرت امّ حرامؓ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری امت میں سے پہلا لشکر جو سمندر میں جنگ کے لئے نکلے گا وہ ضرور بہشت میں داخل کیا جائے گا۔ حضرت امّ حرامؓ کہتی تھیں: میں نے پوچھا: یارسول اللہ! میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے پہلا لشکر جو قیصر کے ملک پر حملہ کرے گا ان کے تمام گناہ بخشے جائیں گے۔ میں نے پوچھا: یارسول اللہ! میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔
اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم یہود سے نہ لڑو گے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بھی پکار اُٹھے گا جس کے پیچھے یہودی ہوگا: اے مسلمان! یہ ایک یہودی میرے پیچھے ہے اسے بھی قتل کردے۔ ترکوں سے لڑائی کا ذکر
سعید بن محمد نے مجھے بتایا۔ یعقوب (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ صالح (بن کیسان) نے اَعرج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گھڑی نہیں آئے گی جب تک کہ تم ترکوں سے نہ لڑوگے جو چھوٹی آنکھوں والے، سرخ چہرے اور چھوٹی پھیلی ہوئی ناکوں والے ہیں۔ گویا ان کے منہ ڈھالیں ہیں جن پر تہہ بہ تہہ چمڑا منڈھا ہو۔ اور وہ گھڑی اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ تم ان لوگوں سے نہ لڑو جو بالوں کے جوتے پہنتے ہیں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: وہ گھڑی قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم سے نہ لڑو جن کی جوتیاں بالوں کی ہیں اور نہ وہ گھڑی اس وقت تک قائم ہوگی جب تک کہ تم اس قوم سے نہ لڑو کہ جن کے منہ گویا ڈھالیں ہیں جن پر چمڑا تہہ بہ تہہ ہو۔ سفیان نے کہا: اور ابوزناد نے اس حدیث میں اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اَور بڑھایا کہ وہ چھوٹی آنکھوں والے، چھوٹی پھیلی ہوئی ناکوں والے ہیں۔ گویا ان کے منہ ڈھالیں ہیں جن پر چمڑا تہہ بہ تہہ ہو۔
(تشریح)عمرو بن خالد نے ہمیں بتایا۔ زُہَیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت برائؓ سے سنا اور ان سے ایک شخص نے پوچھا تھا: ابوعمارہ! تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے۔ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پیٹھ نہیں پھیری۔ لیکن بات یہ تھی کہ آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ نوجوان اور ان میں سے وہ جن کے پاس سازوسامان نہ تھا (نہ سر پر خود، نہ بدن پر زِرہ)، نہ کوئی اور ہتھیار تھا ان کا ایسے لوگوں سے سامنا ہوا جو تیر انداز تھے۔ جن میں ہوازن اور بنو نصر دونوں قبیلے تھے۔ ان کا ایک تیر بھی خالی نہ جاتا تھا۔ انہوں نے ان پر تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ کسی کو بھی خالی نہ جانے دیا۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بھاگے) آئے۔ آپؐ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور آپؐ کے چچا کے بیٹے ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلبؓ اس کی لگام پکڑے لئے آرہے تھے۔ آپؐ نیچے اُترے اور نصرت کی دعا مانگی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالطلب کا بیٹا ہوں اس کے بعد آپؐ نے اپنے ساتھیوں کو صف بستہ کھڑا کیا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں خبردی۔ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد بن سیرین نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: غزوئہ احزاب کے موقع پر ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! ان کے گھراور ان کی قبریں آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز نہ پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔